اسلام کو سلفی گری سے دور کرنے کی ضرورت ہے
روز بروز یہ بات ثابت ہو تی جارہی ہے کہ سعودی عرب خود خطرے کی جانب بڑھ رہا ہے اور خود کو ایسی سیاست کے حوالے کرنا چاہ رہا ہے کہ جس میں اس کے لئے ک
تیونسی مصنف سمیہ راشد الغنوشی کہ جو ایک اس ملک کے ایک بڑے عالم دین کے فرزند ہیں، اپنی ایک تحریر میں کہ جو عالم اسلام میں سلفیوں اور سعودی عرب کے وہابیوں کے ماضی کے بارے میں تحقیق اور ان کے افکار اور ان سے دوری اختیار کرنے کی ضرورت پر مبنی ہے لکھتے ہیں کہ
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۳۱ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۰:۳۹
موضوع نمبر: 280555
 
تیونسی مصنف سمیہ راشد الغنوشی کہ جو ایک اس ملک کے ایک بڑے عالم دین کے فرزند ہیں، اپنی ایک تحریر میں کہ جو عالم اسلام میں سلفیوں اور سعودی عرب کے وہابیوں کے ماضی کے بارے میں تحقیق اور ان کے افکار اور ان سے دوری اختیار کرنے کی ضرورت پر مبنی ہے لکھتے ہیں کہ:
  
روز بروز یہ بات ثابت ہو تی جارہی ہے کہ سعودی عرب خود خطرے کی جانب بڑھ رہا ہے اور خود کو ایسی سیاست کے حوالے کرنا چاہ رہا ہے کہ جس میں اس کے لئے کو ئی فائدہ نہیں۔

سعودی حکومت، مسلمانوں کے مقدسات اور ان کے قبیلے کو اپنی آغوش میں لئے اس بات کا مدعی ہے کہ دین کی اساس پر اس کو مشروعیت و قداست حاصل ہے، یہ حکومت اور دنیا کے چند ایک اور ملک ایسے ہیں کہ جن میں کوئی آئین نہیں اور ان کے قوانین کی اساس قرآن و سنت کی بنیاد پر ہے، پس بادشاہ لوگوں پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔

یہ چند دہائیوں کی بات ہے، جب سے“ معاہدہ درعیہ ”کہ جو آل سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے درمیان، 1745عیسوی میں نجد کے بیابان میں ہوا تھا اور اس حکومت کے قیام کے بعد دوسری سعودی حکومت  1818 عیسوی میں اس ملک میں قائم ہوئی تھی، لگتا ایسا ہے کہ سعودی حکومت ایک مکمل دینی حکومت ہے، لیکن دراصل یہ ایک مال داروں کی حکومت ہے کہ جس نے مادی و معنوی دولت کو اپنے اختیار میں لے رکھا ہے۔

اس طرح  کے رابطے بنیادی طور پر حکام اور علماء دین کے اتحاد کی وجہ سے ہوتے ہیں تاکہ علماء اپنی طاقت کو ان حاکموں کے نفع میں استعمال کریں، سعودی عرب کے فقہا، وہاں کے رسمی نوکر بن چکے ہیں کہ جو اپنی ضروریات کو حکومت سے طلب کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے علماء ہمیشہ کفار و مشرکین سے برٲت کے سلسلے میں بے زار رہے ہیں، مگر ہم نے دیکھا ہے کہ جب خلیج فارس میں دوسری جنگ کا آغاز ہوا تو یہی علماء تھے جن سے فتوے صادر ہونے لگے کہ کفار و مشرکین فوج سے استفادہ کرنا جائز ہے اس صورت میں امریکہ سے مدد لینا ان کے لئے جائز ہوگیا۔

یہی سعودی عرب ہے کہ جس نے مسلمانوں میں اپنے اثر و رسوخ کی خاطر کچھ تنظیموں کی حمایت بھی کی، جمال عبدالناصر کی حکومت کے مخالف اخوان المسلمین کی شاہ  فیصل نے حمایت کی۔

سعودی عرب پاکستان سے اتحاد کے بعد امریکہ کے تحت چلا گیا اور اس نے کمیونزم کے خلاف افغانی جنگجووں کی مالی حمایت کی، اس طرح سعودی عرب اسلامی تمائل رکھنے والا ایسا ملک بن گیا کہ جو کم از کم کمیونزم کی مخالفت کرے اس کا دوسرا مرحلہ ایران میں نفوذ تھا۔

ملک عبداللہ کے زمانے میں سعودی عرب، عرب ممالک میں برپا ہونے والے انقلابات سے محفوظ رہا، ان انقلابات کو اسلامی نام دینا درست نہیں بلکہ یہ انقلابات اسلام کے مقابلے میں تھے یا یوں کہیں کہ یہ انقلابات اسلام اور ڈیموکریسی کا اتحاد تھا کہ جن میں صرف ایک انتخابات کا مطالبہ تھا جو بعض حکومتوں نے کروا کے اپنی حکومت بچالی۔

سعودی عرب کا تعلق ایک ایسے سیاسی بلاگ سے ہے جن پر یہ بات سخت گزری تھی، کیونکہ ان ممالک کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اپنی مشروعیت کو قرآن و سنت سے حاصل کیا ہے اور وہ ان کے ہاتھوں میں سنی اسلام کی نمائندگی ہے حالانکہ ان کے پاس کسی بھی قسم کا آئین موجود نہیں تھا۔

اس بنا پر سعودی عرب کے آج کے بادشاہ ایک  ایسی جنگ میں کود پڑے ہیں کہ جو اسلامی محاذوں کے خلاف لڑی جارہی ہے ان میں داعش اور القاعدہ سامنے ہیں کہ جو وھابیت کی پیداوار ہیں اور اپنی شدت پسندی و تکفیریت کو انھوں  نے وہاں سے حاصل کیا ہے۔

اسلامی معتدل تنظمیوں پر دباو ڈالنے کے لئے اخوان المسلمین کی سعودی حکومت کی جانب سے  مخالفت ہوئی جو کہ سعودی حکومت کا نیا چہرہ تھا۔

آل سعود کے علماء کی بڑی ٹیم نے اخوان المسلمین کے خلاف فتویٰ دیا کہ اخوان المسلمین کے اعتقادات باطل اور منحرف کرنے والے ہیں۔

ایسے بہت سے موارد ہیں، ممکن ہے کہ کسی کا اخوان المسلمین سے اختلاف ہو لیکن جب بات نقد و نظر کی ہو تو اس بات کا ذکر ضروری ہے۔

سعودی عرب کی دینی فکر کی جڑیں وھابیوں کے مدارس میں ہیں یہ وہ مقامات ہیں کہ جہاں وہ اپنی دل کی بات کرتے ہیں اور شدت پسندانہ گفتگو کرتے ہیں، درحقیقت میں یہ دینی شدت پسندی کو اپنی سیاسی پالیسیوں پر بطور چادر اڑھانا ہے اور اسی اساس پر حکومت کے فقہا فتوے بھی صادر کرتے ہیں۔

اخوان المسلمین عتاب کا شکار ہوئی کہ انکے عقائد صحیح نہیں ہیں، اس فتوے میں ایک نکتہ پوشیدہ تھا وہ یہ کہ علماء کے اس گروہ نے اپنے عقائد کو صحیح جانا ہے اور دوسرے افراد کو مشرک اور گمراہ سمجھا ہے۔

یہ فتوے تکفیری وھابی مدارس سے حاصل کئے گئے تھے کہ سعودی حکومت ان مدارس کا نمونہ عمل ہے، یہ لوگ ایک غلط راہ پر نکل پڑے ہیں کہ جس سےاسلام کا چہرہ مخدوش ہوتا ہے، ایک جعلی عنوان کہ جو اسلام سے منسوب ہے، خاتون کو گاڑی چلانے کا یک سادہ ساحق بھی یہ لوگ نہیں دے سکتے۔

دین اسلام کو سیاسی مدبھیڑ میں آکر تبدیل کردیتے ہیں، اس بنا پر کہ بادشاہ وقت بغیر کسی قانون اور ضابطے اور انتخابات کے لوگوں پر ولایت رکھتا ہے اور یہ دین و عقیدے میں عین فساد ہے۔

وھابیت کا اعتقاد یہ ہے کہ حاکم وقت پر خروج کرنا حرام ہے جبکہ ان کی حکومت کا قیام ہی حاکم وقت پر خروج سے شروع ہوتا ہے کہ جب انھوں نے عثمانیوں کی تکفیر کی اسوقت عثمانی حکومت یورپی سلاطین سے مصروف جنگ تھے، انھوں نے اپنے حاکم پر خروج کر ڈالا تھا۔

قبل اس کے وھابیت ایک آئیڈیالوجی بنتی اور حکومت کی خدمت کرتی، تکفیریت اور مسلحانہ خروج کی جڑیں وھابی تفکر کی ایجاد کردہ ہیں۔

سلفی افکار کے مطابق ان کا عقیدہ درست اور باقی تمام مسلمانوں جیسے اشاعرہ و معتزلہ و اہل تصوف، اوراہل  تشیع  کفر و شرک کے حامل ہیں، اس جنگ میں داخل ہونے کے بعد نکلنے کا راستہ نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی بھی چیز مشخص نہیں ہوتی ہے بلکہ ایک بہودہ لڑائی پر اکساتی ہے۔

بعض خطرات کے پیش نظرآج سلفی تفکر اور اسلام کے درمیان تفاوت کو پرکھنا ایک مطلوب کام ہے جس میں فائدہ زیادہ اور نقصان کم ہے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ سلفی گری سے نجات حاصل کی جائے۔

 آل سعود کا سنی مکاتب کے حامیوں سے اس طرح کا رابطہ منفی اثرات رکھتا ہے کیونکہ  ان شدت پسند تنظیموں  کا تمائل سلفیت کی جانب ہے اور کیونکہ وہابیوں، سلفیوں کا فاصلہ اسلامی سیاست سے بڑھ گیا ہے اور بیداری اسلامی میں ان کا کردار محو ہوکر رہ گیا ہے۔

اور یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ ان شدت پسند عناصر کا خواتین کے معاملہ رجحان کیا ہے اور اسی طرح یہ صرف اسلام کو مسواک ،داڑھی اور لباس میں دیکھتے ہیں۔

مکتب اہل تسنن من جملہ اخوان المسلمین  دراصل ایک جدید فکر کے حامی افراد پر مشتمل ہے لیکن ان کے بعدوالی نسلوں پر ساٹھ ،ستر کی دہائی کے سلفیوں نے اثر ڈالا ہے  گویا کہ وھابی افکار ان کے دورنی اعتقاد کا حصہ شمار ہوتا ہے۔

حال حاضر میں موقع بہت اچھا ہے کہ اسلامی نظریات کو ان سلفیوں سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ بات سعودی عرب کی سیاست کے لئے نکتہ عطف قرار پائے  اور ان کی بازگشت اصلاح کی جانب ہو جائے جیساکہ سید جمال الدین ،محمدعبدہ و رشید رضا اور دوسرے علماء اکرام کہ جن کا کام اسلامی معاشرے کی اصلاح تھا۔
Share/Save/Bookmark