تاریخ شائع کریں2021 19 September گھنٹہ 21:41
خبر کا کوڈ : 519472

آسٹریلوی شہریوں کا برطانیہ اور امریکہ کے خلاف مظاہرے

ہمارے نمائندے کے مطابق، مظاہرے میں شریک آسٹریلوی باشندے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ایٹمی آبدوزوں اور دیگر ہتھیاروں کی تیار ی کا معاہدہ منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
آسٹریلوی شہریوں کا برطانیہ اور امریکہ کے خلاف مظاہرے
آسٹریلوی شہریوں نے مظاہرے کرکے، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ آسٹریلوی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے معاہدے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق، مظاہرے میں شریک آسٹریلوی باشندے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ایٹمی آبدوزوں اور دیگر ہتھیاروں کی تیار ی کا معاہدہ منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب بدھ کے روز تین ملکوں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے سربراہوں نے نئی سیکورٹی معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کے ایک بڑے منصوبے کے تحت اول الذکر دو ممالک ایٹمی آبدوزوں کی تیاری کی ٹیکنالوجی آسٹریلیا منتقل کریں گے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایٹمی آبدوزوں کی تیاری کے منصوبے کے پیش نظر ہمیں فرانس سے روایتی جنگی آبدوزوں کی خریداری کے معاہدے کی ضرورت باقی نہیں رہی اور ہم اسے آگے بڑھانے کا اردہ نہیں رکھتے۔

دوسری جانب فرانس کی وزارت خارجہ نے حکومت آسٹریلیا کی جانب سے آبدوزوں کی خریداری کے معاہدے کے یکطرفہ طور پر منسوخ کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینبرا کا یہ اقدام فرانس آسٹریلیا تعاون کے دو طرفہ سمجھوتے کی روح کے منافی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جان ایوے لودریان نے آسٹریلیا کے اس قدام کو پیرس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سچائی کی اساس پر آسٹریلیا کے ساتھ تعاون کر رہے تھے لیکن ہمارے اعتماد کو اس اقدام سے ٹھیس پہنچی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک اس معاملے میں آسٹریلیا اور امریکہ دونوں سے وضاحت طلب کرے گا۔ فرانس نے آسٹریلیا اور امریکہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ہے - فرانس نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ اس لائق نہیں ہیں کہ ان پر بھروسہ کیا جائے۔ درایں اثنا حکومت آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح میں کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلیا کی وزارت خارجہ نے فرانس میں اپنے سفیر کی طلبی کے معاملے پر بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پیرس اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔فرانس نے امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے تازہ معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے سفیروں کو طلب کرکے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔

آسٹریلوی وزارت خارجہ کی ترجمان میریس پاپن نے فرانس کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو اسٹریٹیجک قرار دیا ہے تاہم کہا ہے کہ جیسا کہ آسٹریلوی وزیراعظم کہہ چکے ہیں کینبرا کی حکومت آبدوزوں کے حوالے سے اپنے موقف سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdchqwnmi23nzkd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس