تاریخ شائع کریں2021 12 October گھنٹہ 17:30
خبر کا کوڈ : 522405

جرمن چانسلر اور صیہونی وزیر اعظم کے درمیان ایران اور فلسطین کے موضوع پر اختلافات

مقبوضہ فلسطین کے دورے پر گئیں جرمن چانسلر انگلا مرکل نے کہا کہ برلن فلسطین کے دو ریاستی حل اور ایران کے ساتھ ہوئے بین الاقوامی جوہری معاہدے کو پھر سے پٹری پر لانے کے لئے پر عزم ہے۔
جرمن چانسلر اور صیہونی وزیر اعظم کے درمیان ایران اور فلسطین کے موضوع پر اختلافات
جرمن چانسلر اور صیہونی وزیر اعظم کے درمیان ایران اور فلسطین کے موضوع پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

مقبوضہ فلسطین کے دورے پر گئیں جرمن چانسلر انگلا مرکل نے کہا کہ برلن فلسطین کے دو ریاستی حل اور ایران کے ساتھ ہوئے بین الاقوامی جوہری معاہدے کو پھر سے پٹری پر لانے کے لئے پر عزم ہے۔

جرمنی میں 16 سال تک اقتدار میں رہنے والی مرکل اپنی حکومت کے آخری دنوں میں ایسی حالت میں مقبوضہ فلسطین کے دورے پر گئیں جب انکے اتحادیوں کے درمیان ایران کے جوہری معاہدے اور فلسطینی ریاست کے قیام جیسے دو اہم موضوع پر اختلافات ہیں۔

اتوار کو مرکل نے صیہونی وزیر اعظم نفتالی بینت کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ برلن ایران کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کو پھر سے پٹری پر لانے کے لئے پر عزم ہے۔ یہ وہ موضوع ہے اسرائیل جسکا سخت مخالف ہے۔

انہوں نے کہا جرمنی کا یہ بھی ماننا ہے کہ فلسطینوں کے ساتھ اسرائیل کے دہائیوں پرانے تنازعہ کا سب سے اچھا حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔

مرکل نے بینت کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا:  میرے خیال میں دو ریاستی راہ حل کو مذاکرات کی میز سے ہٹانا نہیں چاہیئے حالانکہ اس وقت اس مرحلہ میں اس خیال سے تقریبا نا امیدی ہے، اس خیال کو دفن نہیں کرنا چاہیئے...فلسطینیوں کے رہنے کے لئے ایک الگ ریاست ہونی چاہیئے۔

اسی طرح انہوں نے اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں کالونیوں کی تعمیر کو بھی معاملے کے حل میں رکاوٹ بتایا جبکہ اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے حامی بینت نے فورا مرکل کے بیان کی مخالفت کی۔

بینت نے کہا: تجربہ کی بنیاد پر ہمارا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست کا مطلب بقول انکے ایک دہشتگرد ریاست کا ممکنہ قیام ہے، جو میرے گھر اور اسرائیل کے کسی بھی حصے سے تقریبا ساتھ منٹ کی دوری پر ہوگا۔

خود کے حقیقت پسند ہونے کا دعوی کرتے ہوئے نفتالی بینت نے دعوا کیا کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے زمینی سطح پر اقدام کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کرنے والے فلسطینی انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار حسین الشیخ نے صیہونی وزیر اعظم کے بیان پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے غضبناک انداز میں ٹویٹ کیا کہ تسلط، دہشتگردی کی سب سے بڑی شکل ہے نہ کہ ایک فلسطینی ریاست کا قیام۔
http://www.taghribnews.com/vdchvinmm23nikd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس