شہید محسن حججی کا اپنے بیٹے کے نام وصیت نامہ
میں نے تم سے اور تمہاری ماں سے وابستگی ختم کردی تاکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا نوکر بن سکوں
بعض اوقات جب ہم بہتر چیزوں سے وابستگی ختم کردیتے ہیں تو اس سے بھی بہتر ہمیں حاصل ہوتی ہے
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۲ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۴:۰۰
موضوع نمبر: 279300
 
تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے ہاتھوں اسیر ہونے کے بعد ذبح ہونے والے جواں سال شھید محسن حججی کی اپنے دوسالہ فرزند کے لیے وصیت۔

سلام علی آقا.. 
سلام میرے پھول سے بیٹے. 
سلام میری جان. 
صرف چند جملے تم سے کہنے ہیں. 
مجھے معاف کردینا تمہیں چھوٹی سی عمر میں چھوڑ کرکے چلا گیا. 
لیکن بیٹا اگر ہم نہیں جاتے تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کی ھتک حرمت کی جاتی. یا خدا ناخواستہ ایک بار پھر شام قید خانے میں تبدیل ہوجاتا. 
علی آقا! میں اس راہ میں سربلند ہونا چاہتا تھا. 
میرا دل چاہتا ہے... 
ایک بار امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے اور ایک بار آپ علیہ السلام کے ظہور کے بعد شھادت کا فیض حاصل کروں. اور یہ میرے لیے سعادت کا باعث ہوگا کہ دو بار شھادت کا فیض حاصل کروں. 
انشاءاللہ میں اپنی اس آرزو کو حاصل کرلوں گا. 
پھر بھی خدا کی رضا پہ راضی ہوں. 
علی جان! معاشرہ گناہوں سے آلودہ ہوتا جارہا ہے. فساد بڑھتا جارہا ہے. 
آج کے معاشرہ میں گناہوں سے بچنا؛ گذشتہ زمانے کی نسبت کہیں سخت ہے. 
جتنا امام کا ظہور نزدیک ہوگا فتنہ و فساد بڑھتا رھے گا. شیطان طاقتور ہوتا چلا جائے گا. 
میرے بیٹے اپنا بہت خیال رکھنا. 
اپنی ماں کا بھی بہت خیال رکھنا. 
میں نے تمہارا نام علی رکھا ہے تاکہ تمہارے مولا تمہارے آقا  تمہارے رھبر علی ع ہوں. 
تمہارا رستہ علی ع کا راستہ ہو. 
اس طرح علی ع کی سیرت پر چلنا کہ تمہارا نام امام زمانہ علیہ السلام کے سپاہیوں میں لکھ دیا جاے. 
بچپن سے ہی اپنے اوپر کام شروع کردینا. 
انتخاب درس میں، انتخاب زندگی میں، انتخاب دوست میں ہر مقام پر بہت خیال کرنا. 
میں ہمیشہ تمہارے نزدیک ہوں 
تمہاری یاد میں ہوں. 
اگر شھید ہوگیا تب بھی زندگی کے ہر موڑ پر تمہارے شانہ بشانہ رہوں گا. 
تمہیں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا. 
اور اگر شھید نہیں ہوا تو تمہارے پاس آجاوں گا اور تمہارے بڑے ہونے تک تمہارا سایہ بن کے رہوں گا. 
علی جان! میں نے یہ باتیں اس لیے ریکارڈ کی ہیں کہ جب تمہارا دل بابا کی آواز سننے کو چاہے تو یہ آواز تمہارے پاس ہو. 
یاد رکھو  میں تمہیں بہت چاہتا ہوں. تمہیں بھی اور تمہاری ماں کو بھی. 
اپنا خیال رکھنا. 

بعض اوقات جب ہم بہتر چیزوں سے وابستگی ختم کردیتے ہیں تو اس سے بھی بہتر ہمیں حاصل ہوتی ہے۔
میں نے تم سے اور تمہاری ماں سے وابستگی ختم کردی تاکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا نوکر بن سکوں. 
اور میری تمنا ہے کہ خداوند اس سفر میں میری ہمراہی فرمائے گا. 
ایسی زندگی گزارنے کی کوشش کرنا کہ خدا تمہارا عاشق ہوجائے. 
اور اگر خدا تمہارا عاشق ہوگیا تو تمہیں بہترین داموں خرید لے گا. 
اپنا خیال رکھنا اور دعا کرنا کہ میں بھی اپنی آرزو کو پہنچ جاوں. 
Share/Save/Bookmark