تاریخ شائع کریں2022 28 September گھنٹہ 16:43
خبر کا کوڈ : 567043

ایران میں کوئی اہم خبر نہیں ہے اور حکومت کی تبدیلی نہیں ہوگی

ایرانی وزیر خارجہ "حسین امیر عبداللہیان" نے امریکی ریڈیو این پی آر سے ایرانی نوجوان لڑکی "مہسا امینی" کی موت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امینی صاحبہ کیساتھ جو کچھ ہوا ہے ہم سب اس پر بہت افسوس کرتے ہیں۔
ایران میں کوئی اہم خبر نہیں ہے اور حکومت کی تبدیلی نہیں ہوگی
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ "ایران ایسا ملک نہیں ہے جس میں کوئی بغاوت اور انقلاب کرسکے"۔ انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں کوئی اہم خبر نہیں ہے اور حکومت کی تبدیلی نہیں ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ "حسین امیر عبداللہیان" نے امریکی ریڈیو این پی آر سے ایرانی نوجوان لڑکی "مہسا امینی" کی موت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امینی صاحبہ کیساتھ جو کچھ ہوا ہے ہم سب اس پر بہت افسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ اس طرح کے حادثات دنیا کے ہر کونے میں وقوع پذیر ہوتے ہیں بشمول سال میں امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں اس طرح کے دسیوں کیس۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس حادثے کے وقوع ہی سے صدر مملکت نے اس مسئلے کا سنجیدگی سے تعاقب کرتے ہوئے امینی کے خاندان سے بات چیت کی ہے۔ ایرانی عدلیہ بھی سنجیدگی سے اس کیس کی پیروی کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام کے خالص اور پاک جذبات کی وجہ سے، انہوں نے اس حادثے کے ابتدائی گھنٹوں میں پُرامن مظاہروں کا انعقاد کیا لیکن اس مسئلے کا خاتمہ ہوگیا ہے اور ہم سب عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ لیکن بیرون ملک میں مقیم بعض افراد نے ایرانی عوام کے خاص جذبات کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے ایرانی عوام کو پُر امن مظاہروں کو تشدد آمیز مظاہروں میں بدلنے پر اکسا رہے ہیں۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ  لیکن بڑی حیرت کی بات ہے کہ کیوں بعض امریکی حکام اس مسئلے میں مداخلت کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مہسا امینی کے انتقال کی نوعیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اب تک کے کیے گئے تحقیقات کے مطابق، ایسی دستاویزات موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مہسا امینی پہلے سے دماغی بیماری کا شکار تھی اور انہوں نے سرجری بھی کی تھی اور دوسری طرف وہ گواہ جو عدلیہ میں حاضر ہوگئے تھے انہوں نے گواہی دی ہے کہ پولیس فورسز کیجانب سے کوئی لت و کوب نہیں ہوگئی ہے لیکن اب ہم جج نہیں کرسکتے ہیں اور ہمیں عدلیہ کے سنجیدہ اور حتمی فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب میرا سوال یہ ہے وہ سیٹلائٹ چینلز جن کا انتظام لندن اندر سے کیا جاتا ہے اور بعض امریکی عہدیدار اس حادثے میں کیوں مداخلت کرتے ہیں اور اشتعال آمیز بیانات کہتے ہیں۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ دہشتگرد گروہ منافقین جن کے ہاتھوں 17 ہزار ایرانی شہریوں کے خون سے رنگین ہیں، امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے اندر، ایرانی قوم کو اکسا رہے ہیں اور اپنے عناصر کو ایران میں بھیج دیتے ہیں۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ایک ایسا ملک نہیں ہے جس میں کوئی بغاوت اور انقلاب کر سکے۔ ایرانی عوام بہت عقلمند ہیں۔ مظاہرے اور کشیدگی پیدا کرنے میں بہت فرق ہے۔ ہم ایران میں عوام کے مطالبات پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ لیکن وہ افراد جن کو ملک میں خلل ڈالنے کا ارادہ ہے، اور بیرون ملک عناصر کے زیر اثرات ہیں، کیخلاف اپنے قوانین کے مطابق کاروائی کریں گے۔

 انہوں نے خواتین کے لباس کے قوانین میں تبدیلی کی بعض درخواستوں کے بارے میں  پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ممالک میں فریم ورک، قوانین، ضوابط اور اقدار ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں مکمل جمہوریت ہے۔ وہی صورتحال جو آپ ایران میں دیکھ رہے ہیں ایران میں جمہوریت کے وجود کو ظاہر کرتی ہے۔ آئیے عدلیہ کے نتیجے کا انتظار کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دیگر ممالک بشمول بعض مغربی ممالک کو کیوں ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق اظہار رائے کرنا ہوگا؟ ان مسائل کے درمیان کیا تعلق ہے؟

لندن میں انتظام کیے جانے والے ایک فارسی زبان سیٹلائٹ چینل، ایرانی عوام کو حکومت کا تختہ الٹنے پر اکسا رہی ہے اور مغرب سے ہدایت کردہ سائٹس کا ایک سلسلہ لوگوں کو ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد  کو ہاتھ سے بنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کیجانب سے ایران میں انٹرنیٹ کی محدویت کو دور کرنے کی مدد پر مبنی بیانات کے پیش نظر، کیا اسلامی جمہوریہ ایران، مستقبل میں انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کے قابل میں ہے، کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایرانی لوگ آزادانہ طور پر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تک ہمارا سیکورٹی اپریٹس اس بات کا تعین کرتا ہے کہ غیر ملکی غلط استعمال کی وجہ سے انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، ہم کریں گے۔

امیر عبداللہیان نے مزید کہا  کہ اگر امریکہ اور مغرب کو  ایران میں انٹرنیٹ کی صورتحال پر خدشات ہیں تو بہتر یہ ہے کہ وہ ایران میں ان بیماروں سے متعلق تشویش کا شکار ہوجائیں جن کی امریکی پابندیوں کی وجہ سے ضروری ادویات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ  مجموعی طور پر ویانا میں ہم نے مثبت اور تعمیری بات چیت کیی ہے۔اب تک ہم نے امریکی فریق کے ساتھ بہت سے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔ ہم ایک طویل سفر طے کر چکے ہیں اور اب ہم ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں کچھ لیکن اہم مسائل میز پر ہیں۔

امیرعبداللہیان نے اس بات پر زور دیا کہ ہم سفارتکاری کے راستے کو جانتے ہیں اور سنجیدہ اور پائیدار معاہدے کے حصول کیلئے بہت سنجیدہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں نے باقی حل طلب مسائل سے متعلق ایک ایسا متن کو پیش کیا ہے جن میں بہت سارے ابہامات ہیں۔ ہم نے یورپی یونین کے کوارڈینٹیر کو کہا کہ اس متن کو شفاف اور واضح طور پر پیش کرنا ہوگا۔
http://www.taghribnews.com/vdceef8nxjh8p7i.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس