سعودی عرب حج کے اہداف اجتماعی میں رکاوٹ
حج ایک عالمی کانفرنس ہے کہ جسکا صرف مسلمانوں سے تعلق ہے
حج ایک بہت بڑی سیاسی کانفرنس ہے کہ جو اپنے خاص اہداف کے ساتھ شارع مقدس کی جانب سے معین ہوئی ہے، اس کے مناسک اجتماعی ایک بہت بڑے اجتماع کی صورت میں انجام پاتے ہیں کہ جس کے اپنے فردی و اجتماعی اہداف ہیں
تاریخ شائع کریں : شنبه ۲۸ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۵:۲۶
موضوع نمبر: 280158
 
اردن میں ایران کے سابق سفیر مصطفی مصلح زادہ سے حج  کے سلسلے میں ریاض کی سیاست کے نشیب و فراز پر تقریب کے نمائندے سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال حج کہ جو اتحاد کا مظہر ہے انجام پاتا ہے اور جس میں لاکھوں کی تعداد  میں دنیا بھر کے مسلمان دور دراز علاقوں  سے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور اس عبادت ا لہی کو انجام دیتے ہیں اور جس میں ریاض کی کو شش یہ ہوتی ہے کہ وہ بعنوان میزبان اس عبادی رسم سے اپنے سیاسی ہدف کو حاصل کرے، علاقے کے حالات اور ایک دوسرے سے کھنچاؤ نے حج کی ادائیگی کے سلسلے میں رکاوٹیں ایجاد کر دی ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ“حج ایک بہت بڑی سیاسی کانفرنس ہے کہ جو اپنے خاص اہداف کے ساتھ شارع مقدس کی جانب سے معین ہوئی ہے، اس کے مناسک اجتماعی ایک بہت بڑے اجتماع کی صورت میں انجام پاتے ہیں کہ جس کے اپنے فردی و اجتماعی اہداف ہیں ،اس کا سب پہلا ہدف تو یہ ہے کہ مسلمان دنیا  بھرکے دور دراز علاقوں سے  ایک زمان اور ایک مکان میں جمع ہو تے ہیں ،تاکہ انہیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہو سکے ۔

دوسرا ہدف یہ ہے کہ دنیا والوں کے سامنے اور اپنے دشمن کے سامنے اپنی ایک قوت کا اظہار ہے حج ہو یا اربعین حسینی ہو دونوں میں لوگوں کا اجتماع دنیا بھر کے مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے جو عظمت اسلام کی دلیل  ہے۔

تیسرا ہدف یہ ہے کہ اسلام کے پیروکار اس عظیم اجتماع میں تربیت پاتے ہیں  اور رشد حاصل کرتے ہیں کہ جس میں ان کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، حج ایک بہترین وسیلہ ہے کہ جس میں ایک مسلمان اپنے تقویٰ کو حاصل کرتا ہے،خدا کے تقرب کا بہترین وسیلہ کہ جس کے ذریعے سے اسکا رابطہ خدا وندکریم سے ہوجاتا ہے، ایک مسلمان اگر چاہے تو صفاو مروہ کے ذریعےسے عالم ملکوت میں قدم رکھ سکتا ہےاورمعرفت عارفانہ حاصل کر سکتا ہے کہ جسے دین میں ولایت سے یاد کیا جاتا ہے۔

بیت اللہ شریف ولایت کا سمبل ہے کہ اور پیمبر  اور جانشین پیمبر کی ولایت ،خدا کی ولایت کا تسلسل ہے اس عنوان سے بھی یہ اجتماع بہت اہمیت کا حامل ہے لہذا ایک فرد کے لئے یہ تربیت گاہ بہت اہم  ہے کہ ایک شخص اس میں مراسم حج سے خاص چیزوں کو پاتا ہے۔

اس عظیم عبادت کا چوتھا ہدف، ایک مکتب کے افراد کا دوسرے مکتب سے  ملنا ،حج اس بات کی بہترین فرصت عطا کرتا ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے مسلمان اس میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں  اور کسی ایک مشترک نکتے پر ہم فکر ہو جائیں،مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل اور اسلام کو لاحق خطرات اور اس کے راہ  حل کے بارے میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں لیکن یہ سب تب ہوگا کہ جب ان تمام باتوں کا امکان بھی میسر آئے”۔

انھوں نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ“سعودی عرب حج کو ایک آئین اسلامی سے زیادہ ایک سیاسی نظر سے دیکھتا ہے ، یہ ملک ایک میزبان ہو نے کی حیثیت سے  اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ مسلمانوں کی قدرت نمائی کی جائے ،مسلمان آپس میں تبادلہ خیال کریں ایک دوسرے سے رابطہ برقرار کر سکیں، لیکن اس سلسلے سعودی عرب کی جانب سے رکاوٹیں بہت ہیں جس کی وجہ سے حج سے بھرپور فائدہ اُٹھانا مشکل ہو جاتاہے ،وہ  مبلغ دین کو تبلیغ کی اجازت نہیں دیتاہے جو تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں ان کو روک دیتا ہے ”۔

انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ ریاض کے اہداف کیا ہیں؟ جواب دیا کہ“سعودی عرب  نہیں چاہتا ہے کہ ایرانی ،لبنانی،عراقی اور دوسرے ممالک ملکر علاقے میں سعودی عرب کے اقدامات کے خلاف ایک مشترک محاذ کھولیں،لہذا وہ ان میں رابطہ برقرار نہیں ہونے دیتا ہے کیونکہ ان کا ارتباط اس عظیم اجتماع کے اہداف میں سے ایک ہدف ہے کیونکہ  اس طرح کا رابطہ بڑے ممالک کے مقابل میں ہوتا ہے کہ جن میں امریکہ ،اسرائیل اور ان کے اتحادی شامل ہیں  اور سعودی عرب ان ممالک  پر حج میں میں شرکت پر رکاوٹیں ایجاد کرتا ہے۔

سعودی عرب نہیں چاہتا ہے کہ جن ممالک سے ان  کی سیاسی مشکل ہے وہ مضبوط ہوں لہذا اس ملک نے ہمیشہ یہی راگ الاپا ہے کہ حج ایک معنوی عبادت ہے نا کہ سیاسی ، وہ  اس عباد ت سے فردی  سود معنوی  پر زور دیتا ہے ایک اجتماع کی حیثیت سے اسے نہیں دیکھتا ہے ،سعودی حکومت نے کبھی بھی کو ئی علمی نشست برقرار نہیں کی  کہ جس میں مسلمانوں کی مشکلات کے بارے میں بات ہو علاقے کی مشکلات پر تبادلہ خیال ہو ،بلکہ اگر کو ئی نشست ہو ئی بھی ہے تو اس نشست کے اختتام پر اپنے مد مقابل ممالک کے لئے حکم نامہ ہی صادر کیا ہے ، ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ سعودی حکام نے میانمار یا نائیجریا یا یمن کے بارے میں کو ئی اجلاس کیا ہوکہ جس میں ان کی مشکلات کے بارے میں کو ئی بات چیت ہو ئی ہو، ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ حج کے ختم ہو تے ہی اگر کو ئی ایرانی شخص کسی دوسرے عام شخص سے ملتا ہے تو سعودی پولیس اسے پکڑ لیتی ہے ، اس بنا پرحج کے بعض اہداف  ان شرائط میں محقق نہیں ہو تے ، ریاض حج کے زمانے میں دعائے کمیل پڑھنے میں رکاوٹ ڈالتاہے کیونکہ یہ کس بھی قسم کا اجتماع کرنا نہیں چاہتا ہے کیونکہ جب ملیں گے ایک ارتباط ہوگا ،حج کے اہداف محقق ہوں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ“سعودی  عرب اپنے اہداف میں پیچھے ہٹنے والا نہیں اور اس ملک سےکوئی بھی سیاسی مذاکرہ حج کے اہداف کے حصول کی راہ  کونہیں پا سکتا ، سعودی عرب سے بات چیت صرف مکہ میں  داخلے  کا امکان مہیا کرنا ہے  آج سعودی عرب  بری طرح سے امریکہ سے وابستہ ہے اور ٹرمپ کے دورے کے بعد یہ وابستگی اور زیادہ ہو چکی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک نے اس  سلسلے میں کو ئی خاص کوشش نہیں کی، ریاض پر کسی قسم کا اثر ڈالنے کی کوشش نہیں کی اور اس وقت سعودی عرب حج کی مراسم کو معین کررہا ہے کہ کس طرح اور کس نے حج انجام دینا ہے ،جبکہ ایسا نہیں ہوناچاہیےجبکہ ہم اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ ملک حجاج کو امن فرہام کرنے میں ناکام رہااور کسی ملک کو اس نےکو ئی جواب نہیں دیا، جبکہ مسلم ممالک اس سلسلے میں اس پر دباؤ ڈال سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا،بلکہ اس سلسلے میں سعودی حکومت نے اپنی فکر کو ان ممالک میں  ٹھونسا ،ہونا یہ چاہیے تھا کہ اسلامی ممالک کی شرائط قبول کرتا لیکن حج سعودی حکومت کی شرائط پر ہوتا ہے، اسلامی ممالک کو اس سلسلے میں ایک اتحاد ایجاد کرنا چاہیے ،تاکہ حج کی موثر شرائط معین ہو ں سکیں۔
Share/Save/Bookmark