تاریخ شائع کریں2021 27 February گھنٹہ 11:53
خبر کا کوڈ : 494589

امریکی جنگی بحری جہاز میں کورونا وائرس پھیل گیا

مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی جنگی بحری جہاز میں موجود درجنوں سیلرز اور میرینز کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں
امریکی جنگی بحری جہاز میں کورونا وائرس پھیل گیا
مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی جنگی بحری جہاز میں موجود درجنوں سیلرز اور میرینز کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق خلیج فارس کی ریاست بحرین میں موجود یو ایس ایس سان ڈیاگو بحری جہاز کے درجنوں عملے میں کوروبا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق سامان بردار فوجی بحری جہاز یو ایس ایس سان ڈیاگو کے عملے میں شامل درجنوں سیلرز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ یو ایس ایس سان ڈیاگو میں 600 کے لگ بھگ عملہ اور میرینز سوار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں موجود دوسرے میزائیل بردار بحری جہاز یو ایس ایس فلپائن سی کے عملے میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ اسکریننگ کی جارہی ہے۔
 
جرمن نیوز ایجنسی ڈی ڈبلیو کے مطابق امریکی پانچویں بحری بیڑے کی ترجمان کمانڈر ربیکا ریبیرش نے بتایا ہے کہ ان بحری جہازوں کے عملے میں وائرس کی موجودگی اور تشخیص ہونے کے بعد انہیں عملے سمیت واپس بلا لیا گیا ہے۔ وائرس کی تشخیص کے بعد تمام متاثرین کو بقیہ عملے سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان دونوں بحری جہازوں کی مجموعی حالت بظاہر تشویشناک قرار دی جا سکتی ہے۔
 
ڈی ڈبلیو کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے وسیع سمندری علاقے میں امریکی ففتھ فلیٹ نگرانی کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بیڑے میں شامل یو ایس ایس سان ڈیاگو پر چھ سو سیلرز اور میرینز کو تعینات کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب گائیڈڈ کروز میزائل کا حامل یو ایس ایس فلپائن سی تین سو اسی سیلرز کو لے کر سمندری نگرانی میں شریک ہے۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان فوجیوں کو واپس امریکا روانہ کرنے کا بھی کوئی منصوبہ ہے۔
 
امریکی بحری فوج کے پانچویں بیڑے کی نگرانی میں بحیرہ احمر، بحیرہ اسود، بحر ہند کے علاوہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز بھی شامل ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی بیس فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdciv5a53t1a3w2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس