عالم اسلام کو درپیش مشکلات اور مصائب
جب سے مغربی استکباری سازش کے نتیجے میں سعودی رژیم کی بنیاد ڈالی گئی ہے مسلمانان عالم آپس میں ٹکراو کا شکار ہیں
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۱۳ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۴۰
موضوع نمبر: 282293
 
اس سال حجاج کرام کے نام ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کا اسٹریٹجک پیغام انتہائی اہم نکات پر مشتمل تھا جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمانان عالم اور مذہبی و سیاسی شخصیات اسلامی دنیا میں عظیم مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اس پیغام میں عالم اسلام کی ترجیحات بیان کئے جانے کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف مغربی طاقتوں کی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ ان سازشوں میں دو بڑے شعبوں اخلاقی و روحانی اور سیاسی میں بدامنی پھیلانا بھی شامل ہے۔ 

اگر ہم خطے اور دنیا کی جدید تاریخ کے حالیہ چند عشروں کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ مغرب کی جانب سے تمام اسلام مخالف سازشوں کی بنیاد انہیں دو شعبوں میں بدامنی پھیلانے پر استوار رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی استکباری نظام کے حکومتی نظریات جن کی بنیاد مادہ پرستی (materialism) پر استوار ہے، روحانی تعلیمات پر استوار اسلام کی حاکمیت کو اپنے لئے بڑا سیکورٹی خطرہ تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے گذشتہ دو صدیوں سے عالمی استکباری قوتیں اسلامی دنیا کی اخلاقی اور سیکورٹی سلامتی کی نابودی کیلئے مسلسل وسیع پیمانے پر سازشیں کرتی آ رہی ہیں۔ 

ان وسیع سازشوں میں سے دو قسم کی سازشیں ان کیلئے انتہائی درجہ اہم ہیں اور بدقسمتی سے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں دو منحوس سازشوں سے پہنچا ہے۔ پہلی منحوس سازش بوڑھے استعمار برطانیہ کی جانب سے عالم اسلام کے مرکز میں آل سعود نامی رجعت پسند رژیم کی بنیاد رکھ کر انجام دی گئی۔ درحقیقت یہ رژیم عالم اسلام کو درپیش تمام مشکلات اور مصائب کی حقیقی مسبب ہے۔ قبائلی طرز پر سعودی حکومت کی تشکیل کا بنیادی مقصد حقیقی اسلام کی جعلی نقل پیش کر کے عالم اسلام میں دراڑ ڈالنا تھا۔ جعلی اسلام کا ایسا نسخہ جس کے آغاز سے ہی تمام اسلامی فرقے اس بات پر متفق نظر آتے تھے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ 

"وہابی اسلام" مغربی طاقتوں کے ہاتھ میں امت مسلمہ میں اختلاف ڈالنے کا بہترین ہتھیار تھا۔ اسلام دشمن قوتیں اختلاف اور فرقہ واریت کے ذریعے عالم اسلام کے اتحاد اور طاقت کو ختم کر دینا چاہتی تھیں تاکہ اس طرح اسلامی دنیا میں گھسنے اور کاری ضربیں لگانے کا زمینہ فراہم ہو سکے۔ جب سے مغربی استکباری سازش کے نتیجے میں سعودی رژیم کی بنیاد ڈالی گئی ہے مسلمانان عالم آپس میں ٹکراو کا شکار ہیں اور امت مسلمہ کو درپیش اصلی چیلنجز سے غافل ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں اجنبی قوتیں اسلامی دنیا میں قدم جمانے میں کامیاب رہی ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی وہابیت خود کو اسلام کے حقیقی اور اصیل نسخے کے طور پر متعارف کرواتی ہے اور اپنا طرز فکر پھیلانے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کوششوں کا نتیجہ تکفیری سوچ کی پیدائش کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ 

اپنے علاوہ باقی اسلامی فرقوں کو کافر قرار دیئے جانے کا کم از کم نقصان مختلف اسلامی فرقوں اور قومیتوں میں خصوصمت اور دشمنی ایجاد ہونا ہے۔ ایسی فضا میں جب حج کیلئے پوری دنیا سے مسلمان مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں تو آپس میں ہمدردیاں اور محبتیں بڑھنے اور عالم اسلام کو درپیش اصلی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے دلوں میں ایکدوسرے سے دوری اور تنفر پایا جائے گا۔

وہابیت کی کوکھ سے جنم لینے والے تکفیری طرز فکر کے نتیجے میں ہم آج تاریخ کے خون آلود ترین دور کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ آل سعود کے تربیت یافتہ تکفیری دہشت گرد مسلمانوں کے خون، مال اور ناموس کو مباح قرار دے کر عراق، شام، یمن وغیرہ میں انسان سوز ترین جرائم اور اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ پس جب مسلمان کشی پہلی ترجیح بن جائے تو عالم اسلام کے دیگر اہم مسائل جیسے فکری، ثقافتی اور اخلاقی ترقی خود بخود اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔ اس طرح مغربی استکباری قوتوں نے حجاز میں آل سعود رژیم کی بنیاد ڈال کر خطے میں بدامنی کا بیج بویا اور آج عالم اسلام میں پائی جانے والے تمام سیکورٹی مسائل کا نقطہ آغاز یہی منحوس رژیم ہے۔ 

استعماری قوتوں کی جانب سے عالم اسلام میں بدامنی پھیلانے کی دوسری بڑی سازش اسرائیل نامی غاصب صہیونی رژیم کا قیام تھا۔ اسلام دشمن قوتیں اسلامی دنیا میں قبلہ دوم قدس شریف کی اہمیت اور حیثیت سے اچھی طرح واقف تھیں لہذا انہوں نے مسلمانان عالم کے درمیان اس اتحاد و وحدت کی علامت کو اختلاف، تفرقہ اور انتشار کے مرکز میں تبدیل کرنے کی ٹھان لی۔ مغربی طاقتوں نے بیت المقدس میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی بنیاد ڈالنے کے بعد یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ اگر مسلمان امن اور آشتی چاہتے ہیں تو انہیں اس غاصب رژیم کو قبول کرنا ہو گا۔ جیسا کہ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے فرمایا ہے: "صیہونی دشمن عالم اسلام کے مرکز میں بیٹھ کر فتنہ انگیزی کر رہا ہے۔" اس فتنہ انگیزی کا واضح ثبوت اسرائیلی حکام کی جانب سے سعودی حکام سے دوستی کا ہاتھ ملانا ہے۔ 

اس بارے میں ایک قابل غور اور ساتھ ہی ساتھ انتہائی افسوسناک نکتہ یہ ہے کہ آج آل سعود رژیم کی پالیسیاں اور اقدامات غاصب صہیونی رژیم سے مکمل طور پر ہم آہنگ اور مشابہہ دکھائی دے رہے ہیں۔ خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک اقدامات، دہشت گرد گروہوں کی اعلانیہ اور ڈھکی چھپی حمایت، خودمختار ممالک کو توڑنے کی کوششیں، خطے کے مستقبل کیلئے خطرناک سازشوں کا جال بچھانا اور ایسے ہی دیگر امور اس ہم آہنگی اور مشابہت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی اور صیہونی قاتل رژیمیں یمن کے بیگناہ عوام کے قتل عام میں ایکدوسرے کی شریک ہیں، دہشت گرد عناصر کی حمایت اور پشت پناہی میں مصروف ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا مشترکہ دشمن قرار دے چکی ہیں اور اس بات کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں کہ قدس شریف اور غاصب صہیونی رژیم کے خلاف جدوجہد کو مسلمانوں کی پہلی ترجیح نہ بننے دیں۔ 

مختصر یہ کہ آل سعود رژیم اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم مغربی ایشیا میں اخلاقی اور سیاسی بدامنی پھیلانے پر مشتمل منحوس سازش کے دو اہم ستون ہیں جو ایکدوسرے کے کردار کی تکمیل کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف قومی و مذہبی اختلافات اور پراکسی وارز کی مدد سے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کے سب سے بڑے اور اصلی مسئلے سے ہٹا کر ایک جزئی اور جانبی مسئلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس طرح خطے کی سیاسی سیکورٹی کو بھی شدید خطرات سے روبرو کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف مغرب پرستی کے ذریعے مسلمان معاشروں میں اخلاقی اور روحانی زوال پیدا کرنا اور مسلمان کشی کو رائج کرنا بھی ان دو جعلی رژیموں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے جب ہم عالم اسلام کو درپیش مشکلات کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو اکثر بلکہ تمام مشکلات کے تانے بانے انہیں دو منحوس رژیموں سے جا ملتے ہیں۔ دوسری طرف اس بات کی امید رکھنا بھی بیہودہ ہے کہ سعودی رژیم اپنی ڈگر چھوڑ دے گی کیونکہ وہ سو فیصد استعماری طاقتوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے بھی یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ اس کی پالیسیوں میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی۔ 

مذکورہ بالا مطالب کی روشنی میں خطے میں ایسی حکومتوں اور حکمرانوں سے بھی عالم اسلام کی سیکورٹی کیلئے مثبت قدم اٹھائے جانے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو خود آل سعود رژیم اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے کٹھ پتلی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ: "تمام مسلمان خاص طور پر معروف مسلمان سیاسی، مذہبی و ثقافتی شخصیات موجودہ حساس حالات میں میدان عمل میں قدم رکھیں اور حج جیسے عظیم اور بے مثال موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کے فروغ اور ایکدوسرے کو قومی و مذہبی ٹکراو سے پرہیز کرنے کی ترغیب دلانے کیلئے پوری توانائیاں صرف کر دیں۔"

تحریر: حسین شیخ الاسلام
Share/Save/Bookmark