تاریخ شائع کریں2021 27 February گھنٹہ 12:09
خبر کا کوڈ : 494592

خاشقجی قتل کی تفصیلی رپورٹ جاری بن سلمان مجرم قرار

محمد بن سلمان نے صحافی کو مملکت کیلئے خطرہ قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق استنبول آپریشن میں ولی عہد کی حفاظت پر معمور ایک مشیر براہ راست ملوث تھے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ولی عہد کو اس آپریشن کا علم تھا
امریکی نشریاتی ادارے کیبل نیوز نیٹ ورک ( سی این این) کی جانب سے جاری انٹیلی جنس دستاویزات اور رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے مقتول صحافی جمال خاشقجی کو سعودی شہزادے محمد بن سلمان کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد قتل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق خاشقجی کے قتل میں 21 افراد کی ٹیم نے حصہ لیا جس کو محمد بن سلمان نے خاشقجی کو گرفتار یا قتل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو آخری بار ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جہاں سے وہ کبھی باہر نہیں آئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے انٹیلی جنس رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے کا کہنا تھا کہ خاشقجی کو یا تو گرفتار کیا جائے یا اسے مار دیا جائے۔ سعودی شہزادے کا یہ بھی کہنا تھا کہ تشدد کے ذریعے ہمیں اس آواز کو ختم کرنا ہوگا۔

قتل کے 2 سال بعد رپورٹ آفس آف ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ سی آئی اے کی اطلاعات اور تحقیقات پر مبنی اس رپورٹ میں ایسی 3 وجوہات بیان کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا گیا ہے کہ ولی عہد نے آپریشن کی منظوری دی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2017 کے بعد سے محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس آپریشنز پر مکمل کنٹرول حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ سعودی حکام نے اس نوعیت کا آپریشن ان کی منظوری کے بغیر کیا ہو۔

محمد بن سلمان نے صحافی کو مملکت کیلئے خطرہ قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق استنبول آپریشن میں ولی عہد کی حفاظت پر معمور ایک مشیر براہ راست ملوث تھے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ولی عہد کو اس آپریشن کا علم تھا۔ ان افراد کے نام لیے گئے ہیں جن پر خشوگی کے قتل کا الزام یا ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ سعودی ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ ریپڈ انٹرونشن فورس کو جمال خاشقجی قتل کا واحد ذمہ دار قرار دیا گیا۔

انٹیلی جنس رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد امریکا کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے 76سعودی شخصیات اور اہلکاروں پر ویزاپابندیاں عائد کردیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے فون پر رابطہ کیا جس میں انہوں نے امریکا کی جانب سے انسانی حقوق اور قوانین کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔

امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔ قتل میں کردار اداکرنے پر امریکا نے سابق سعودی انٹیلی جنس چیف احمد الاسیری  سعودی ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ ریپڈ انٹرونشن فورس اور اس کے ا ہلکاروں پر بھی پابندیاں لگا دیں ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق وہ ان افراد اور یونٹس کے اثاثے منجمد کردے گا۔ چند ایسی سعودی شخصیات اور اہلکاروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جو صحافیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف سرحدوں سے باہر مذموم سرگرمیاں سرانجام دیتے ہیں، جن میں ہراساں کرنا، نگرانی کرنا، دھمکی دینا یا جسمانی نقصان پہنچانا شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ غیر ملکی حکومتوں کے کہنے پر صحافیوں، سماجی کارکنان کو دھمکانے کے اقدامات کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔ سعودی عرب کی جانب سے سیاسی مخالفین اور صحافیوں کو ماورائے سرحد دھمکانے اور حملے کرانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی شاہ سلمان کو ٹیلی فون کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے سعودی شاہ کو یقین دلایا کہ دوطرفہ تعلقات کو ہر ممکن حد تک مضبوط اور شفاف بنانے کیلئے وہ کام کریں گے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے جمال خاشقجی رپورٹ کا کوئی ذکر نہ کیا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے امریکی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ سعودی نژاد امریکی صحافی اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے جمال خاشقجی کو سنہ 2018 میں استنبول کے سعودی سفارت خانہ میں بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب کے سفارت خانے کی عمارت کے اندر سعودی اہلکاروں کے ہاتھوں ہونے والے اس قتل میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تردید کی ہے۔

سعودی عرب کے حکام کے مطابق جمال خاشقجی پر قابو پانے کے لیے انہیں ایک انجیکشن لگایا گیا اور جسمانی کشمکش کے دوران انھیں انجیکشن کی ضرورت سے زیادہ مقدار لگ گئی جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ جس کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے کچھ مقامی مددگاروں کے حوالے کر دی گئی۔ ان کی لاش کا اس کے بعد سے کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ترکی کے خفیہ اداروں کی طرف سے جاری کردہ معلومات جن میں کچھ آڈیو مواد بھی شامل ہے، دل دہلانے دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ خاشقجی ماضی میں سعودی عرب کی حکومت کے مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے تھے لیکن بعد میں سعودی حکمران خاندان کی نظروں میں کھٹکنے لگے اور وہ ملک چھوڑ کر سنہ 2017 میں امریکا چلے گئے۔

خاشقجی نے امریکا میں واشنگٹن پوسٹ کے لیے محمد بن سلمان کی پالیسی پر تنقیدی کالم لکھنے شروع کر دیے تھے۔اپنے پہلے ہی کالم میں انہوں نے لکھا تھا کہ انھیں سعودی عرب میں گرفتاری کا خوف تھا کیوں کہ محمد بن سلمان اپنے تمام مخالفین کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے آخری کالم میں یمن پر سعودی عرب کے حملے پر شدید تنقید کی تھی۔

سعودی حکام نے سعودی صحافی کے قتل کے واقعے کو ‘سرکش آپریشن’ قرار دیا اور سعودی عرب کی ایک عدالت نے اس قتل کے جرم میں پانچ اہلکاروں کو موت کی سزا سنائی تھی لیکن گزشتہ سال ستمبر میں ان کی سزا میں کمی کر کے اس کو 20 سال قید میں بدل دیا گیا۔
http://www.taghribnews.com/vdcco0q0i2bqop8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس