ولایت علی علیہ السلام ایمان کی علامت ہے/ بشارت عظمٰی کانفرنس میں علمائے کرام اور ذاکرین کا بیانیہ
توحید، نبوت اور امامت کی توہین کرنیوالا استعماری ایجنٹ ہوسکتا ہے، شیعہ نہیں
عزاداری کیلئے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں، یہ ہمارا آئینی حق ہے، مدارس پر چھاپے اور مجالس عزا منعقد کروانے پر ایف آئی آرز کا اندراج قابل مذمت ہے
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۳ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۶:۳۲
موضوع نمبر: 278096
 
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ ریاض حسین نجفی کی زیر صدارت جامعۃ المنتظر میں بشارت عظمٰی کانفرنس میں ملک بھر سے علماء و ذاکرین اور بانیان مجالس نے واضح کیا ہے کہ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ اور شرک کرنیوالا مرتد ہے، باطل عقیدہ تفویض (سپردگی) سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ہم شیعہ اثناء عشریہ شرک کا ارتکاب کرنیوالوں اور ان کے سہولت کاروں سے برائت کا اعلان کرتے ہیں، ہم ختم نبوت اور امامت پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں جبکہ ولایت علی علیہ السلام کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض کو نفاق کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ شیعہ فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتے ہیں، فقہ اہل بیت کے ماہرین کی طرف رجوع کرکے ہی فقہ جعفریہ پر عمل ممکن اور نسبت درست ہوتی ہے، غیر مقلد (اگر خود مجتہد نہیں) فقہ جعفریہ کا پیروکار نہیں ہوسکتا۔ اعلامیہ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سید الشہداء کو ولایت اہلبیت کا اقرار اور ان کے دشمنون سے بیزاری کا اعلان سمجھتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ نماز دین کا ستون ہے، جس کے پاس نماز نہیں، اس کی کوئی نیکی قبول نہیں اور جو اللہ کی بندگی نہیں کرتا، وہ رسول کی امت اور علی ؑ کا شیعہ نہیں ہوسکتا۔

کانفرنس سے علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ محمد تقی نقوی، علامہ افتخار نقوی، علامہ محمد افضل حیدری، علامہ سبطین سبزواری، علامہ محمد شفا نجفی، کرم علی حیدری، علامہ محمد امین شہیدی، مولانا ضمیر نقوی، ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، شبیہہ رضا زیدی، نوبہار شاہ اور ذاکرین ثقلین گھلو، مزمل شاہ، اقبال ناصر چانڈیہ، اعجاز جھنڈوی، مفتی عابد اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ سٹیج حسینی کا تحفظ کرنا ہوگا، شرک کا ارتکاب کرنیوالے شیعہ نہیں ہوسکتے، یہ نصیری اور استعماری ایجنٹ ہیں، جو سازش کے تحت ملت جعفریہ کو تقسیم اور بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ علامہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ دعوت اسلام کیساتھ ہی سب سے پہلے توحید اور پھر نماز کا حکم آیا، پہلے نمازی خاتم الرسل حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا تھیں، جو ان سے تعلق رکھتا ہے، نماز ترک نہ کرے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ تشیع کے نام پر سٹیج سے کفریات بکی جا رہی ہیں، وحی الٰہی، توحید اور نبوت کا انکار کیا جانا کسی صورت قبول نہیں، اس بحران کا خاتمہ صبر و تحمل اور حکمت سے کریں گے۔ انہوں نے اتحاد ملت جعفریہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تشیع کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی نفی قبول نہیں۔ اتحاد کیلئے مشترکات اور فارمولا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاکرین کا عزاداری کے فروغ میں بڑا کردار ہے، سٹیج حسینی پر کفریات بکنے والوں کا بزرگ ذاکرین کو محاسبہ کرنا چاہیے تھا۔

علامہ ساجد نقوی نے ہدایت کی کہ بحران پیدا کرنے والوں کو سمجھایا جائے، کسی قسم کا تصادم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کیلئے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں، یہ ہمارا آئینی حق ہے، مدارس پر چھاپے اور مجالس عزا منعقد کروانے پر ایف آئی آرز کا اندراج قابل مذمت ہے۔ علامہ محمد تقی نقوی نے کہا کہ توحید، نبوت اور امامت کی توہین کرنیوالا استعماری ایجنٹ ہوسکتا ہے، شیعہ نہیں۔ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا کہ حزب اللہ لبنان کے ہاتھوں اسرائیل کی عبرتناک شکست کے بعد غالی اور نصیری پیدا کئے جا رہے ہیں، تاکہ مکتب اہل بیت کو بدنام اور تقسیم کیا جائے۔ علامہ سبطین حیدری سبزواری نے شیعہ اثناء عشریہ کا غالیوں اور نصیریوں سے کوئی تعلق نہیں، ہمیں دین عزیز ہے، کسی سے رشتہ ناطہ نہیں۔ علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد ذاکرین پر تنقید نہیں، ان میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی ہے۔ تقاریر کی بجائے، انحرافات روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ذاکر اہلبیت ثقلین گھلو نے کہا کہ ذاکرین کی تربیت کیلئے مدرسۃ الواعظین بنایا جائے۔
Share/Save/Bookmark