تاریخ شائع کریں2021 18 September گھنٹہ 19:42
خبر کا کوڈ : 519311

ایران کے صدر کی تاجک ہم منصب کے ساتھ ملاقات

سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی نہ صرف اس ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے داعش کو بنایا اور عراق و شام میں استعمال کرنے کے بعد اب اسے افغانستان پہنچا دیا ہے۔
ایران کے صدر  کی تاجک ہم منصب کے ساتھ ملاقات
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایک بار پھر افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوشنبے میں اپنے تاجک ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایران سید ابراہیم رئیسی نےعلاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے تہران اور دوشنبے کے نظریات میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کا خیال ہے کہ بیرونی مداخلت نے افغانستان کو مشکلات میں مبتلا کیا ہے اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی نہ صرف اس ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے داعش کو بنایا اور عراق و شام میں استعمال کرنے کے بعد اب اسے افغانستان پہنچا دیا ہے۔

صدر ایران نے تاجکستان کے ساتھ تعلقات کو دوستانہ اور برادرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران اور تاجکستان کے درمیان تعلقات روزبروز مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے بھی اس موقع پر کہا کہ ایران ہمارا دوست اور ہمسایہ ملک ہے۔ انہوں نے افغانستان کی صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم افغانستان میں پائیدار امن و سلامتی کے خواہاں ہیں۔ کیونکہ افغانستان کا امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ صدر امام علی رحمانوف نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کا قیام پائیدار امن اور سیاسی استحکام کا کلیدی راستہ ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcjvheivuqevtz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس