تاریخ شائع کریں2022 17 August گھنٹہ 20:59
خبر کا کوڈ : 561920

خلیل زاد: اشرف غنی نہ بھاگتے تو اقتدار میں شراکت کی امید تھی

اپنے تازہ ترین بیانات میں، خلیل زاد نے کہا کہ طالبان نے حامد کرزئی سمیت متعدد سینئر سیاستدانوں سے ملاقات کے لیے کابل میں داخل نہ ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
خلیل زاد: اشرف غنی نہ بھاگتے تو اقتدار میں شراکت کی امید تھی
افغانستان کے لیے امریکا کے سابق نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اگر اشرف غنی فرار نہ ہوتے تو طالبان کی جانب سے اقتدار میں شراکت کی امید پیدا ہوتی۔

اپنے تازہ ترین بیانات میں، خلیل زاد نے کہا کہ طالبان نے حامد کرزئی سمیت متعدد سینئر سیاستدانوں سے ملاقات کے لیے کابل میں داخل نہ ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے Axios کو بتایا، "طالبان کے آنے سے پہلے ہم کسی سیاسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔"

خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان اب اقتدار میں ہیں لیکن جب تک یہ گروپ ایک جامع حکومت کی طرف نہیں بڑھتا، انہیں تسلیم نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی پابندیاں نہیں اٹھائی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے طالبان کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر دو شرائط پوری ہوئیں تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں: ’’امریکی قیدی مارک فریکس کی رہائی اور لڑکیوں کے لیے اسکول دوبارہ کھولنا‘‘۔

یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ خلیل زاد کے زیر انتظام امن عمل ایک "تباہی" تھا۔

افغانستان کے سابق صدر نے تو خلیل زاد پر اپنے جھوٹے وعدوں سے افغانستان کے سیاسی طبقے کو منتشر کرنے کا الزام بھی لگایا۔

لیکن خلیل زاد نے اشرف غنی کے ان بیانات کو بدقسمتی قرار دیا۔
http://www.taghribnews.com/vdccisqpx2bqeo8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس