تاریخ شائع کریں2021 28 February گھنٹہ 22:06
خبر کا کوڈ : 494775

عراق میں داعش کے باقی ماندہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مشترکہ کاروائی کا مقصد خانقین کے علاقے زور الاصلاح سے داعش دہشت گرد گروہ کے باقی بچے عناصر کا صفایا کرنا ہے
عراق میں داعش کے باقی ماندہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن
عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے داعش دہشت گرد گروہ کے باقی بچے افراد کا تعاقب کرنے کے لئے صوبے دیالہ کے علاقے خانقین میں کاروائی شروع کر دی ہے۔

المعلومہ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے سیکورٹی  ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ صوبے دیالہ کے علاقے خانقین میں عراقی فوج کے پانچویں ڈویژن اور عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کی یہ کاروائی عراقی فضائیہ اور ایرواسپیس کے تعاون و حمایت سے شروع کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مشترکہ کاروائی کا مقصد خانقین کے علاقے زور الاصلاح سے داعش دہشت گرد گروہ کے باقی بچے عناصر کا صفایا کرنا ہے۔

عراق کے بعض صوبوں منجملہ الانبار، صلاح الدیں دیالہ اور کرکوک میں حالیہ دو ماہ کے دوران دہشت گردوں کی سرگرمیاں کافی تیزی کے ساتھ بڑھی ہیں۔دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی یہ سرگرمیاں اس بات کا باعث بنی ہیں کہ عراق کی مسلح افواج اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں باقی بچے ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کریں اور گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران اس آپریشن میں دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کے کئی سرغنہ ہلاک کر دیئے گئے ہیں جبکہ ان کے ٹھکانوں کو تباہ اور متعدد دیگر دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

دوسری جانب عراق میں مزاحمتی گروہوں نے ایک مشترکہ بیان میں عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ٹھکانوں پر جمعے کے روز کئے جانے والے امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو اس حملے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق کے مزاحمتی گروہوں کی کوآرڈینیٹر کمیٹی نے ایک بیان میں تاکید کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کوئی پہلے اور یا آخری نہیں ہیں اور اس طرح کے یہ اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے تاہم اس میں دو رائے نہیں اس سلسلے میں خود امریکہ کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا اور نتیجے میں سارے سمجھوتے اور جنگ بندی کے فیصلے کھٹائی میں پڑ جائیں گے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کو جارحیت کا نشانہ بنانے والے ملکوں اور قابض فوجیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنے سے متعلق بغداد حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے۔عراق کے مزاحمتی گروہوں نے اسی طرح حکومت عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ ان عہدیداروں اور شخصیات کے بارے میں کہ جنھوں نے عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی پر حملے کے سلسلے میں قابض فوج کے ساتھ تعاون کیا ہے، مکمل تحقیق اور مکمل وضاحت پیش کرے۔
http://www.taghribnews.com/vdcfejdjtw6d1ea.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس