تاریخ شائع کریں۳۱ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۱:۲۶
خبر کا کوڈ : 466564

چین اور بھارت کشیدگی میں روز بروز اضافہ

بھارت پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوجیوں کی رہائی کے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کرے، الزامات کے بجائے بھارت خطے میں امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے
چین اور بھارت کشیدگی میں روز بروز اضافہ
جمہوریہ چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور چین نے بھارتی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بھارتی اہلکاروں کو اپنے تحویل میں لینے کے واقعے کو ہی من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے  کے مطابق چین نے انڈین آرمی کے 2 افسران اور 8 اہلکاروں کی رہائی کے بھارتی میڈیا کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری قید میں بھارتی فوج کا کوئی ایک بھی اہلکار نہیں تھا۔ بھارت جھوٹے اور بے بنیاد دعوؤں سے باز رہے۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان زاہو لیجیان نے میڈیا سے گفتگو میں 10 بھارتی فوجیوں کی رہائی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سچ اور جھوٹ نہایت واضح ہے، کوئی اہلکار ہماری قید ہی میں نہیں تھا تو رہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اب بھارت پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوجیوں کی رہائی کے دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کرے، الزامات کے بجائے بھارت خطے میں امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔

اس سے پہلے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ چین نے لداخ میں جھڑپ کے دوران گرفتار ہونے والے 10 بھارتی فوجیوں کو رہا کردیا ہے اس جھڑپ میں بھارتی فوج کے 20 اہلکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے رہائی پانے والوں میں انڈین آرمی کے دو افسران سمیت 8 اہلکار شامل ہیں۔ ان اہلکاروں کو لداخ میں ہونے والی جھڑپ کے دوران چین نے حراست میں لے لیا تھا۔ اہلکاروں کی رہائی کے لیے بھارتی فوج کے اعلیٰ حکام نے چینی فوج کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے۔

بھارتی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ چین سے رہائی ملنے کے بعد بھارتی فوج کے افسران اور اہلکاروں کا طبی معائنہ کیا گیا، تمام اہلکاروں کی صحت بہتر ہے اور انہیں چند دنوں آرام دینے کے بعد دوبارہ جوائننگ دی جائے گی۔ رہا ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
 
خیال رہے کہ لداخ کے علاقے وادی گلوان میں بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، چین کی فوج نے لداخ میں درہ قراقرم کے قریب نئی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جب کہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں چینی وزیر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ گلوان میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت علاقائی خودمختاری کے عزم کو ہلکا نہ لے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنا ہے تو فوری ہر قسم کی اشتعال انگیزی بند کرے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت بات چیت سے سرحدی تنازع کا حل چاہتا ہے جب کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کل آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی ہے۔
 
 چین سے جاری کشیدگی سے باہر نہ نکل پانے والی بھارت سرکار کے لئے اب نیپال نے بھی مشکلات کھڑی کردی ہیں اور نیپال کی صدر بدیا دیوی بھنڈاری نے گزشتہ روز نیپال کے تبدیل شدہ سرکاری نقشے کی توثیق کرتے ہوئے متعلقہ آئینی ترمیم پر دستخط کردیئے ہیں جس میں بھارت کے ساتھ 372 مربع کلومیٹر کے متنازعہ سرحدی علاقے کو بھی نیپال کی حدود میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ آئینی ترمیم گزشتہ ہفتے نیپالی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے اور بعد ازاں پیر کے روز ایوانِ بالا نے مکمل اتفاقِ رائے سے منظور کی تھی۔ تاہم اس آئینی ترمیم کے حتمی طور پر رُو بہ عمل ہونے کےلیے نیپالی صدر کی جانب سے بھی توثیقی دستخط ضروری تھے۔ گزشتہ روز یہ کارروائی بھی مکمل ہوگئی۔

نیپالی آئین میں اس ترمیم پر بھارت نے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلی تاریخی حقائق اور شہادتوں کی بنیاد پر یکسر غلط اور ناقابلِ قبول ہے۔ بھارت نیپال کے سرحدی علاقوں لمپیادھورا، لیپولیخ اور کالاپانی پر ملکیت کا دعویدار ہے۔

بھارت اور نیپال میں حالیہ سرحدی تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ماہ بھارت نے اپنی شمالی ریاست اترکھنڈ کو تبت میں چین کے زیرِ انتظام علاقے سے ملانے کےلیے 80 کلومیٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا جس کا 19 کلومیٹر طویل حصہ بھارت اور نیپال کے درمیان لیپولیخ کے متنازعہ سرحدی علاقے سے گزرتا ہے۔

بظاہر اس سڑک کا مقصد تبت میں واقع مانسروور جھیل تک پہنچنے کا راستہ مختصر کرنا ہے جسے بدھ مت اور جین مت کے علاوہ ہندو دھرم میں بھی مقدس حیثیت حاصل ہے۔

تاہم اس بارے میں نیپال کا مؤقف ہے کہ لیپولیخ کا علاقہ اس کی ملکیت ہے اور اس بارے میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1816 میں کیا گیا ہوا معاہدہ، تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ تاریخی طور پر بھی نیپال کبھی تاجِ برطانیہ کا حصہ نہیں رہا اس لیے ہندوستان کی تقسیم سے متعلق برطانوی حکومت کے فیصلے اور معاہدے بھی اس پر لاگو نہیں ہوتے۔ لہذا بھارت یہاں پر سڑکوں سمیت کسی قسم کا کوئی انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ 372 مربع کلومیٹر کا متنازعہ سرحدی علاقہ تین ممالک یعنی نیپال، چین اور بھارت کے سنگم پر واقع ہے۔ اس علاقے کے قریب ہی گزشتہ چند ہفتوں سے بھارت اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری رہی ہیں جن میں بھارت کو شدید ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس