تاریخ شائع کریں2021 8 April گھنٹہ 20:35
خبر کا کوڈ : 499213

عالم اسلام کو منظم طریقہ سے اسلاموفوبیا کا نشانہ بنایا جارہا ہے

ڈی ایٹ کے آن لائن سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ کے رکن ملکوں کو کورونا کے بعد کے دور میں باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنے کے سلسلے میں اہم فیصلے کرنا ہوں گے-
عالم اسلام کو منظم طریقہ سے اسلاموفوبیا کا نشانہ بنایا جارہا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے دنیا میں کثیر الفریقی تعاون کے فروغ کو ایران کی خارجہ پالیسی کی اہم ترین ترجیح قرار دیا ہے-

ڈی ایٹ کے آن لائن سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ کے رکن ملکوں کو کورونا کے بعد کے دور میں باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنے کے سلسلے میں اہم فیصلے کرنا ہوں گے-

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو جھکانے کی غرض سے امریکہ کے خودسرانہ اور غیر قانونی اقدامات ناکام ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے شدید اقتصادی دباؤ کے باوجود ملکی توانائیوں اور گنجائشوں پر بھروسہ کرتے ہوئے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

صدر ایران نے کہا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ امریکہ کی خود سرانہ پابندیوں اور اقتصادی دہشت گردی نیز اس سے نمٹنے کے حوالے سے عالمی برادری کا کردار اچھا نہیں رہا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عالم اسلام کو منظم طریقہ سے اسلاموفوبیا کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس کا مقصد اسلامی اقدار کو مخدوش کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی ملکوں کی معیشت اور ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔
ترقی پذیر اسلامی ملکوں کے گروپ ڈی ایٹ کا سربراہی اجلاس جمعرات کو آن لائن منعقد ہوا جس میں تنظیم کے رکن ملکوں کے سربراہان شریک ہیں ۔

یہ اجلاس ڈی ایٹ کے موجودہ صدر بنگلہ دیش کی سربراہی میں ہورہا ہے ۔ایران، پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، مصر،نائیجریا، انڈونیشیا اور ملائیشیا ڈی ایٹ کے رکن ممالک ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdchzwnkx23nwid.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس