پاکستان کے اندار طاقت وار لوگوں کا احتساب ممکن بھی ہے اور شروع بھی ہوگیا ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۳۰ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۲۶
موضوع نمبر: 280463
 
علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، انہوں نے بہت ہی کم عرصہ میں قیام کرکے پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور کافی عرصہ سے ملت میں پائی جانیوالی عدم فعالیت اور سکوت کو توڑا۔ علامہ ناصر عباس جہاں ملت تشیع کو میدان عمل اور سڑکوں پر لیکر آئے، وہیں سیاسی حوالے سے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اسکے علاوہ شیعہ سنی اتحاد کے حوالے سے عملی کوششیں کر رہے ہیں۔ 

سوال: نواز شریف نااہل ہونیکے بعد جے ٹی روڈ پر مارچ کرتے ہوئے لاہور پہنچے ہیں اور سپریم کورٹ پر کڑی تنقید کی ہے۔ اس سارے معاملے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: جی میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ کے نادر واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ پنجاب کا وزیراعظم پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچوں ججز کے ہاتھوں پہلی بار نااہل ہوا ہے اور اس کے خلاف پہلا عدالتی فیصلہ آیا ہے۔ نواز شریف کو اپنے دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا، تاکہ اس حوالے سے کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی رنہ رہے۔ میرے خیال کے مطابق یہ پاکستان کے نادر اور منفرد واقعات سے ایک ہے، اس سے یہ اندازہ ہو چلا ہے کہ پاکستان کے اندار طاقت وار لوگوں کا احتساب ممکن بھی ہے اور شروع بھی ہوگیا ہے۔ 

دوسری بات یہ بھی ہے کہ بلآخر حکمرانوں کے پاس حکمرانی اور حکومت کرنے کی اخلاقی بنیادیں بھی ہونی چاہیئے، مہذب معاشروں میں حکومت کرنے کی اخلاقی اقدار بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، لہٰذا ایک وزیراعظم جھوٹ بولے اور اس کا جرم ثابت ہو جائے تو پھر وہ شخص قابل اعتماد نہیں ہوسکتا، جھوٹ بولنے والے وزیراعظم کو سزا ملنا ایک نیک شگون ہے، سپریم کورٹ نے ان سب کے خلاف نیب کو ریفرنس دائرے کرنے کے لئے ایک ٹائم دیا ہے اور ایک جج کو نگران مقرر کیا ہے اور فیصلے کے لئے ایک ٹائم بھی دے دیا ہے۔ پاکستان میں یہ ہوتا رہا ہے کہ کیس جب کورٹ میں جاتا ہے تو  اس کو نمٹانے میں اتنا طولانی عرصہ لگ جاتا ہے کہ سالہا سال گزار جانے کے باوجود بھی فیصلے نہیں ہو پاتے، یہ ایک طاقتور آدمی کا احتساب تھا، اس کے ٹائم کی حد رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ خود عدالت کے اندار بہت بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں اور باقیوں کو بھی یہ پیغام ہے کہ پاکستان کے اندر اخلاقی گراوٹ کا شکار اور کرپٹ سیاسی لوگوں کے احتساب کی باری آنے والی ہے۔

اب طے ہو رہا ہے کہ جس جس نے سرکاری آفس کو ہولڈ کرنا ہے، اُس بندے نے جواب دہ ہونا ہے، یہ ایک نیک شگون ہے۔ وہ لوگ جن کا ماینڈ سیٹ جمہوری نہیں ہے بلکہ یہ ہمیشہ گٹھ جوڑ کرکے جمہوریت کے نام پر مسلط ہوتے ہیں، اب ان کا احتساب شروع ہوگیا ہے، نواز شریف صاحب 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی کرکے اقتدار میں آئے، 2013ء کے الیکشن پر تمام سیاسی پارٹیوں کا اتفاق تھا کہ یہ آر اوز کا الیکشن تھا۔ دھاندلی کرکے عوامی ووٹوں اور رائے کی بیحرمتی کی گئی۔ یہ Managed الیکشن تھا، اس عمل میں عالمی طاقتیں اور ملک کے اندر سابق آرمی چیف جنرل (ر) کیانی برابر کے شریک تھے، جس کے نتیجے میں رزلٹ یہ نکلا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی، کراچی میں ایم کیو ایم، بلوچستان پٹھان اور بلوچ قوم میں تقسیم کر دیا گیا، اسی طرح پنجاب تھالی میں ڈال کر نون لیگ کو دے دیا گیا۔ یہ طے شدہ الیکشن تھا، جس میں عالمی قوتیں شامل تھیں۔ تیسری دنیا میں مشہور اور عوامی نمائندے کو عالمی طاقتیں نہیں آنے دیتیں، اس کا راستہ روکا جاتا۔ جن کو یہ لیکر آتے ہیں وہ چھوٹے دماغ کے مالک، ناک کے نیچے نہ دیکھنا اور کون آدمی ہوتا ہے۔ ایسا آدمی پھر اپنے ذاتی مفادات پر ملکی مفادات قربان کر دیتا ہے۔ اس کے بزنسز بڑھتے رہتے ہیں جبکہ عوام غریب ہو جاتے ہیں۔

سوال: کیا آپکو لگ رہا ہے کہ اب سب کا بے رحمانہ احتساب ہوگا۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: اب ان کو اندازہ ہوگیا ہے، یہ جو احتساب کا عمل شروع ہوا ہے اور اب ان کے خلاف ریفرنسز دائر ہونے والے ہیں تو نیب والے ان کی ہر چیز سامنے لے آئیں گے۔ نواز شریف کیساتھ منسلک کرپٹ ٹولہ سمجھتا ہے کہ احتساب کا عمل نواز شریف کی حد تک ہی رک جانا چاہیئے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اپنی باقی ماندہ دمڑی اور چمڑی بچانے کے لئے سڑکوں پر آیا ہے۔ لوگوں کے سامنے جھوٹ بولنے اور عدلیہ پر پریشر ڈالنے کے لئے سب کیا جا رہا ہے۔ جے ٹی روڈ پر ان کا احتجاج ناکام ہوگیا ہے، انہوں نے حکومتی مشینری خرچ کرکے لوگوں کو نکالا ہے، زیادہ تر ملازمین تھے، عوام نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔

سوال: میاں صاحب نے جی ٹی روڈ پر ایک ہی سوال 21 مرتبہ دھرایا ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟، کیا پانامہ کیس میں اسکا جواب موجود نہیں۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: جی بالکل، نواز شریف اب کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، مجھے کروڑوں لوگوں نے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا ہے اور پانچ ججوں نے نکال دیا ہے، ایک سوال ہے کہ اگر ایک حاکم وقت ہو اور وہ کسی بےگناہ کو قتل کر دے اور عدالت اس کو پھانسی کا حکم دیدے تو کیا وہ یہ سوال اٹھانے کا مجاز ہے کہ مجھے کیوں پھانسی لگا رہے ہو؟، ظاہر ہے کہ عوام کا مینڈیٹ کسی کو قتل کرنے کیلئے نہیں دیا جاتا، فرض کریں، آپ کو عوام نے منتخب کیا ہو، حالانکہ ایسا ہے نہیں، سب سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ تم جعلی وزیراعظم تھے، آپ کو کس نے یہ اختیار دیا تھا کہ جھوٹ بولو، کرپشن کرو وغیرہ۔ آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ نے سپریم کورٹ سے جھوٹ بولا ہے، آپ نے کرپشن کی ہے، آف شور کمپنیاں بنائی ہیں، ان کمپنیوں کے تم مالک تھے، اپنے آپ کو الزامات سے صاف نہیں کر پائے تو اب کہہ رہے ہو کہ مجھے کیوں نکالا ہے۔؟ آپ کا جرم صاف اور واضح ہے، جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں آپ مجرم ثابت ہوئے ہیں، اس لئے آپ کے اوپر ریفرنس دائر ہو رہے ہیں۔

سوال: نواز شریف ججز کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں، اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: نواز شریف نہیں چاہتا پاکستان کا عدالتی نظام بہتر اور طاقتور ہو، یا اس ملک میں قانون اور آئین کے مطابق فیصلے ہوں، یہ چیزیں نواز شریف کو برداشت نہیں ہیں، یہ سمجھتے تھے کہ ان کے بعد ان کی بیٹی حکومت کرے گی۔ اب پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ آپ کو کیوں نکلا ہے، لہٰذا اتنا معصوم بننیں کی کوشش نہ کریں۔ نواز شریف صاحب آپ کو ہر بات کا پتہ ہے، دوسرا نواز شریف کو اس بات کا بھی غصہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کی طرح موجودہ جنرل نے اس کا ساتھ کیوں نہیں دیا، جیسے ڈان لیک کا مسئلہ ہوا تو راحیل شریف نے یہ معاملہ حل کرایا۔ اب یہ چاہتا تھا کہ جنرل باجوہ بھی یہ مسئلہ حل کرواتے۔ یہ چاہتا تھا کہ ایم آئی اور آئی ایس آئی کے دونوں ممبرز اس کے حق میں فیصلہ کرتے۔ اس کے گناہوں کو چھپاتے۔

سچ یہ ہے کہ ان کو خدا نے پکڑا ہے۔ انہوں نے ماڈل ٹاون میں ظلم و بربریت کی نئی مثال قائم کی، چودہ افراد کو دن دیہاڑے شہید کرایا، خواتین کے منہ میں گولیاں مروائی گئیں۔ یہ وہ آدمی ہے جس کے اُسامہ بن لادن کے ساتھ رابطے تھے، آپ اسٹبشلمنٹ سے پیسے لے کر الیکشن لڑتے آئے ہیں، آپ کبھی جمہوری نہیں تھے، آپ کو ان پر یقین ہی نہیں تھا۔ نواز شریف چاہتا ہے کہ عدلیہ کو کمزور کیا جائے۔ میرا ایک سوال ہے کہ اگر کوئی بندہ قتل کرے اور عدلت اس کے خلاف فیصلہ دے تو کیا قاتل سڑک پر آجائے اور احتجاج شروع کر دے کہ فیصلہ میرے خلاف کیوں آیا۔؟ بھائی سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے، اس نے فیصلہ دینا ہے۔ اس نے حق، سچ اور قانون کے مطابق عدل کرنا ہے۔ آپ کا جی ٹی روڈ پر پٹواریوں، مالیوں، مزدورں کا شو تھا، جو ناکام ہوگیا۔ پاکستان کے عوام آپ کے ساتھ نہیں ہیں، آپ کے ہاتھ سے ہر چیز ایسے نکل گئی ہے جسے مٹھی سے ریت نکلتی ہے۔

سوال: اپنی تقریروں میں میاں صاحب ووٹ کی حرمت اور تقدس کی بات کر رہے ہیں۔ کیا یہ بات غلط ہے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: سوال یہ ہے کہ میاں صاحب نے خود کب ووٹ کی حرمت کا خیال رکھا؟، جب یہ جنرل کیانی کے ساتھ ملکر پاور میں آئے، جب یہ پنجاب میں وزیراعلٰی تھے، جب یہ ضیاءالحق کے ساتھ ملکر جونیجو کی حکومت کو گرا رہے تھے، اس کا ساتھ دیا تھا، اس وقت ووٹ کے تقدس کی پامالی نہیں کر رہا تھا؟۔ 90ء میں جب یہ بےنظیر کی حکومت کو گرا رہا تھا، تب یہ ووٹ کی کون سی حفاظت کر رہا تھا۔؟ 1996ء میں پھر یہ سازش کا حصہ تھا۔ میاں صاحب آپ ہر سازش میں شریک رہے ہیں، آپ کو کبھی بھی ووٹ کے تقدس کا خیال نہیں آیا۔ پہلے پرائیوٹ میڈیا نہیں تھا، اب تو کئی چینلز آگئے ہیں، اب جھوٹ نہیں چل سکتا۔ اب یہ اپنی مرضی کی رائے عامہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔ آپ ووٹ کے تقدس کی بات کر رہے ہیں، جبکہ آپ نے پارلیمنٹ کو کتنی اہمیت دی۔؟ چار سال کے اندر سینیٹ میں ایک بھی حاضری نہیں، قومی اسمبلی میں 6 فیصد حاضری دی۔ کیا اس کو اہمیت کہتے ہیں۔؟ میاں صاحب جمہوریت اس کو نہیں کہتے، بلآخر پارلیمنٹ کو اہمیت دینے سے مراد عوام کی آواز کو مضبوط اور توانا بنانا ہوتا ہے۔ آپ نے داخلہ اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا۔ عوام کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ جب آپ سعودی بادشاہ سے یمن کے لئے فوج دینے کے وعدہ کرکے آئے تھے، کیا یہ جمہوریت تھی؟ میرے خیال میں آپ بادشاہ ہیں اور بادشاہ کے منہ سے جمہوریت کا لفظ عجیب لگتا ہے۔

سوال: میاں صاحب کی رخصتی کے بعد کہا جا رہا ہے کہ بعض ممالک کا ساتھ نہیں دیا، اس لئے یہ انجام ہوا۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں پاکستان کی فارن پالیسی بہت اہم ہے، ہم کسی ایسے اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، جو سعودی اور امریکہ کا اتحاد کہلائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان 20 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک ہے، اس کی ایک اپنی شناخت ہے، یہ حکمران قطر اور سعودی کے ساتھ چلتے ہیں، یاد رہے کہ یہ کوئی ملک نہیں ہیں، یہ چھوٹے چھوٹے شہر ہیں، ہمیں اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی، دیکھیں پالیسی تبدیل کئے بغیر اس بحران سے نہیں نکل سکتے۔ آپ نے دیکھا کہ پوٹن نے اپنی پالیسی تبدیل کر دی، اس نے امریکہ سمیت سب طاقتوں کو واضح پیغام دے دیا کہ اب ہم کسی ملک کی سرحد نہیں توڑنے دیں گے۔ اس چیز نے پیوٹن کو اور مضبوط بنا دیا ہے، خطے میں روس کا کردار نکھر کر سامنے آگیا ہے۔ پاکستان کو بھی یہ پالیسی اختیار کرنی ہوگی، ہم چاہتے ہیں کہ چین، روس، ایران ایک بلاک بن جائیں، ہم بھی اس طرف چلے جائیں، امریکہ سے دور رہنا ہوگا۔ امریکہ دہشتگردی کی ماں ہے، جہاں سے دہشتگردی شروع ہوتی ہے، جہاں سے داعش کو مدد ملتی ہے۔ داعش امریکہ اور سعودی عرب کی کھوکھ سے نکلی ہے، اس لئے پاکستان کو ان ممالک کے اتحاد سے نکلنا ہوگا، ہمیں چاہیئے کہ ہم پاکستان میں قوم بنیں، اسے مضبوط کریں، ایسے لوگوں کو حکومت میں لائیں جو ویژن رکھتے ہیں، جو ملک کو آگے لے جا سکتے ہوں، جو بکے ہوئے نہ ہوں، جو ملکی مفادات کا تحفظ کرسکتے ہوں۔ اس وقت اس ملک میں ایک ہی ادارہ سپریم کورٹ ہے، اسے بھی سیاست دان تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی ایک قوم بنیں اور پاکستان میں بسنے والی اقوام اپنے اتحاد کے ذریعے گلدستے کا منظر پیش کریں۔ ہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔

سوال: نئے بیانیہ کی بات کی جاتی ہے۔ جبکہ آپکی آواز اقبال اور جناح کا پاکستان ہے۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: مجلس وحدت مسلمین نے واضح کہا ہے کہ ہمیں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح والا پاکستان چاہیئے، سبز ہلالی پرچم ولا پاکستان چاہیئے، جہاں تقسیم نہ ہو، جہاں فرقہ واریت نہ ہو، جہاں امتیازی سلوک نہ ہو، جہاں مذہبی رواداری ہو، ایسا پاکستان چاہیئے۔ یہ ہمارا بیانیہ تھا اور ہے، وہ بیانیہ جو اقبال اور جناح کا بیانیہ ہے۔ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں۔ اس وقت اس بیانیہ کو بیان کرنے کی ضرورت ہے، وہ لوگ جو قوم کو کنفیوژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں ناکام بنانا ہوگا۔ یہ نیا بیانیہ کیا چیز ہے۔؟ ہمارے پاس اقبال اور قائد اعظم کا بیانیہ موجود ہے۔ ان شاء اللہ ہم اس حوالے سے اپنا رول ادا کر رہے ہیں اور مزید کریں گے۔

سوال: ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مرتبہ پھر ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی ہے، عمران خان کی حکومت ہے، جو آپکے قریب سمجھے جاتے ہیں، اسکو رکوانے کیلئے کیا اقدامات ہو رہے ہیں۔؟

علامہ ناصر عباس جعفری: جی بالکل، کے پی کے کے اندر ہمارے لوگ شہید ہوتے رہتے ہیں اور ہو رہے ہیں، وہاں اہل تشیع کی جان و مال غیر محفوظ ہے، عمران خان کو اس میں دلچسپی لینی چاہیے، آپ یہاں سے اندازہ لگائیں کہ وہاں کا وزیراعلٰی کبھی ڈیرہ اسماعیل خان نہیں گیا، اس کے وزیر کبھی شہیدوں کے گھر نہیں گئے، کوئی مذمتی بیان تک نہیں آتا۔ میرے خیال میں عمران خان کی یہ بڑی کمزوری ہے، یہ پالیسی ان کے لئے بہت بڑا مسئلہ بنائے گی، ان کو اس پر کام کرنا ہوگا۔ ایک بات واضح کروں کہ ہماری کسی سے رشتہ داری نہیں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ عمران خان کی پارٹی کو کوئی تکلیف ہو، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے، یاد رکھیں کہ ہم عمران خان کو عوامی عدالت میں لا کھڑا کریں گے، عجیب نہیں ہے کہ ہم عید پر بھی لاشیں اٹھائیں اور دھرنا دیں اور 14 اگست کو قوم آزادی منا رہی ہے اور ہم لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ عمران خان اس پر جواب دہ ہیں۔ اس سے پہلے وہاں جیل ٹوٹی، اس کی ذمہ داری عائد کرنی چاہیئے تھی، لیکن اس حوالے سے کچھ نہیں کیا گیا، اس جیل میں ایک شیعہ کو مار دیا گیا، اگر نواز شریف سے عوام دور ہوسکتے ہیں تو عمران خان عوام کے چچا کا بیٹا نہیں ہے، جب اس سے صوبہ نہیں کنٹرول ہوسکتا تو مرکز کیسے کنٹرول کرے گا۔ باقی سکیورٹی ادروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ وہاں امن و امان کے قیام کیلئے مضبوط کردار ادا کریں، ایک چھوٹا شہر جس کی تین سڑکیں ہیں، اس کو وہ کنٹرول نہیں کرسکتے۔

بشکریہ:اسلام ٹائمز
Share/Save/Bookmark