جنوبی ایشیا میں تباہ کن سیلاب
جنوبی ایشیا میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات سے بچاو کی ضرورت ہے۔ "یونیسف "
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۱۳ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۲۰
موضوع نمبر: 282290
 
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارہ " یونیسف " کے مطابق جنوبی ایشیا میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات سے بچاو کے لیے انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارہ " یونیسف " کے مطابق جنوبی ایشیا میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات سے بچاو کے لیے انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اطلاعات کے مطابق یونیسف کی جنوبی ایشیا کے امور کی  ڈائریکٹر ڑاں گوف نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب سے بچوں نے اپنے گھر، اسکول حتیٰ کہ اپنے دوست کھو دیئے ہیں۔گوف نے کہا کہ کیونکہ مون سون کی شدید بارشیں ابھی جاری ہیں اس لیے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

یونیسف کے بیان کے مطابق سیلاب کی وجہ سے اگست کے وسط کے بعد سے اب تک بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 13 سو افراد ہلاک اور چار کروڑ 50 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔نیپال، بھارت اور بنگلہ دیش میں گزشتہ دو ماہ کے دوران آنے والے سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔

جنوبی ایشیا میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے کی حکومتیں ہر سال آنے والے مون سون موسم کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب طور پر تیار نظر نہیں آتی ہیں۔
Share/Save/Bookmark