'آنگ سان سوچي' سے نوبل امن انعام واپس لیا جائے
علاء الدین بروجردی نے كہا ہے كہ ان مظالم پر بين الاقوامي سركاري تنظيموں كي خاموشي قابل قبول نہيں
علاء الدین بروجردی نے دنيا بھر میں قیام امن کو اقوام متحدہ كي ذمہ داري قرار ديتے ہوئے كہا كہ ان مظالم پر بين الاقوامي سركاري تنظيموں كي خاموشي قابل قبول نہيں
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۲۲ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۱:۵۳
موضوع نمبر: 283552
 
ايراني پارليمنٹ كي قومي سلامتي اور خارجہ پاليسي كميٹي كے چيئرمين نے ميانمار ميں مسلمانوں كي نسل كشي پر بين الاقوامي تنظيموں كي خاموشي كي مذمت كرتے ميانمار كي رہنما 'آنگ سان سوچي' سے نوبل امن انعام واپس لينے كا مطالبہ كيا ہے.

تفصيلات كے مطابق، سنيئر ايراني ركن پارليمنٹ علاء الدين بروجردي نے گزشتہ روز روہنگيا مسلمانوں كے خلاف حكومت ميانمار كے مظالم كے حوالے سے سپريم ليڈر آيت اللہ العظمیٰ خامنہ اي كے حاليہ بيانات كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ مجلس كي قومي سلامتي اور خارجہ پاليسي كميتي بدھ كے روز ميانمار ميں حاليہ بحران كا جائزہ لينے كے ليے ايك غير معمولي نشست منعقد كرے گي.

انہون نے ميانمار كي رہنما آنگ سان سوچي كے نوبل امن انعام كا ذكر كرتے ہو‏ئے كہا كہ ميانمار كي 'رہنما سوچي' نے اپنے ملك ميں انسانيت كے خلاف ہونے والے مظالم كے حوالے سے كچھ بھي نہيں كيا ہے تو امن نوبل امن انعام كو اس ملك كي ايسي رہنما ميں عطا كرنے سے يہ بات ظاہر ہوتي ہے كہ يہ انعام، اسلام فوبيا اور اسلام سے نمٹنے كے مقصد كے ساتھ عطا كيا گياہے.

انہوں نے اس ظالمانہ نسل پرستي ميں اقوام متحدہ كي خاموشي كي تنقيد كرتے ہوئے اور اقوام متحدہ كي سلامتي كونسل سے يہ سوال پوچھا كہ كيوں وہ ميانمار ميں مسلمانوں كي وحشيانہ نسل كشي پر خاموش تماشائي بيٹھا ہے؟ كيا جوہري ہتھياڑ معصوم اور بے گناہ افراد كے قتل عام كے بغير ہے ؟ پھر كيوں ايسے ظالمانہ قتل عام كے خلاف خاموشي كا اختيار كيا ہے؟؟

علاء الدین بروجردی نے دنيا بھر میں قیام امن کو اقوام متحدہ كي ذمہ داري قرار ديتے ہوئے كہا كہ ان مظالم پر بين الاقوامي سركاري تنظيموں كي خاموشي قابل قبول نہيں.

انہوں نے مزيد كہا كہ ان تنظيموں كو اس وقائع كي مذمت كرنے كے علاوہ اس حوالے سے عملي اور سنجيدہ اقدامات اٹھانا چاہيے. 

انہوں نے اپنے بيان كے اختتام پر كہا كہ امت مسلمہ كو اس مظالم كو خاتمہ كرنے كي مزيد كوشش كرني چاہيے.
Share/Save/Bookmark