تاریخ شائع کریں2022 28 January گھنٹہ 22:28
خبر کا کوڈ : 536298

ویانا میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کیے جا رہے

حسین امیر عبداللہ اللہیان نے کہا ایران کم سے کم وقت میں اچھے معاہدے کے حصول کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہے اور ایران کی مذاکراتی ٹیم نے اس حوالے سے اچھی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
ویانا میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کیے جا رہے
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ویانا میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کیے جا رہے۔

قومی سلامتی اور امور خارجہ کے پارلیمانی کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ویانا میں چار اہم معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے جن میں پابندیوں کا خاتمہ، ایٹمی معاہدہ، ضمانتوں کا حصول اور فیکٹ چیکنگ شامل ہیں۔

حسین امیر عبداللہ اللہیان نے کہا ایران کم سے کم وقت میں اچھے معاہدے کے حصول کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہے اور ایران کی مذاکراتی ٹیم نے اس حوالے سے اچھی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تاحال ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود کے درمیان کسی بھی قسم کی براہ راست بات چیت یا ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ البتہ یورپی یونین کی وساطت سے دونوں کے درمیان غیر رسمی تحریری پیغامات کا تبادلہ ضرور ہوا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایران اور چار جمع ایک گروپ کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور ویانا میں جاری ہے۔ یورپی یونین کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں، ایران، جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس اور چین کے نمائندہ وفود حصہ لے رہے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdccoeqp42bq1i8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس