تاریخ شائع کریں2021 15 October گھنٹہ 20:32
خبر کا کوڈ : 522778

دنیا کے ایک تہائی بچے غذائی قلت کا شکار ہیں

رپورٹ کے  مطابق دنیا کے چار کروڑ لوگ، روزانہ کی غذائی اشیا تک رسائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور افریقہ کے سولہ، وسطی امریکہ  کے چار اور ایشیا کے تین ملکوں میں یہ صورتحال تیزی سے خرابی کی طرف جارہی ہے۔
دنیا کے ایک تہائی بچے غذائی قلت کا شکار ہیں
بچوں کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ غربت، جنگوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور کورونا وائرس کے نتیجے میں صدی کےسنگین ترین غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سیو دی چلڈرن نامی تنظیم کی جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ایک تہائی بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ہر پندرہ سیکنڈ میں ایک بچہ غذائی قلت کی وجہ سے لقمۂ اجل بن رہا ہے۔ رپورٹ کے  مطابق دنیا کے چار کروڑ لوگ، روزانہ کی غذائی اشیا تک رسائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور افریقہ کے سولہ، وسطی امریکہ  کے چار اور ایشیا کے تین ملکوں میں یہ صورتحال تیزی سے خرابی کی طرف جارہی ہے۔

سیو دی چلڈرن نے سن دوہزار انیس کے دوران غذائی قلت کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو لاکھوں بچے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔

واضح رہے کہ دنیا کے ایک سو ترانوے ملکوں کے سربراہوں نے ستمبر دوہزار پندرہ میں، ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس کا اہم ترین مقصد سن دوہزار تیس تک دنیا میں بھوک کا خاتمہ، فوڈ سیکورٹی اور پائیدار زراعت کو یقینی بنانا تھا لیکن یہ سجھوتہ ابھی تک اپنے اہداف سے کوسوں دور ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdca0unma49nu01.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس