برما کی موجودہ صورتحال پر امام خامنہ ای کی شدید مذمت
یہ مسئلہ واقعا ایک بڑا مسئلہ اور گھناونی سازش ہے/ مسلمان حکومتیں عملی طور پر مداخلت کریں
جمہوری اسلامی کو چاہئے کہ وہ ظلم کے خلاف واضح طور پر اپنی آواز بلند کرنے کا حقیقی امتیاز باقی رکھے، یہ ظلم چاہے صیہونیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں ہو، چاہے یمن میں وہاں کی عوام پر بمباری کی صورت میں ہو، چاہے بحرین میں ہو، چاہے دنیا کے کسی بھی علاقے جیسے میانمار میں ہو۔ ان تمام مسائل میں جمہوری اسلامی کو اپنے شجاعانہ موقف کو واضح انداز میں اپنانا ہو گا
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۱ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۱۲
موضوع نمبر: 283379
 
 رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ امام سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ نے اب سے چند گھنٹے پہلے اپنے فقہ و اصول کے درس خارج میں برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ آپ نے کہا کہ یہ مسئلہ واقعا ایک بڑا مسئلہ اور گھناونی سازش ہے۔ اسلامی ممالک، اسلامی حکومتوں، ڈیڑھ ارب مسلمانوں، بین الاقوامی نام نہاد انسانی حقوق کے ادراوں اور ریاکار جھوٹی انسانی حقوق کی مدافع حکومتوں کی آنکھوں کے سامنے ایک بے رحم حکومت بے گناہ عوام کا قتل کر رہی ہے، آگ لگا رہے ہیں، لوگوں کو بے گھر کر رہے ہیں۔ حقیقتا یہ ایک عجیب واقعہ ہے اور حقیقی معنا میں اس واقعے سامنے کوئی قابل ذکر عکس العمل بھی دیکھنے میں نہیں آرہا۔

اس کا راہ حل یہ ہے کہ مسلمان حکومتیں عملی طور پر مداخلت کریں، ہم نہیں کہتے کہ فوجی لشکر کریں، لیکن سیاسی دباؤ لے کر آئیں، اقتصادی طور پر اپنا دباؤ بڑہائیں۔ بین الاقوامی اداروں میں ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ آپ نے ایرانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری اسلامی کو چاہئے کہ وہ ظلم کے خلاف واضح طور پر اپنی آواز بلند کرنے کا حقیقی امتیاز باقی رکھے، یہ ظلم چاہے صیہونیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں ہو، چاہے یمن میں وہاں کی عوام پر بمباری کی صورت میں ہو، چاہے بحرین میں ہو، چاہے دنیا کے کسی بھی علاقے جیسے میانمار میں ہو۔ ان تمام مسائل میں جمہوری اسلامی کو اپنے شجاعانہ موقف کو واضح انداز میں اپنانا ہو گا۔

آپ نے میانمار میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کے واقعے کو صرف بودائی اور مسلمانوں میں لڑائی جھگڑے کی حد تک کم کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ ممکن ہے اس واقعہ میں بودائی مذہبی تعصب موجود ہو، لیکن یہ مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ چونکہ اس مسئلہ کو ایجاد کرنے والی وہاں کی حکومت ہے، برما کی حکومت ہے۔ اس ملک کی حکمرانی بے رحم عورت کے ہاتھ میں ہے کہ جو نوبل امن ایوارڈ لے چکی ہے لیکن ان واقعات کے بعد درحقیقت نوبل امن ایوارڈ کی موت واقع ہو چکی ہے۔
Share/Save/Bookmark