تاریخ شائع کریں2021 3 March گھنٹہ 17:09
خبر کا کوڈ : 495205

بھارتی چیف جسٹس پر استعفی کے لئے عوامی دباو میں شدت

5 ہزار سے زائد افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس پر چیف جسٹس اروند بوبدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جنہوں نے سماعت کے موقع پر ملزم (سرکاری ٹیکنیشن) سے کہا تھا کہ 'اگر آپ (اس سے) شادی کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو آپ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جیل چلے جائیں گے'۔
بھارتی چیف جسٹس پر استعفی کے لئے عوامی دباو میں شدت
بھارتی چیف جسٹس کا ریپ کرنے والے ملزم کو سزا سے بچنے کے لیے متاثرہ اسکول کی طالبہ سے شادی کرنے کی تجویز دینے پر سخت تنقید اور مستعفی ہونے کے مطالبات کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس پر چیف جسٹس اروند بوبدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جنہوں نے سماعت کے موقع پر ملزم (سرکاری ٹیکنیشن) سے کہا تھا کہ 'اگر آپ (اس سے) شادی کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو آپ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جیل چلے جائیں گے'۔

مہم چلانے والی وانی سبرامنیم نے بتایا کہ 'چیف جسٹس اروند بوبدے کی رائے پر ہنگامہ کھڑا ہوا اور خواتین کے حقوق کی کارکنان کی جانب سے کھلا خط لکھا گیا جس میں ان سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا گیا اور اس خط پر اب تک 5 ہزار 200 سے زائد دستخط کیے جاچکے ہیں'۔

خط کے مطابق 'اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے اور اس کے بھائی کو قتل کرنے سے قبل اسے ڈنڈے مارے، اسے باندھ کر رکھا اور بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا تھا'۔

اس خط میں کہا گیا کہ 'زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی سے اس کا ریپ کرنے والے شخص کی شادی کی تجویز دے کر چیف جسٹس آف انڈیا، آپ نے متاثرہ لڑکی کو اسے خودکشی پر مجبور کرنے والے ملزم کے ہاتھوں ساری زندگی ریپ کروانے کی پیشکش کی'۔

واضح رہے کہ 2012 میں دہلی کی ایک بس میں ایک طالب علم کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اس کے قتل کے بعد سے جنسی زیادتی پر بھارت کا غیر معمولی ریکارڈ بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

پولیس اور عدالتوں کے ہاتھوں متاثرین کا استحصال معمول ہے جہاں نام نہاد سمجھوتہ کرنے والے اس معاملے کے حل کے طور پر ان پر حملہ آور ہونے والوں سے شادی کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

اس خط میں پیر کو ہونے والی ایک اور سماعت کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی گئی جس کے دوران اروند بوندے نے مبینہ طور پر سوال کیا تھا کہ کیا شادی شدہ جوڑے کے درمیان جنسی تعلقات کو بھی عصمت دری سمجھا جاسکتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ 'شوہر ظالم ہوسکتا ہے تاہم کیا آپ قانونی طور پر شادی شدہ مرد اور بیوی کے درمیان روابط کو ریپ قرار دے سکتے ہیں؟'

انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ 'یہ رائے نہ صرف شوہر کے ذریعے کسی بھی طرح کے جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ یہ تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کو بھی معمول پر لائے گا'۔
واضح رہے کہ بھارت میں ازدواجی تعلقات میں زبردستی کرنا جرم نہیں ہے، دوسری جانب اروند بوبدے نے اس تنقید کا جواب نہیں دیا۔
http://www.taghribnews.com/vdce7n8enjh8owi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس