تاریخ شائع کریں2021 8 April گھنٹہ 13:36
خبر کا کوڈ : 499174

سعودی عرب کی جانب سے قتل کی دھمکیاں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ اگنس کیلامرڈ  کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات کے دوران انہیں سعودی عرب کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں اور اقوام متحدہ نے بھی اعلی ترین سطح پر ان کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے قتل کی دھمکیاں
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری اور سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کیس کی انچارج اگنس کیلامرڈ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انہیں سعودی عرب کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ اگنس کیلامرڈ  کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات کے دوران انہیں سعودی عرب کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں اور اقوام متحدہ نے بھی اعلی ترین سطح پر ان کے بیان کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کہ وہ ریاستی دھمکیوں اور قتل کی وارداتوں کو عام ہونے سے روکنے کی غرض سے بین الاقوامی سطح پر اطلاعات کے آزادانہ تبادلے کی حمایت کرے۔

اگنس کیلامرڈ نے حال ہی میں برطانوی جریدے گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سعودی عہدیدار نے گزشتہ سال جنوری میں انہیں بلواسطہ دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ " اگر اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے کیلامرڈ کا راستہ نہ روکا تو ہم خود اس سے نمٹیں گے۔ "

اگنس کیلامرڈ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے  قتل کیس کی عالمی تحقیقات کی انچارج رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد بن سلمان نے دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ  جمال خاشقجی سعودی ولی عہد بن سلمان پر کڑی نکتہ چینی کے حوالے سے مشہور تھے اور انہیں دو اکتوبر دوہزار اٹھارہ کو ایک منظم منصوبے کے تحت استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کے اندر نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔
http://www.taghribnews.com/vdcd5n0ooyt0nf6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس