تاریخ شائع کریں2021 17 July گھنٹہ 15:49
خبر کا کوڈ : 511910

امام محمد باقرؑ نے پیغام حق کے ذریعہ علم جہاد بلند کیا

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ پیغمبر اکرم نے اپنے صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کو فرمایا کہ ”تم میرے پانچویں جانشین کا دیدار کرو گے جس کا نام میرے نام پہ ہوگا اور وہ علوم کو شگافتہ کرے گا اس کو میرا سلام کہنا“ اسی طرح حضرت امام محمد باقر ؑ نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ اپنے جد امجد کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔
امام محمد باقرؑ نے پیغام حق کے ذریعہ علم جہاد بلند کیا
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ تخصصی انداز سے شاگردوں کی تربیت کی سوچ کے بانی کا نام امام محمد باقر علیہ السلام ہے جس کے ذریعہ آپ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور سیکڑوں کی تعداد میں شاگردان تیار کئے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 7ذی الحجہ امام پنجم حضرت امام محمد باقر ؑ کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ائمہ اہل بیت ؑ کے اعلی و ارفع مشن اور پاکیزہ اہداف و مقاصد میں کوئی فرق نہ تھا بلکہ کاملاً یکجہتی پائی جاتی تھی البتہ ان مقاصد کے حصول کے راستے اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے لحاظ سے مختلف تھے‘ کسی امام ؑ نے راہ صلح ‘ کسی نے قیام‘ کسی نے ثورہ الدموع و راہ دعا تو کسی نے مسند علم پر بیٹھ کر علوم و فنون کو شگافتہ کرکے باقر العلوم کے لقب کو اپنے ساتھ خاص کیا ہے۔امام محمد باقر ؑکی منفرد فضیلت یہ بھی ہے کہ سلسلہ امامت کے نجیب الطرفین امام ہیں جن کے والد بھی امام‘ نانا بھی امام ‘ دادا بھی امام اور بیٹا بھی امام ہیں۔اسی طرح وہ واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ بھی بنے۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ پیغمبر اکرم نے اپنے صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کو فرمایا کہ ”تم میرے پانچویں جانشین کا دیدار کرو گے جس کا نام میرے نام پہ ہوگا اور وہ علوم کو شگافتہ کرے گا اس کو میرا سلام کہنا“ اسی طرح حضرت امام محمد باقر ؑ نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ اپنے جد امجد کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

علامہ ساجد نقوی کہتے ہیں کہ انحرافی گروہوں کے خلاف جہد مسلسل اور اپنے اصولوں پر ٹھوس اور دو ٹوک موقف امام محمد باقر ؑ کا خاصا تھا چنانچہ اس راستے میں مشکلات و مصائب کی پروا کئے بغیر پیغام حق کے ذریعہ علم جہاد بلند کرتے رہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تخصصی انداز سے شاگردوں کی تربیت کی سوچ کے بانی کا نام امام محمد باقر ؑ ہے جس کے ذریعہ آپ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور سیکڑوں کی تعداد میں شاگردان تیار کئے ‘ چنانچہ اس دور کے دیگر مذاہب کے بھی بڑے بڑے علماء یہ کہتے دکھائی دیئے کہ ”جو بھی محمد باقر ؑ تعلیم دے وہ حق اور صحیح ہے“ اپنے فرزند امام جعفر صادق ؑ کو پندو نصائح تاریخ کا ایک گرانقدر سرمایہ اور خزانہ ہیں، آپ کی مسلسل اور پیہم جدوجہد رہتی دنیا تک کی انسانیت کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdcgqq9nzak9qy4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس