تاریخ شائع کریں2022 24 May گھنٹہ 10:05
خبر کا کوڈ : 550748

فلسطینی صحافی کی شہادت سے متعلق اسرائیلی فوج کا شرمناک دعویٰ

اسرائیلی فوج کی تحقیقات کے سربراہ نے ایک فلسطینی صحافی کی مجرمانہ تحقیقات نہ کرنے کی گواہی کو بہانہ فراہم کیا۔
فلسطینی صحافی کی شہادت سے متعلق اسرائیلی فوج کا شرمناک دعویٰ
صیہونی حکومت کے ملٹری پراسیکیوٹر جنرل "یفت تومر یروشلمی" نے پیر کے روز "شیرین ابو عقلا" کی فلسطینی صحافی کی شہادت کی ممکنہ وجہ کے بارے میں شرمناک دعویٰ کیا۔

فرانس 24 کی ویب سائٹ کے مطابق ، یروشلم نے کہا کہ اگر کسی صہیونی فوجی نے گولی چلائی جس سے ابو عقلہ ہلاک ہو گیا، تو ضروری نہیں کہ فوجی مجرمانہ رویے کا مجرم قرار پائے۔

یروشلمی نے کہا، "یہ دیکھتے ہوئے کہ محترمہ ابو اقلہ کو جنگ زدہ علاقے میں بغیر کسی ثبوت کے مارا گیا، مجرمانہ فعل کا فوری طور پر کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا"۔

یہ صہیونی اہلکار وہ شخص ہے جس کے بارے میں حتمی طور پر یہ طے کرنا ہے کہ آیا ابو عقلہ کی شہادت کے ممکنہ مجرم کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا یا نہیں۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اس کا اعتراف جرم تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا اور اس کا اعتراف تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔

"فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے پکڑی گئی گولی کی تحقیقات میں ناکامی سے اس بارے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ محترمہ ابو عقلہ کی موت کیسے ہوئی،" انہوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونیوں کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ایک گولی کی ضرورت تھی۔

یروشلم نے کہا، "مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا حتمی فیصلہ تبھی کیا جائے گا جب آپریشنل تحقیقات اور دیگر ذرائع سے مزید شواہد دستیاب ہوں گے۔"

فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شیرین ابو عقیلہ کی شہادت کی تحقیقات نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کی اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شیرین ابو عقیلہ کے قتل سے متعلق درجنوں شواہد، پوسٹ مارٹم کے نتائج اور دیگر شواہد کو نظر انداز کر دیا۔

دو ہفتے قبل شمال مغرب میں جنین کے علاقے میں اسرائیلی فورسز نے الجزیرہ کے فلسطینی صحافی الجزیرہ پر 100 سے 150 میٹر کے فاصلے سے حملہ کیا تھا۔اس نیٹ ورک کا پروڈیوسر زخمی ہو گیا تھا۔

ابو عقیلہ کی شہادت صیہونی حکومت کی طرف سے فلسطینی صحافیوں کے خلاف کوئی پہلا جرم نہیں تھا اور فلسطینی وزارت اطلاعات کے مطابق 2000 میں دوسری فلسطینی انتفاضہ کے بعد صیہونی حکومت کے ہاتھوں 45 صحافی شہید ہو چکے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdci5uawvt1awy2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس