تاریخ شائع کریں2021 2 March گھنٹہ 18:05
خبر کا کوڈ : 495034

چین اور پاکستان کے درمیان تعاون فروغ پارہا ہے

پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے کلیدی مفادات اور اہم تحفظات سے وابستہ امور میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں خواہ بیرونی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین کی سفارت کاری کو فروغ دینے کا کلیدی موقع ہو یا پھر پاکستان کو درپیش ملکی بحران اور قومی وقار کے دفاع کے کلیدی لمحات، چین اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور عملاً ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر حقیقی دوستی کا مظاہرہ کیا گیا ہے
چین اور پاکستان کے درمیان تعاون فروغ پارہا ہے
چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای کا کہنا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان 21 مئی 1951 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ گزشتہ ستر برسوں میں چین اور پاکستان نے مل کر تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے منفرد ’’آہنی دوستی‘‘ تشکیل دی ہے۔ پاک چین دوستی دونوں ممالک کا سب سے قیمتی اسٹرٹیجک اثاثہ بن چکی ہے۔اپنے بیان میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ پاک چین دوستی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ جیسا کہ چین کے آنجہانی وزیراعظم چو این لائی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ چین اور پاکستان کے عوام کے دوستانہ تبادلوں کی شروعات کا مشاہدہ تاریخی ادوار سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم نے دو ہزار سال قبل ہی چین اور پاکستان کو مربوط کردیا تھا۔ دونوں ممالک کے عوام کے مابین قدیم وقتوں میں اونٹ کی گھنٹیوں کے ساتھ قائم ہونے والے تعلقات ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں اس وقت مضبوط ترین پاک چین دوستی میں تبدیل ہوچکے ہیں، جس میں روزبروز مزید پختگی آتی جارہی ہے۔

پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے کلیدی مفادات اور اہم تحفظات سے وابستہ امور میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں خواہ بیرونی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین کی سفارت کاری کو فروغ دینے کا کلیدی موقع ہو یا پھر پاکستان کو درپیش ملکی بحران اور قومی وقار کے دفاع کے کلیدی لمحات، چین اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور عملاً ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر حقیقی دوستی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ پاک چین دوستی کی جڑیں عوام کے دلوں میں گھر کرچکی ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کسی بھی آزمائش میں ہمیشہ ایک دوسرے کی فوری امداد کرتے رہے ہیں۔ حمایت و امداد کے یہ جذبات غیر مشروط اور مخلصانہ طور پر دوستی کے بے لوث جذبے کے بہترین ترجمان ہیں۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 2008 میں چین کے ون چھوان شہر میں شدید زلزلہ آیا، اُس موقع پر پاکستان نے فوری طور پر اپنے پاس موجود تمام خیمے چین کے زلزلہ زدہ علاقوں کو فراہم کردیے۔ 2007 میں پاکستان کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس مشکل گھڑی میں چین زمینی و فضائی ذرائع سے عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ میں وسیع ترین بین الاقوامی انسان دوست امدادی سرگرمیاں عمل میں لایا۔ عظیم دوستی کا سفر ایسی لاتعداد کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔

پاک چین دوستی کو دونوں ممالک کے عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔ پاک چین تعلقات نئی صدی میں داخل ہونے کے بعد بھی روایتی گرم جوشی سے جاری ہیں جبکہ گزرتے وقت کے ساتھ اعلیٰ درجے کا معیاری تعاون فروغ پارہا ہے۔ 2015 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ کیا اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مل کر پاک چین تعلقات کو ’’چاروں موسموں کے تزویراتی شراکت دارانہ تعلقات‘‘ تک آگے بڑھایا، جس سے پاک چین دوستانہ تبادلوں کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ اعلیٰ سطح کے قریبی تبادلوں کو برقرار رکھا ہے۔ دونوں ممالک کے صدور اور حکومتی سربراہوں نے دوطرفہ دوروں، ٹیلی فونک مشاورت، کثیرالجہتی کانفرنسوں میں شرکت کے ذریعے تبادلے کو برقرار رکھا ہے۔ دوطرفہ تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے اہم تزویراتی مسائل پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے، پاک چین تعلقات کی ترقیاتی سمت کا مضبوطی سے تعین کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کےلیے اسٹرٹیجک رہنمائی فراہم کی گئی ہے اور دونوں ممالک کے اسٹرٹیجک تعاون میں نئی جہتوں کو مسلسل فروغ دیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے حقیقت پسندانہ تعاون کی بدولت نمایاں ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔ فریقین نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مرکزی منصوبے گوادر بندرگاہ اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سمیت توانائی منصوبہ جات اور صنعتی تعاون کے لیے ’’ون پلس فور‘‘ ڈھانچہ کامیابی سے تشکیل دیا ہے۔

اقتصادی راہداری کے تحت فریقین نے ارلی ہاروسٹ کے 70 منصوبوں کا مشترکہ تعین کیا، جن میں 46 منصوبوں کو یا تو مکمل کیا جاچکا ہے یا پھر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاحال 25.40 ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے جبکہ پاکستان میں روزگار کے 70 ہزار مواقع فراہم کیے گئےہیں۔ سی پیک ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ انیشیٹو کا ایک مثالی نمونہ بن چکا ہے، جس نے چین اور دوسرے اسلامی ممالک کے درمیان ترقیاتی حکمت عملیوں کو مربوط کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان رنگارنگ افرادی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ مل رہا ہے۔ دونوں ممالک ثقافتی مہینوں، فلم ویک، سیاحتی سال، قومی تہواروں سمیت دیگر سرگرمیوں کا وقتاً فوقتاً اہتمام کرتے چلے آرہے ہیں۔ فریقین کے درمیان میڈیا، تھنک ٹینک، اسکالرز، تعلیم، ثقافت، کھیلوں سمیت دیگر شعبوں میں تبادلوں و تعاون کو مسلسل آگے بڑھایا جارہا ہے۔

2015 میں فریقین نے ’’پاک چین دوستانہ تبادلوں کا سال‘‘ سمیت سلسلہ وار ثقافتی سرگرمیوں کا کامیابی سے انعقاد کیا جس سے دونوں ممالک کے دوستانہ تبادلوں کو ایک نیا عروج ملا ہے۔ حالیہ برسوں میں ’’نسل در نسل دوستی‘‘ کے تصور کی روشنی میں 100 نوجوانوں پر مشتمل وفود نے کامیابی سے ایک دوسرے کےممالک کے دورے کیے ہیں جسے وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پاک چین دوستی کی میراث مضبوط تر ہوتی جارہی ہے جو دوطرفہ تعلقات کی ترقی کےلیے ٹھوس بنیاد فراہم کررہی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان قریبی کثیرالطرفہ تعاون فروغ پارہا ہے۔ چین اور پاکستان نے ’’اقوام متحدہ کے منشور‘‘ کی روشنی میں عالمی قواعد و ضوابط کی ہمیشہ پاسداری کی ہے۔ دونوں ممالک کثیرالجہتی، آزاد تجارت، تعاون اور مشترکہ مفادات کی حمایت، یکطرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور بالادستی کی مخالفت میں یکساں نظریات کے حامل ہیں۔ دونوں ممالک موجودہ بین الاقوامی آرڈر اور اقوام متحدہ کی مرکزی حیثیت سے عالمی نظام کے تحفظ کےلیے کوشاں ہیں اور پرامن مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے تنازعات و اختلافات کو بخوبی حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ چین اور پاکستان نے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم ، ایشیا یورپ میٹنگ، آسیان علاقائی فورم سمیت دیگر عالمی و علاقائی میکانزم کے تحت قریبی مشاورت اور تعاون برقرار رکھتے ہوئے اہم علاقائی مسائل کے حل اور انسداد دہشت گردی کے عالمی تعاون کو فروغ دینے کےلیے مثبت خدمات سرانجام دی ہیں اور اس دوران عالمی و علاقائی سطح پر انصاف کی سربلندی کےلیے مضبوط قوت فراہم کی ہے۔
پاک چین دوستی اچانک رونما ہونے والی کووڈ-19 وبا کے تناظر میں ایک مرتبہ پھر آزمائش کی گھڑی پر پورا اتری اور اسے مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔ چین میں انسداد وبا کے ایک کٹھن مرحلے میں پاکستان نے اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق ساز و سامان عطیہ کیا۔ مختلف پاکستانی حلقوں نے وبا کے خلاف جنگ میں چین کی کاوشوں کی متفقہ طور پر حمایت کی اور وبا کو سیاسی رنگ دینے اور چین کو بدنام کرنے کی کوششوں کی سختی سے مخالفت کی۔ پاکستان میں وبائی صورتحال کی سنگینی کے بعد چینی حکومت، فوج ، علاقائی حکومتوں، صنعتی و کاروباری اداروں اور سماجی تنظیموں نے متحد ہوکر پاکستان کو تسلسل کے ساتھ طبی سازوسامان فراہم کیا۔ طبی ماہرین کی کئی ٹیمیں پاکستان بھیجی گئیں اور تجربات کے اشتراک اور تکنیکی تبادلوں کو مضبوط بنایا گیا۔ فریقین نے وبا کے انسداد و کنٹرول کےلیے ایک مشترکہ میکانزم قائم کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وبا کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں میں کام کرنے والا کوئی ایک بھی ملازم روزگار سے محروم نہ ہو۔

اس طرح سی پیک منصوبوں سے وابستہ ملازمین کے روزگار کو فعال رکھتے ہوئے سی پیک کے تعمیراتی منصوبوں میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا اور عالمی انسداد وبا تعاون کےلیے بہترین مثال قائم کی گئی ہے۔

رواں سال چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 100 سالگرہ منائی جارہی ہے۔ چین جدید سوشلسٹ ملک کی جامع تعمیر کے نئے سفر کا آغاز کرے گا اور دوسرے صد سالہ ہدف کی تکمیل کےلیے بھرپور کوششوں کی شروعات ہوں گی۔ پاکستان اقتصادی و سماجی ترقی کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھاتے ہوئے سماجی فلاح و بہبود میں بہتری لا رہا ہے تاکہ وزیراعظم عمران خان کے ’’نیا پاکستان‘‘ وژن کی تکمیل کی جائے۔ چاروں موسموں کے تزویراتی شراکت دار کی حیثیت سے، چین بیرونی تعاون کے حوالے سے ہمیشہ پاکستان کو ترجیح دے گا۔ قومی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کےلیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ اصلاحات کو فروغ دیتے ہوئے وسیع کھلے پن اور ملکی ترقی کی صلاحیت کو بلند کرنے میں پاکستان کی بھرپور حمایت کرے گا۔ سیاسی اتحاد کی مضبوطی، قومی سلامتی کے تحفظ، سماجی استحکام کے فروغ میں پاکستان کی مضبوطی سے حمایت کرے گا۔ عالمی و علاقائی امور میں مزید تعمیری نوعیت کا کردار ادا کرنے میں پاکستان کی مضبوطی سے حمایت جاری رکھے گا۔

دنیا میں رونما ہونے والی ایک صدی کی بڑی تبدیلیوں کے تناظر میں، چین اور پاکستان کے درمیان تزویراتی تعاون کی مسلسل مضبوطی ایک ناگزیر انتخاب ہے۔ مستقبل پر نگاہ رکھتے ہوئے، خواہ عالمی و علاقائی صورتحال میں جس قدر بڑی تبدیلیاں رونما ہوں، خواہ کتنے ہی بڑے خطرات و چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے، چین پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائے گا۔ ہر قسم کی آزمائشوں پر پورا اترتے ہوئے ’’آہنی دوستی‘‘ کو نئے عہد میں مضبوط ترین فولاد میں ڈھالا جائے گا اور ایک مزید قریبی ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کی جائے گی۔ رواں برس فریقین سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کی مناسبت سے دونوں ممالک سلسلہ وار شاندار تقریبات کا اہتمام کریں گے، جن میں اعلیٰ سطح کے دوطرفہ دورے، اقتصادی و تجارتی تبادلے اور کثیر تعداد میں رنگا رنگ افرادی و ثقافتی سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔

امید ہے کہ دونوں ممالک کے مختلف سماجی حلقے، بالخصوص نوجوان نسل، ان دوستانہ سرگرمیوں میں مثبت طور پر شریک ہوگی۔ پاک چین ’’آہنی دوستی‘‘ کی میراث کو نئی قوت میسر آئے گی۔ پاک چین چاروں موسموں کے تزویراتی شراکت دارانہ تعلقات کے مسلسل فروغ کےلیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔

فریقین کی مشترکہ کوششوں کے تحت، پاک چین تعلقات کا مستقبل یقیناً مزید تابناک ہوگا!
http://www.taghribnews.com/vdcexn8eejh8o7i.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس