سعودی عرب تنہا حج کے انتظامات نہیں کرسکتا
پاکستان کے عوام قائداعظم کے فرمان پر جان دے دیں گے، لیکن اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے
یہاں تو کوئی فلسطین اور کشمیر کے لئے اسرائیل اور ہندوستان کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، سعودی عرب کے خلاف لب کشائی کی جرات کون کرے گا
تاریخ شائع کریں : شنبه ۴ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۱:۱۴
موضوع نمبر: 281120
 
حج مبارک کا اجتماع آٹھ، نو اور دس ذی الحج کو منٰی، مزدلفہ اور عرفات میں ہوتا ہے، یہ اجتماع پیغمبر اسلام حضرت ابراہیم ع کی نسبت کو تازہ کرتا ہے، یہ بات جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر کراچی ڈاکٹر معراج الہدٰی صدیقی نے کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی سے خصوصی بات چیت میں کہی۔

ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ "حجاج کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے لئے مزید اضافی انتظامات کی ضرورت ہے، رواں سال بھی چالیس لاکھ سے زائد مسلمان حج ادا کریں گے، جن کے درمیان اتحاد، اتفاق، یک جہتی اور وحدت کا بہترین نظارہ دیکھنے کو ملے گا، تاہم حاجیوں کی اتنی بڑی تعداد کی میزبانی کے لئے سعودی عرب انتظامات مزید بہتر بنائے، کیونکہ دو سال پہلے ہونے والے سانحہ کے نتیجے میں ہزاروں حاجی شہید ہوگئے تھے، لہذا اب ایسی غلطی یا ناقص پالیسی نہ دہرائی جائے۔"

سعودی حکومت کی جانب سے بعض ملکوں کے عوام پر حج کے دروازے بند کئے جانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ "بلاشبہ حج ایک بہت بڑی سعادت اور مذہبی فریضہ ہے، اور اس کی ادائیگی سے کسی کو روکنا سراسر غلط ہے، اس وقت اطلاعات ہیں کہ ریاض حکومت نے بیت اللہ پر اپنا استحقاق جتاتے ہوئے یمن، شام، قطر اور ایران کے حجاج کے لئے مشکلات کھڑی کی ہیں، ان کے مکہ آنے میں رکاوٹیں ڈالی ہیں، بلکہ کچھ ملکوں کے لوگوں کو تو حج کی اجازت بھی نہیں دی گئی، یہ سب کیا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیئے، خانہ خدا مکہ میں اور مکہ سعودی عرب میں ہے تو جو مرضی کریں گے، یہ اچھی سوچ نہیں ہے، کسی مسلمان کو بیت اللہ کے حج سے نہیں روکا جاسکتا۔"

مسلمانوں کو حج کی ادائیگی سے روکنے کے باجود عالم اسلام کی خاموشی پر انھوں نے کہا کہ "سعودی عرب نام نہاد یا ذاتی سیاسی معاملات کو جواز بناکر لوگوں کو حج سے روکتا ہے، اور کوئی ملک آواز نہیں اٹھاتا، گذشتہ سال بھی سعودی عرب نے ایرانیوں کو حج نہیں کرنے دیا، لیکن چند ایک ممالک کے علاوہ کسی نے آواز نہیں اٹھائی، یہاں تو کوئی فلسطین اور کشمیر کے لئے اسرائیل اور ہندوستان کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا، سعودی عرب کے خلاف لب کشائی کی جرات کون کرے گا، یہی وجہ ہے کہ ریاض حکومت کو بعض اسلامی ممالک کی بھی شہ مل رہی ہے اور وہ خطے کا امن خراب کر رہا ہے۔"

 ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے مزید کہا کہ "یہی وہ موقع ہے کہ جب مختلف ملک اپنے باہمی اختلافات اور جھگڑے بھلا کر متحد ہوجائیں اتحاد کا مظاہرہ کریں، پچھلی باتیں نظر انداز کردیں، کیونکہ خانہ کعبہ سے محترم اور کون سا مقام ہوگا، لہذا اللہ کے گھر کی اہمیت و حرمت کی خاطر سعودی عرب کو بھی چاہیئے کہ وہ کسی کے لئے رکاوٹ نہ ڈالے، کسی کو حج کی سعادت سے محروم نہ کرے، بلکہ مکہ اور مدینے کے دروازے تمام مسلمانوں کے لئے کھول دے۔"

انھوں نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ حجاج کو کسی بھی وقت آنے سے روکنا اور اس کے لئے سیاسی یا عالمی حالات کو جواز بنانا، کسی طرح مناسب نہیں، بلکہ یہ فعل پوری امت مسلمہ کے لئے افسوس ناک ہے، کسی ایک ملک یا بادشاہ کی مرضی کے بجائے اس عبادت کو تمام مسلمان کی یک جہتی کا ذریعہ بنایا جائے۔"

حج کے انتظامات کے حوالے سے سعودی عرب کی بوکھلاہٹ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ "جی بالکل، سعودی عرب تنہا حج کے انتظامات نہیں کرسکتا، اس مقصد کے لئے سعودی عرب دوسرے اسلامی ملکوں سے معاونت لے سکتا ہے، اس سلسلے میں (اسلامی سربراہی تنظیم) او آئی سی سے بات کی جاسکتی ہے، مختلف ملکوں کی حکومتوں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے، تاکہ حجاج کرام کو زیادہ سہولتیں مہیا کی جاسکیں۔"

رواں سال حج کے انتظامات کے حوالے سے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر کراچی نے کہا کہ " اس سال بہتر انتظامات کی توقع ہے، لیکن اس کا درست اندازہ منٰی، عرفات اور مزدفہ وغیرہ جا کر ہی بہتر لگایا جاسکے گا، خیر سعودی عرب کو گذشتہ واقعات سے سبق سیکھنا چاہیئے، سب ملکوں کو ساتھ ملا کر بہتر انتظامات کرے، حاجیوں کو سہولتیں دے، اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرے، سعودی حکام ایرانیوں کو خوش آمدید کہیں، اور سب کو جنت البقیع قبرستان کی زیارت کی اجازت دیں، جنت البقیع بند کرنا کسی صورت درست اقدام نہیں، لوگ اگر وہاں جانا چاہتے ہیں تو انھیں اس کی اجازت دی جائے، اس میں سعودی عرب کے لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہونا چاہیئے۔"

ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے کہا کہ "حج عظیم اجمتاع ہے، جو مختلف مسالک اور ملکوں کو ملانے کا ذریعہ ہے، مکے میں ہر سال لاکھوں فرزندان توحید مختلف ملکوں سے جمع ہوتے ہیں، جن کی رنگ و نسل الگ ہونے کے ساتھ مسالک بھی الگ الگ ہوتے ہیں، لیکن سب ایک ہو کر اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہوتے ہیں، گویا حج ملت اسلامیہ کو ایک پلیٹ فارہم پر یکجا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے اتحاد بین المسلمین کی فضا قائم ہوتی ہے۔"

پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کروانے سے متعلق مہم کے آغاز کے سوال کے جواب میں جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ "اس قسم کی سازشیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، اور اس بار بھی انشااللہ اسرائیل کے چاہنے والوں اور خیرخواہوں کو زلت و رسوائی کا سامنا ہوگا، منفی قوتوں کو روکا نہیں جاسکتا، انھیں ناکام بنانے کے لئے مثبت قوتوں کے درمیان یک جہتی اور اتحاد ہونا چاہیئے، اسرائیل کے حوالے سے پاکستانی عوام قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان کے عین مطابق آگے بڑھ رہے ہیں، اور وہ کسی صؤرت بانی پاکستان کے فرمان سے ہٹ کر چلنے کو تیار نہیں، پاکستان کے عوام قائداعظم کے فرمان پر جان دے دیں گے، لیکن اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔"
 
 
 
 
Share/Save/Bookmark