مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
مفتی صاحب نے نے اس مکتب کی ایسی خدمت کی کہ رہتی دنیا تک ان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی۔ موجودہ نسل کو ایسے بندگان خدا کی زندگیوں، ان کی ملی و مکت
مفتی جعفر حسین قبلہ انتہائی بے باک اور نڈر انسان تھے، حق گوئی و بے باکی ان کا وطیرہ اور شان تھی، آپ بے حد نڈر اور بے باک تھے، آپ صاف گو تھے اور کسی کو اندھیرے میں نہیں رکھتے تھے، اپنا ہر کام انتہائی جانفشانی اور لگن و محنت سے کرتے تھے، آپ دیانت و صداقت کی چلتی پھرتی تصویر تھے، آپکی تمام زندگی انتہائی سادگی اور تصنع و بناوٹ سے بہت دور رہ کر گذری، انکی سادگی کی ان گنت مثالیں آج بھی بچے بچے کو یاد ہیں۔ کئی جگہوں پر وہ جب مجلس پڑھنے یا دورہ پر گئے اور کپڑوں کو دھونے کی ضرورت محسوس کی تو انہوں نے کسی میزبان کو زحمت دینے کی بجائے خود ہی لباس دھو لیا، جبکہ وہ قائد ملت جعفریہ تھے اور علمی لحاظ سے اتنا بلند مقام رکھتے تھے کہ انکی خدمت کرنا ہر ایک اپنے لئے سعادت و خوشبختی سمجھتا۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۷ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۱۸
موضوع نمبر: 281626
 
تحریر: ارشاد حسین ناصر

زندہ قومیں اپنے محسنوں اور رہبروں کی یادیں تزک و احتشام اور شایان شان طریقہ سے مناتی ہیں، وہ جنہوں نے قوم پر احسان کئے ہوتے ہیں، جنہوں نے قوم کیلئے قربانیاں دی ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی ذات پر قوم و ملت کو ہر معاملے میں ترجیح دی ہوتی ہے۔ ہم اہل تشیع اس حوالے سے بڑے ہی خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسی ہستیاں ہیں جنہیں معصوم سمجھتے ہیں اور جو خدا کے خاص الخاص ہیں، جن کی زندگیاں روشن اور تابندہ و درخشندہ ہیں، ہم وہ ہستیاں اور رہبران رکھتے ہیں، جنہوں نے اپیسا کردار ادا کیا کہ تاریخ ان کا تذکرہ نہ کرے تو مکمل نہیں ہوتی۔ ہمارے پاس وہ ہستیاں اور رہبر موجود ہیں، جن کا تذکرہ کرکے، ان کی یاد منا کر ہم اپنی نئی نسل کے سامنے سرخرو ہوسکتے ہیں۔ ہمارے پاس آئمہ معصومین اور ان کے نائبین برحق کی اتنی بڑی تاریخ ہے کہ ہر زمانہ اور دور ان کے کردار سے روشن ہے، ہر علاقہ و منطقہ ان سے مستفید ہوا ہے، ہر خطہ و ریاست ان سے رہنمائی لیتی رہی ہے۔ ہمارا خطہ جسے ارض پاک و ہند کہا گیا ہے، بھی اس حوالے سے بہت ہی خوش قسمت ہے کہ یہاں ایسی ہستیوں نے جنم لیا، جن کی یاد منا کر ہم ان کے احسانات کا بدلہ چکا سکتے ہیں، کسی حد تک حق ادا کر سکتے ہیں۔ اس خطہ ارضی پر بھی ہمارے مکتب کے ایسے نابغہ روزگار پیدا ہوئے، جنہوں نے اس مکتب کی ایسی خدمت کی کہ رہتی دنیا تک ان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی۔ موجودہ نسل کو ایسے بندگان خدا کی زندگیوں، ان کی ملی و مکتبی و دینی خدمات سے روشناس کروانا، تاکہ وہ اس امانت کو اگلی نسلوں میں منتقل کرسکیں از حد ضروری ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں اس طرح کی شخصیات کے نام پر ادارے بنائے جاتے ہیں، ان کے نام کو زندہ رکھنے کیلئے ڈاک ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں، ان کے نام پر تعلیمی وظائف لگائے جاتے ہیں اور ایسی نابغہ روزگار شخصیات کے نام پر ہسپتال، لائبریریز، اسکولز، یونیورسٹیز اور مدارس قائم کئے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ شخصیات اگلی نسلوں تک زندہ رہتی ہیں، ان کا کام بھی انہیں زندہ رکھتا ہے۔ ہمارا ملک جو قبل ازیں برطانیہ کے قبضہ میں تھا اور ایک مشترک معاشرہ تھا، جس میں مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ اس کی آزادی سے قبل کتنے ہی ادارے ہمیں نظر آتے ہیں، جو کسی انگریز، کسی سکھ، کسی ہندو کے نام پر قائم ہیں۔ کئی زمینیں اور جائیدادیں اب بھی ایسے ٹرسٹوں کے نام پر ہیں، جو کسی ہندو کی تھی، کسی سکھ یا انگریز کی تھی، کتنی شاہراہیں اور سڑکیں ہیں، جو ایسے ہی ناموں سے شناخت اور پکاری جاتی ہیں، جنہوں نے اس خطے میں کسی حوالے سے سماج کی خدمت کی، ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ اپنے ہیروز اور محسنوں کو نہیں بھولتیں۔ لاہور جو ایک تاریخی شہر ہے، کے اسپتالوں کو ہی دیکھ لیں، کالجز کے نام ہی دیکھ لیں، بڑی بلڈنگوں کے نام ہی دیکھ لیں تو اندازہ لگ جاتا ہے۔

مفتی جعفر حسین قبلہ مرحوم ایک ایسا نام ہے، جسے پاکستان کی ملت تشیع کو کسی بھی طرح فراموش کرنا، ان کے ملت پر ان گنت احسانات کی ناشکری کرنے کے مترادف ہوگا۔ مفتی صاحب مرحوم کا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا، وہ حکیم چراغ دین کے منجھلے صاحبزادے تھے، ان سے بڑے کا نام محمد حسن اور ان سے چھوٹے کا نام منظور حسین تھا۔ جعفر حسین 1914ء میں پیدا ہوئے، وہ اپنے بھائی سے دو سال چھوٹے تھے مگر تعلیمی لحاظ سے دونوں بھائیوں میں ایک جماعت کا فرق تھا، جو ایک موقعہ پر جا کر یہ فرق بھی ختم ہوگیا۔ بڑے بھائی بیماری کے سبب ایک سال تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے اور یوں دونوں بھائی ایک ہی کلاس کے طالبعلم ہوگئے۔ مفتی صاحب کا گھرانہ حکمت و طب میں بہت نامور تھا۔ ان کے چچا حکیم شہاب الدین جنہیں طب میں مہارت حاصل تھی، ادبی لحاظ سے بھی ایک مقام رکھتے تھے اور انہیں اردو، فارسی، پنجابی میں شاعری سے شغف تھا۔ چچا حکیم شہاب الدین نے ہی جعفر حسین کی پرورش اور تربیت اپنے ذمہ لی تھی۔ کہتے ہیں کہ چچا کی تربیت اور تعلیم  جعفر حسین کے قلب و نظر کو پاکیزہ اور روشن کرنے کا سبب بنی، انہیں کم سنی میں ہی معصومین و اہلبیت عظام  کے حالات زندگی اور کارہائے نمایاں سے مکمل آگاہی حاصل ہوئی، جس سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ آئمہ طاہرین کی حیات مبارکہ اور سیرت رسول خدا ۖ کے نورانی پہلوئوں بالخصوص خدمت خلق، فقر و صبر و سادہ زیستی نے انہیں ان صفات کو اپنے اوپر لاگو کرنے اور عملی انسان بننے کا خوگر بنا دیا، جس کو تا آخر انہوں نے قائم رکھا۔

وہ بچپن سے ہی اپنے تایا چچا کی تربیت و رہنمائی میں نماز و روزہ کی پابندی اور کم کھانے کے عادی بن چکے تھے اور انہیں ایام جوانی سے پہلے ہی تقریریں کرنے بالخصوص مقدس ہستیوں کے حالات زندگی بیان کرنے کا شوق تھا، صرف پانچ برس کی عمر میں انہیں قرآن و عربی کی تعلیم دی جانے لگی، جبکہ دو سال بعد یعنی سات سال کی عمر میں حدیث و فقہ کی تعلیم اپنے مہربان و نگہبان چچا سے حاصل کرنا شروع کی۔ عربی حدیث و فقہ کی تعلیم چچا کے علاوہ مولانا چراغ علی خطیب مسجد اہلسنت اور حکیم قاضی عبد الرحیم جو مدرسہ ندویہ لکھنئو کے فارغ التحصیل تھے، سے بھی حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ صرف بارہ برس کی عمر میں جعفر حسین طب، حدیث، فقہ اور عربی زبان پر کافی عبور پا چکے تھے اور مختلف خصوصیات کی بدولت صاحبان علم کو متوجہ کئے ہوئے تھے۔ اسی دوران موچی دروازہ لاہور کے مرزا احمد علی مرحوم نے انہیں دیکھا تو ان میں موجود پوشیدہ خصوصیات کو بھانپ گئے اور اس جوہر کمال کو اپنے ساتھ لکھنئو لے گئے۔ یہ 1926ء کی بات ہے، اس وقت لکھنوء علم و تہذیب کا گہوارہ فصاحت و بلاغت میں ایک نام رکھتا تھا، یہاں ادب و ثقافت اپنے اوج پر تھے۔ لکھنئو میں آپ کو مدرسہ ناظمیہ میں جناب مولانا ابولحسن عرف منن کے سپرد کر دیا گیا۔ لکھنئو میں آپ سید علی نقی صاحب، جناب مولانا ظہورالحسن صاحب اور مفتی احمد علی صاحب سے بھی کسب فیض حاصل کرتے رہے اور بحر علم سے مستفیض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی منازل کو طے کرتے رہے، اس علمی و ادبی و ثقافتی بلندی کے ماحول میں رہ کر آپ کے خیالات و افکار میں بھی تنوع پیدا ہوا اور انہیں مختلف خیالات و افکار کو پختہ کرنے کا بھرپور موقعہ ملا۔

آپ نے یہاں رہ کر تہذیب نفس پر بھی توجہ رکھی اور اس سے کبھی بھی غافل نہ ہوئے، لکھنئو میں اپنے ادبی ذوق کو بھی خوب پروان چڑھایا، اس مقصد کے لئے ایک انجمن بنام انجمن مقاصدہ کے پلیٹ فارم سے ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، آپ اس انجمن مقاصدہ کے ایک عرصہ تک ناظم بھی رہے۔ لکھنئو میں آپ کے تمام اساتذہ اس بات پر متفق تھے کہ جعفر حسین ایک بلند اور روشن ستارہ بن کر سامنے آئے گا اور یہ نام روشن کرے گا۔ نو سال تک مسلسل علم دین کی گہرائیوں کو سمجھنے کی جدوجہد میں آپ نے کئی اعزازات اور نمایاں کامیابیاں سمیٹیں اور اس کے بعد 1935ء میں مزید تعلیم اور علوم اہلبیت سے مستفید ہونے کیلئے اس وقت کے حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے۔ وہان پانچ برس تک مسلسل فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی خوش قسمتی کہ نجف میں آپ کو آقائی ابوالحسن اصفہانی جیسے صاحب شریعت اور عالم باعمل استاد میسر آئے۔ نجف میں بھی قیام کے دوران آپ کی خودداری اور زندگی کے ڈھنگ ویسے ہی رہے۔ آپ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے بھوک و فاقہ کو اختیار کرتے تھے۔ نجف اشرف عراق میں قیام کے دوران آپ کی ملاقات اظہر حسن زیدی صاحب سے ہوئی، جن سے بعد ازاں گہری دوستی و رفاقت قائم ہوگئی، مولانا اظہر حسن زیدی بعد ازاں بلند پایہ خطیب اور ادبی نابغہ کے طور پر معروف ہوئے، ان کی تقاریر آج بھی خطباء کو مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں، نجف میں پانچ برس قیام اور علوم آل محمد سے فیض یاب ہونے کے بعد آپ واپس لوٹے، اس وقت آپ کا تعارف مفتی جعفر حسین کے نام سے ہوا۔ آپ نے پہلے دو برس تو نوگانواں سادات ضلع مراد آباد میں بطور دینی مدرس گذارے، اس کے بعد آپ واپس اپنے آبائی علاقہ گوجرانوالہ تشریف لے آئے۔

مفتی جعفرحسین قبلہ مرحوم ایک مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور دو بار اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن منتخب کئے گئے، ان کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دینے کیلئے علامہ حافظ کفایت حسین اور علامہ رضی مجتھد ہوتے تھے۔ آپ نے 1951ء میں علماء کے بائیس نکات پر متفق ہونے کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا، اس تحریک میں آپ کے ساتھ علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم بھی فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ 1979ء میں بھکر میں آل پاکستان شیعہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پوری قوم نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی۔ اس کنونشن میں مفتی جعفر حسین قبلہ قائد ملت جعفریہ منتخب ہوئے، اس وقت پہلی بار یہ نعرہ فضا میں گونجا کہ ہمارا رہبر تمھارا رہبر مفتی جعفر مفتی جعفر۔ اس موقعہ پر جب ملک میں مارشل لاء نافذ ہوچکا تھا، آپ نے ملت تشیع کی طرف سے حکومت کو شیعہ مطالبات پیش کئے، ان مطالبات کو منظور کرنے کیلئے مفتی جعفر حسین قبلہ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی مہلت دی۔ 30 اپریل 1979ء تک مطالبات تسلیم نہ کئے جانے پر آپ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا، حکومت نے آپ کا استعفٰی منظور نہ کیا اور ان کو تنخواہ برابر بھیجتے رہے، جسے آپ نے بصد شکریہ واپس کر دیا اور کہا کہ جب کام نہیں کیا تو تنخواہ کس بات کی؟ سوال یہ ہے کہ آج اس طرح کا کوئی کردار ہمیں دکھائی دیگا، جسے ہم اگلی نسلوں تک منتقل کرسکیں یا ہم ایک اپاہج قوم بن گئے ہیں، ارباب ملت کو اس پہ غور کرنا چاہیئے۔؟

مفتی جعفر حسین قبلہ انتہائی بے باک اور نڈر انسان تھے، حق گوئی و بے باکی ان کا وطیرہ اور شان تھی، آپ بے حد نڈر اور بے باک تھے، آپ صاف گو تھے اور کسی کو اندھیرے میں نہیں رکھتے تھے، اپنا ہر کام انتہائی جانفشانی اور لگن و محنت سے کرتے تھے، آپ دیانت و صداقت کی چلتی پھرتی تصویر تھے، آپ کی تمام زندگی انتہائی سادگی اور تصنع و بناوٹ سے بہت دور رہ کر گذری، ان کی سادگی کی ان گنت مثالیں آج بھی بچے بچے کو یاد ہیں۔ کئی جگہوں پر وہ جب مجلس پڑھنے یا دورہ پر گئے اور کپڑوں کو دھونے کی ضرورت محسوس کی تو انہوں نے کسی میزبان کو زحمت دینے کی بجائے خود ہی لباس دھو لیا، جبکہ وہ قائد ملت جعفریہ تھے اور علمی لحاظ سے اتنا بلند مقام رکھتے تھے کہ ان کی خدمت کرنا ہر ایک اپنے لئے سعادت و خوشبختی سمجھتا۔ اسی طرح کئی ایک جگہوں پر اس وقت کی عمومی سواری تانگہ میں سوار ہو کر چلے جاتے، لوگ ان کی سادگی کو دیکھ ششدر و حیران رہ جاتے تھے کہ ایک قوم کا قائد جو علم و فضل میں کسی سے بھی کم نہیں تھا، اتنا سادہ اور بناوٹ و رکھ رکھائو کے دنیاوی تقاضوں سے دور ہے۔ یہ اپریل 1980ء کی بات ہے کہ عراق میں اسلامی انقلاب کی امید مفکر اسلام آیةاللہ باقرالصدر اور ان کی عالمہ بہن آمنہ بنت الھدیٰ کو صدام کی ظالم حکومت نے بدترین تشدد کرکے شہید کر دیا۔ ان کی المناک شہادت نے ہر ایک صاحب درد کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ پاکستان کے وہ علماء جو شہید باقر الصدر کی شخصیت سے آگاہ تھے، انہوں نے اس ظلم اور سفاکیت کے خلاف عوامی احتجاج کروائے۔ کئی شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور حکومت عراق تک ملت تشیع پاکستان کا غم و غصہ پہنچایا گیا۔

اسی دوران اسلام آباد میں 4/5 جولائی کو ایک کنونشن طلب کیا گیا، تاکہ حکومت عراق تک بھرپور احتجاج پہنچایا جا سکے۔ اس دوران چند دن پہلے ہی 30 جون کے دن حکومت نے زکوٰة آرڈیننس جاری کیا، جس میں مکتب تشیع کے نقطہ نظر کو یکسر نظر انداز کیا گیا، اس ماحول میں مشاورت اور باہمی تجاویز کے بعد شہید باقر الصدر کی المناک شہادت کے حوالے سے ہونے والے کنونشن کو نفاذ فقہ جعفریہ کے عنوان سے منانے کا اعلان ہوا، جس کی توثیق قائد ملت جعفریہ نے بھی کر دی۔ اگرچہ آپ ایسے کسی بھی اجتماع اور احتجاج جس سے کسی بھی بندہ مومن کی جان جانے کا خطرہ ہوتا، اس کی اجازت نہیں دیتے تھے، مگر اس کنونشن پہ آپ راضی ہوئے اور اسلام آباد پوری قوم کو بلایا۔ اس کیلئے لمبے چوڑے دورے نہیں کئے، پریس کانفرنس کی، قوم بھی آپ کی آواز پر چلی آئی، آج بھی اس تاریخ کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس کنونشن میں جہاں دیگر تنظیموں اور شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، وہاں ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور نوجوانان امامیہ (آئی ایس او پاکستان) نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ہاکی گرائونڈ اسلام آباد میں ہونے والے اس کنونشن میں ملک بھر سے ملت جعفریہ کے سپوتوں، علماء ذاکرین، زعمائے ملت، شعرائے قوم، طالبعلموں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے جذبات و احساسات کو ملکی سطح پر حکمرانوں تک پہنچایا۔

قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین نے اس جلسہ اور احتجاج کی صدارت کی، وزارت مذہبی امور اور صدر مملکت سے مذاکرات کے کئی دور چلے اور بالآخر حکومت کو ملت جعفریہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ایک معاہدہ روبہ عمل لایا گیا، جس کی رو سے یہ طے ہوا کہ جو بھی اسلامی قانون بنے گا، اس میں فقہ جعفری کا خیال رکھا جائے گا اور زکوٰة آرڈیننس میں بھی ترمیم کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اہل تشیع زکوٰة دینے سے انکاری تھے بلکہ حکومت کے طریقہ کار اور کرنسی نوٹوں پر زکوٰة دینے کے شرعی مسئلہ پر اپنا جدا موقف رکھتے تھے، جس پر احتجاج کیا گیا۔ ملت جعفریہ کی اس جدوجہد کا فائدہ آج بلا تفریق تمام مسالک کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ مفتی جعفر حسین قبلہ کی جدوجہد کا یہ باب کسی بھی طور بھلایا نہیں جاسکتا، آج جب پاکستان کے لاکھوں لوگ اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے سراپا احتجاج ہیں تو ملت جعفریہ کی تاریخی جدوجہد کے مناظر بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ اس کنونشن میں شورکوٹ کا ایک جوان شہید ہوا۔

علمی خدمات:
قبلہ مفتی جعفر حسین نے گوجرانوالہ میں جامعہ جعفریہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ بر لب جی ٹی روڈ قائم کی، وسیع عریض رقبہ پر مشتمل اس درسگاہ کو ملت نے ان کی رحلت کے بعد اس طرح اہمیت نہیں دی، جس کا حق رکھتی تھی۔ اب یہ مدرسہ و عظیم یادگار علامہ سید جواد نقوی کی ٹیم کے ہاتھ میں آگیا ہے اور اس میں مزید تعمیرات اور تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور اس کی حالت پہلے سے کہیں بہتر بتائی جاتی ہے۔ مفتی صاحب ایک انتہائی ادبی شخصیت کے مالک تھے، وہ اہل زبان تھے اور صاحب قلم تھے، انہوں نے ایک کتاب بعنوان سیرت امیر المومنین تحریر فرمائی، جبکہ مولا علی کے خطبات و خطوط و کلمات قصار کے معروف مجموعہ نھج البلاغہ کا ترجمہ و تشریح کی، جسے خاص و عام میں بے حد پسند کیا جاتا ہے، آپ کے اردو ترجمہ کو ادبی ذوق رکھنے والے حضرات اور الفاظ کی قدر جاننے والوں کے ہاں بہت اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ مفتی صاحب قبلہ نے صحیفہ کاملہ کا بھی ترجمہ و تشریح کی ہے۔ مفتی صاحب قبلہ کو امام خمینی کی ذات اور ایران سے بے حد محبت تھی، ایک بار ہی انقلاب کے بعد ایران دورہ پر تشریف لے گئے، جس کا تمام خرچ ذاتی طور پر برداشت کیا، حالانکہ حکومت نے اس دورے کا انتظام کیا تھا، مفتی صاحب کی غیرت و خودداری نے یہ برداشت نہ کیا کہ سرکاری خرچ پر ایران کا دورہ کریں، وہ پیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہوگئے تھے، پہلے میو ہسپتال لاہور، پھر لندن اور لندن سے پھر واپس لاہور لائے گئے۔ ان کا انتقال 29 اگست 1983ء کو میو ہسپتال لاہور میں ہوا اور کربلا گامے شاہ لاہور میں دفن کئے گئے۔ جنازہ میں ملک بھر سے علماء، عوام کے جم غفیر اور تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے علاوہ اعلٰی حکومتی عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ یوں ملت کا یہ نابغہ اور روشن ماہتاب غروب ہوگیا، ان کا تذکرہ جب بھی، جہاں بھی کیا جائے گا، اس سے خلوص کی خوشبو محسوس کی جائے گی، تقویٰ کا احساس ہوگا، سیرت آئمہ کی جھلک دکھائی دیگی۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
Share/Save/Bookmark