تاریخ شائع کریں۳۰ بهمن ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۰۲
خبر کا کوڈ : 403386

بغل میں چھری منہ پر رام رام

سعودی وزارت دفاع شام اور عراق میں داعش جیسے دہشت گردوں کی مکمل پشت پناہ تھی اور ہے۔ لبنان میں تکفیری گروہ کو لانج کرنے کی تمام ذمہ داری بن سلمان کی وزارت جنگ پر عائد ہوتی ہے
بغل میں چھری منہ پر رام رام
سعودی شہزادے کے دورہ پاکستان  کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بن سلمان عمران خان کی دعوت پر پاکستان آئے، ان کا دو روزہ دورہ انتہائی کامیاب رہا، جس میں پاک سعودی تعلقات کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی گئی۔ جاری اعلامیہ کے مطابق سعودی ولی عہد کے دورہ میں دونوں ممالک کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر تشدد کے حوالے سے ولی عہد کو بریف کیا اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے دنیا بھر میں مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کی۔ خوبصورت الفاظ  اور موقف میں لپٹا یہ مشترکہ اعلامیہ الفاظ کے پیچھے چھپی منافقت اور ظلم نوازی کو برملا کر رہا ہے۔ یوں تو اس اعلامیہ کے ہر حصہ پر بحث کی جاسکتی ہے، لیکن مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت ایسے جملے ہیں، جن سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی اور علاقے کی صورتحال میں مذاکرات اور ظلم کی مذمت کا کیا معیار ہے اور سعودی عرب کیا گل کھلا رہا ہے۔

بن سلمان سعودی عرب کا ولی عہد ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع بھی ہے، لیکن جب سے اس نے وزارت دفاع کا شعبہ سنبھالا ہے، اس وزارت کا نام وزارت جنگ ہونا چاہیئے، کیونکہ اس بن سلمان کے وزیر دفاع بننے کے فوراً بعد یمن کے مظلوم شہریوں پر رات دن جدید ہتھیاروں سے حملے کئے جا رہے ہیں، سعودی وزارت دفاع شام اور عراق میں داعش جیسے دہشت گردوں کی مکمل پشت پناہ تھی اور ہے۔ لبنان میں تکفیری گروہ کو لانج کرنے کی تمام ذمہ داری بن سلمان کی وزارت جنگ پر عائد ہوتی ہے۔ قطر کا اقتصادی محاصرہ اور اس کو نت نئی دھمکیاں اسی وزارت خانے کا کمال ہے۔ بن سلمان کی وزارت جنگ نے اسرائیل کے خلاف تو ایک بیان بھی نہیں دیا، لیکن نام نہاد اسلامی فوج یا عرب نیٹو بنا کر مسلمان ممالک کو ڈرانے دھمکانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ بن سلمان اور اس کی جنگ پسند ٹیم مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی آگ میں دھکیلنے کی خواہش مند ہے، جس کا نتیجہ اسلامی ممالک کی تباہی کے علاوہ کچھ برآمد نہیں ہوسکتا۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد اگر مذاکرات کے عمل پر یقین رکھتے ہیں تو یمن میں جنگ بندی کے لئے کویت اور سویڈن میں ہونے والے مذاکرات کو ہرگز سپوتاژ نہ کرتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے بارے میں سعودی شہزادے کو بریفنگ دی، جس عمران خان نے سیاست میں آنے سے لیکر اب تک مظلوم کشمیریوں کے بارے میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا بیان نہیں دیا، اس کی بریفنگ بھی کیا ہوگی، اسی طرح جو وزیراعظم اپنے ملک کے زیرانتظام علاقوں گلگت بلتستان کو پاکستانی شہری کے حقوق دینے کے لیے کچھ نہیں کر رہا، وہ پاکستان اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے لیے کیا آواز اٹھائے گا۔ رہی بات سعودی کھلنڈرے شہزارے ایم بی ایس کی تو چند دن بعد اس نے ہندوستان کا دورہ بھی کرنا ہے، وہاں اس نے مظلوم کشمیریوں کے لئے کیا آواز اٹھانی ہے، اس کے بارے میں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ سعودیہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کرنے والی ہندو پرست حکومت میں پاکستان سے دہ گنا زیادہ سرمایہ گزاری کرنے کا اعلان کرے گا۔ بے چارہ عمران خان اور اس کی مفاد پرست ٹیم نے ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے وقار، غیرت اور داخلی و خارجی خود مختاری کا سودا کرکے اپنے اور اپنے اتحادیوں کا حال اور مستقبل دونوں کو تاریک کر دیا ہے۔
قومی فروختند و چہ ارزاں فروختند
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس