تاریخ شائع کریں2021 9 December گھنٹہ 11:21
خبر کا کوڈ : 529987

عظیم تر مشرق وسطیٰ منصوبہ ایک منحوس منصوبہ

عظیم تر مشرق وسطیٰ کے منصوبے میں طے یہ تھا کہ عرب ریاستوں، ترکی، ایران، پاکستان، قفقاز کے مسلم ممالک اور اسرائیلی ریاست کو ایک آزاد معاشی نظام پر مبنی بلاک میں تبدیل کیا جائے اور اس کا مرکزی کردار اسرائیل کے ہاتھ میں ہو۔
عظیم تر مشرق وسطیٰ منصوبہ ایک منحوس منصوبہ
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

عظیم تر مشرق وسطیٰ منصوبہ یا GMENAI (1) ایک منحوس منصوبہ تھا جو اکیسویں صدی میں امریکی تسلط کے تحفظ کے لئے تیار کیا گیا گوکہ اس پر کام کا آغاز برسوں پہلے شروع ہوچکا تھا۔

عظیم تر مشرق وسطیٰ کے منصوبے میں طے یہ تھا کہ عرب ریاستوں، ترکی، ایران، پاکستان، قفقاز کے مسلم ممالک اور اسرائیلی ریاست کو ایک آزاد معاشی نظام پر مبنی بلاک میں تبدیل کیا جائے اور اس کا مرکزی کردار اسرائیل کے ہاتھ میں ہو۔

امریکہ کی کوشش تھی کہ اس منصوبے کو نافذ کرکے کچھ چھوٹی چھوٹی ریاستیں کی بنیاد رکھے جو کمزور اور وابستہ ہوں اور زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لئے یہودی ریاست (اسرائیل) کے ساتھ رابطہ قائم کرنے پر مجبور اور اس غاصب ریاست کے اتحادی ہوں؛ نیز یہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں قومی اور سرحدی تنازعات کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپس میں دست بگریباں ہوں۔

امریکی زعامت میں علاقائی تفرقہ اندازیاں جو - ارضی، قومی، مذہبی اور دینی بنیادوں پر - آج تک انجام پاتی رہی ہیں، اسی منصوبے میں شامل تھیں، جن کی وجہ سے آج تک مشرق وسطیٰ کے بہت سارے وسائل، توانائی، صلاحیتیں اور ترقی کے بہت سارے مواقع جل کر راکھ ہو چکے ہیں۔

عظیم تر مشرق وسطیٰ کے منصوبے کی اصل جڑ سابق صہیونی سربراہ شمعون پیریز کا منصوبہ ہے جو اس نے سنہ 1993ع‍ میں چھپنے والی کتاب "جدید مشرق وسطیٰ" میں پیش کیا تھا۔ یہ منصوبہ تین مراحل پر مشتمل تھا:

پہلا مرحلہ: 11 ستمبر سنہ 2001ع‍ کے حملے اور انسداد دہشت گردی کے بہانے افغانستان پر چڑھائی

یہ مرحلہ 11 ستمبر کے حملوں سے شروع ہؤا اور وائٹ ہاؤس نشینوں نے اسے دستاویز بنا کر اپنے منصوبے کے لئے ماحول سازی کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے سنہ 2001ع‍ میں افغانستان پر حملہ کیا۔ امریکی عظیم تر مشرق وسطیٰ منصوبے کی کامیابی سے اس قدر مطمئن تھے کہ انھوں نے ملکی امن و امان کا ستیا ناس کیا اور 3000 سے زائد امریکیوں کو موت کی گھاٹ اتارا اور 11 ستمبر کے واقعے کے تمام تر اخراجات کو قبول کرلیا!

دوسرا مرحلہ: سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے نعرے کے ساتھ دھوکے بازی

اس مرحلے میں، امریکہ - رائے عامہ کو دھوکہ دینے اور مزاحمتوں کو کم از کم کرنے کے لئے - جمہوریت اور انسانی ترقی کا نعرہ لگا کر خطے میں آ دھمکا۔ اس مرحلے کا آغاز 12 ستمبر سنہ 2002ع‍ کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن (Heritage Foundation) میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ، جنرل کالین پاول (Colin Powell) کی تقریر سے ہوا۔

امریکی نائب صدر ڈک چینی نے جنوری 2003 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس (Davos) میں عالمی تجاری تنظیم (WTO) کے اجلاس کو بتایا کہ "امریکی پالیسی کو آزادی کی حکمت عملی کا نام دیا اور کہا کہ امریکی حکومت پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔"

نیٹو میں اس وقت کے امریکی نمائندے نکولس برنز (Nicholas Burns) نے اکتوبر سنہ 2003ع‍ میں، چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں ایک بار پھر عظیم تر مشرق وسطیٰ منصوبے پر زور دیا۔

جمی کارٹر کی صدارت میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر زبیگنیو برژینسکی (Zbigniew Brzezinski) نے اپنی کتاب "عرب دنیا کو جمہوریت بیچنے کا غلط راستہ" (2) نامی کتاب میں لکھا ہے: "اس منصوبے کا مسودہ گذشتہ مہینے لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار الحیات میں شائع ہوا تو عرب رہنماؤں نے فوری ردعمل کا اظہار کیا؛ یہاں تک کہ مصر کے صدر حسنی مبارک نے اس منصوبے کو وہم آمیز اور پُرفریب قرار دیا"۔

تیسرا مرحلہ: سیاسی جغرافیہ تبدیل کرنے کے لئے منصوبے کے بنیادی اہداف کو سامنے لانا

امریکی فوج کے سبکدوش لیفٹیننٹ کرنل اور وائٹ ہاؤس کے امور کے ماہر رالف پیٹرز (Ralph Peters) نے "امریکی مسلح افواج" نامی رسالے میں چھپنے والے مضمون میں اسرائیلی اور امریکی مفاد میں علاقائی جغرافیے کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے علاقے کے ممالک کی تفسیم اور نئے ممالک کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔ سنہ 1990ع‍ کے عشرے میں، روم (Rome) میں نیٹو ملٹری اکیڈمی میں مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ پیش ہونے کے بعد، خطے کے بعض ممالک کے حکام نے رد عمل ظاہر کیا۔ دوسروں کے علاوہ ترک حکام نے بھی ترکی کے تقسیم شدہ نقشے کی نمائش پر فوری احتجاج کیا۔ سی آئی اے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جیمز والسی (Robert James Woolsey Jr) کا خیال تھا کہ سعودی عرب کو تین چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دینا چاہئے۔

نیز سنہ 2006ع‍ کے موسم گرما کی 33 روزہ عرب-لبنان جنگ کے دوران اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ "کانڈولیزا رائس" نے مقبوضہ فلسطین کے تاریخی 10 روزہ دورے کے وقت کہا تھا: "جو کچھ ہم وہاں دیکھ رہے ہیں وہ نئے مشرقِ وسطیٰ کی پیدائش کا درد ہے۔ ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ ہم اس مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور سابق مشرق وسطیٰ کی طرف واپس نہیں جائیں گے"۔

افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے کے بعد، اور لبنان پر یہودی ریاست کی مسلط کردہ 33 روزہ جنگ میں اس ریاست کی ناکامی کے بعد، امریکی سینیٹ نے 29 ستمبر سنہ 2007ع‍ کی سرکاری قرارداد کے ذریعے عراق کی تین وفاقی خطوں میں تقسیم کے بعد، خطے کے ممالک کی تقسیم پر مبنی اپنے ارادے کا باضابطہ اعلان کیا۔

امریکی حکومت نے نومبر سنہ 2003ع‍ میں عظیم تر مشرق وسطیٰ کے لئے اپنے منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا، تاکہ اس کا مسودہ گروپ-8 (G8) کو جولائی سنہ 2008ع‍ کے مجوزہ اگلے اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔

عرب ممالک کی مخالفت کے بعد اس منصوبے نے زیادہ متوازن شکل اختیار کی اور 10 جولائی سنہ 2004ع‍ کو "سی آئی لینڈ (Sea Island)" میں منعقدہ گروپ-8 کے سربراہی اجلاس میں "عظیم تر مشرق وسطی" کے منصوبے کے طور پر منظور کیا گیا۔

اس اجلاس کی سرکاری ضیافت میں صرف افغانستان، عراق، قطر، بحرین، اردن، تیونس اور یمن نے شرکت کی اور خطے کے دیگر ممالک اس منصوبے کے سخت مخالف تھے۔ امریکہ نے ابتدائی طور پر نئے مشرق وسطیٰ کی ایک انتہائی مبہم اور خیالی تصویر پیش کرکے خطے میں مزاحمت کو کم کرنے کی کوشش کی اور خطے میں اپنی کٹھ پتلیوں کو اس قسم کے حیلوں بہانوں کے پیچھے پناہ لینے اور رائے عامہ کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرنے کی کوشش کی۔ یہ اقدامات عسکری مرحلے کے لئے ماحول سازی کی خاطر نفسیاتی کاروائی کے مرحلے میں عمل میں لائے گئے، تاکہ امریکہ اگلے مرحلے میں فوجی کارروائی کر کے خطے کا سیاسی جغرافیہ بدل ڈالے۔

یقیناً یہ منصوبہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ اللہ کی مدد سے امریکہ افغانستان اور عراق میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا اور خاص طور پر سنہ 2006ع‍ میں لبنان میں 33 روزہ جنگ (2006) میں اور سنہ 2008ع‍ میں غزہ کی 22 روزہ جنگ میں اسرائیل رسوا کن شکست سے دوچار ہؤا اور یوں عظیم تر مشرق وسطیٰ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔

مسلم اقوام ایران اور اسلامی مزاحمت تحریک کی اخلاقی حمایت سے امریکیوں کی حرص و لالچ، ممالک کے حصے بخرے کرنے کے سلسلے میں ان کی سازشوں اور استعمار و استکبار کے کے مقابلے میں آ کھڑی ہوئیں اور عرب ممالک میں اسلامی بیداری کے آغاز نے حالات کو اس مقام پر پہنچایا کہ امریکہ کو مزید صرف موجودہ صورت حال برقرار رکھنے نیز صہیونی ریاست - جو پہلے سے کہیں زیادہ تباہی کا شکار ہو چکی ہے - کے وجود کی حفاظت پر مرتکز ہؤا۔

گوکہ مسلم اقوام کی اسلامی بیداری کی تحریک مغرب کی سازشوں اور رجعت پسند عرب حکمرانوں کی طرف سے ان کے ساتھ غدارانہ تعاون کی وجہ سے، نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی، لیکن امریکیوں کو بھی نام نہاد عظیم تر مشرق وسطی کے اپنے منصوبے کی مکمل ناکامی کے تجربے سے گذرنا پڑا اور اس خطے کی پیش قدمی کا عمل صہیونی-یہودی ریاست کی مکمل تباہی کی طرف گامزن ہے، یہ تحریک اب بھی پوری قوت اور سرعت کے ساتھ جاری ہے جو یقیناً اس غاصب اور طفل کُش ریاست کی مکمل تباہی کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوگی اور خطہ تب ہی سکھ کا سانس لے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1. The Greater Middle East and North Africa Initiative GMENAI۔
2. The Wrong Way to Sell Democracy to the Arab World
..............
http://www.taghribnews.com/vdcjoheiauqe8hz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس