تاریخ شائع کریں2022 24 June گھنٹہ 16:33
خبر کا کوڈ : 554747

جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امریکہ یوکرین کو 6 بلین ڈالر کی فوجی امداد دے رہا ہے

امریکی جریدے "فارن پالیسی" کے رپورٹر اور عسکری و سلامتی کے تجزیہ کار نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک امریکہ کی کل فوجی امداد چھ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امریکہ یوکرین کو 6 بلین ڈالر کی فوجی امداد دے رہا ہے
 فارن پالیسی کے عسکری اور سیکورٹی نیوز تجزیہ کار جیک ڈیچ نے تنازع کے آغاز سے یوکرین کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کی تعداد کو ٹویٹ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد سے امریکہ نے یوکرین کو 6 بلین ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔

امریکہ نے 23 جون تک یوکرین کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد کا اعلان کیا: 25 فروری، $350 ملین؛ 12 مارچ، $550 ملین؛ 16 مارچ، 1.35 بلین ڈالر؛ 1 اپریل، 1.65 بلین ڈالر؛ 5 اپریل، 1.75 بلین ڈالر؛ 13 اپریل، 2.55 بلین ڈالر؛ 21 اپریل، 3.35 بلین ڈالر؛ 24 اپریل، 3.67 بلین ڈالر؛ 6 مئی، $3.77 بلین؛ 19 مئی، $3.87 بلین؛ 31 مئی، 4.57 بلین ڈالر؛ 15 جون، 5.57 بلین ڈالر؛ اور 23 جون، 6.02 بلین ڈالر۔

امریکی محکمہ دفاع نے جمعہ کی صبح یوکرین کے لیے نئی سیکیورٹی امداد میں 450 ملین ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا۔ پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا کہ اس امداد کا مقصد جنگ میں یوکرین کی اہم ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ بیان کے مطابق، اگست 2021 سے یوکرین کو مختص کیے جانے والے پینٹاگون کے ذخائر سے سامان واپس لینے کا یہ تیرھواں حکم ہے۔

پینٹاگون کے بیان کے مطابق، جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکہ نے یوکرین کو تقریباً 6.8 بلین ڈالر کی سیکیورٹی امداد بھیجی ہے۔ اس میں سے 24 فروری کو یوکرین پر روسی حملے شروع ہونے کے بعد سے 6.1 بلین ڈالر بھیجے جا چکے ہیں۔ امریکہ نے 2014 سے اب تک یوکرین کو 8.7 بلین ڈالر سے زیادہ کی امداد بھیجی ہے۔

روس نے 26 مارچ کو یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دیا۔ یہ پیش رفت ماسکو کی جانب سے مشرقی یوکرین میں ڈونیٹسک اور لوہانسک جمہوریہ کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کی فوجی کارروائی کا مقصد یوکرین کو "غیر عسکری طور پر ختم کرنا" اور ملک کو "ڈی نازی" بنانا ہے۔ روس نے یہ بھی کہا ہے کہ یوکرین نے علیحدگی پسندوں اور کیف کے درمیان تنازع کے حل کے لیے 2014 اور 2015 میں طے پانے والے منسک معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔

مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور برطانیہ نے یوکرین میں تنازع کے آغاز کے بعد سے بڑی مقدار میں ہتھیار یوکرین بھیجے ہیں جن میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور ٹینک شکن میزائل شامل ہیں۔ روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات تنازع کو ہوا دیں گے اور بالآخر یورپ کو لپیٹ میں لے لیں گے۔

قبل ازیں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یوکرین کے لیے ایک ارب ڈالر کے نئے امریکی فوجی امدادی پیکج کی منظوری کے ردعمل میں کہا تھا کہ کیف کے لیے نئے امریکی فوجی امدادی پیکج سے نہ صرف یورپی یونین بلکہ خود یوکرین کو بھی خطرہ ہے۔ روسی سفارت کار نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ یقیناً یہ سب کے لیے خطرہ ہے۔ سب سے پہلے، خود یوکرین کے لیے، جہاں مغربی نقطہ نظر سے تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ یہ [فوجی امداد] یورپ کے لیے خطرہ ہیں، کیونکہ یہ ہتھیار بلیک مارکیٹ کے ذریعے براعظم میں واپس آتے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdcbaabszrhbszp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس