تاریخ شائع کریں2021 21 February گھنٹہ 23:39
خبر کا کوڈ : 493967

اسرائیل کے عنقریب زوال سے متعلق سابق انٹیلیجنس چیف کے اعترافات

شین بیٹ کے سابق سربراہ نے کہا کہ دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی شدت یہودیوں اور عربوں کے درمیان اختلافات کی شدت سے کہیں زیادہ ہے
اسرائیل کے عنقریب زوال سے متعلق سابق انٹیلیجنس چیف کے اعترافات
تحریر: رضا محمد مراد

اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے "شاباک" یا شین بیٹ کے سابق سربراہ یووال ڈیسکین نے اس جعلی صہیونی رژیم کے تاریک مستقبل کے بارے میں چند اہم اعترافات کئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوٹ کے مطابق یووال ڈیسکین نے کہا ہے: "اسرائیل ہر گز اگلی نسل کیلئے باقی نہیں بچے گا۔" انہوں نے اسرائیل کے عنقریب زوال اور نابودی کے اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اندرونی طور پر شدید خلفشار کا شکار ہے اور یہی اندرونی کشمکش اور انتشار اس کے زوال کا باعث بن جائے گا۔ شین بیٹ یا شاباک اسرائیل کا ایک اہم انٹیلی جنس ادارہ تصور کیا جاتا ہے جو باقی دو انٹیلی جنس اداروں یعنی موساد اور آمان کا ہم پلہ ہے۔ شین بیٹ کا مرکزی دفتر دارالحکومت تل ابیب کے شمال میں "آفکا" نامی علاقے میں واقع ہے۔
 
شاباک کے سابق سربراہ یووال ڈیسکین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی معاشرے کا صرف 30 فیصد حصہ حکومتی پالیسیوں سے راضی ہے اور حکومت کی جانب سے فوجی اور اقتصادی شعبوں میں انجام پانے والے بھاری اخراجات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دباو برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکمرانوں کی جانب سے آبادی، سماجیات اور اقتصاد سے متعلق اپنائی گئی پالیسیاں ملک کو انتہائی بنیادی قسم کی تبدیلیوں سے روبرو کر دیں گی۔ ڈیسکین کے بقول یہ پالیسیاں اسرائیل کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں کیونکہ اسرائیلی معاشرے میں تقسیم اور دھڑے بندی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں میں کرپشن بہت زیادہ ہو رہی ہے اور عوام کا ان پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔
 
شین بیٹ کے سابق سربراہ نے کہا کہ دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی شدت یہودیوں اور عربوں کے درمیان اختلافات کی شدت سے کہیں زیادہ ہے۔ یووال ڈیسکین کے بقول ان مسائل کی وجہ سے اسرائیلی معاشرہ ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل خود کو علاقائی طاقت تصور کرتا ہے لیکن وسیع علاقوں پر قبضہ قائم کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ڈیسکین نے کہا کہ اسرائیل کے مرکزی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آئندہ چند سالوں میں مذہبی رجحانات کے حامل حریدی اور عرب نژاد شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا اور یہ امر ملک کے مستقبل پر اثر ڈالے گا۔ انہوں نے حریدی نژاد شہریوں کو ملک کیلئے خطرہ قرار دیا۔
 
اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے شاباک کے سابق سربراہ یووال ڈیسکین نے کہا کہ حریدی نژاد شہری صہیونزم کے شدید مخالف ہیں اور ان کی نظر میں اسرائیل کا وجود تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب شہریوں کی بڑھتی ہوئے آبادی بھی اسرائیل کیلئے بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ خود کو اس سرزمین کا مالک اور یہودیوں کو غاصب تصور کرتے ہیں۔ یووال ڈیسکین نے کہا کہ حریدی نژاد شہریوں کے علاوہ روایتی سیکولر سوچ کا حامل طبقہ، مذہبی قوم پرست طبقہ، شدت پسند طبقہ، مزراحیم اور اشکنازی نژاد طبقہ، درمیانہ طبقہ، دولت مند طبقہ، محروم طبقہ اور گوشہ نشین طبقہ پایا جاتا ہے۔ ان تمام طبقوں پر شدید دباو موجود ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے اہم مراکز میں آرتھوڈوکس شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے جس کے باعث عدم مساوات برقرار ہو چکی ہے۔
 
یووال ڈیسکین نے کہا کہ یہ ساری صورتحال دیکھ کر بہت آسانی سے اسرائیل کے تاریک مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس کیلئے تجزیہ کار ہونا ضروری نہیں۔ اسرائیل کو درپیش شدید چیلنجز میں سے ایک اس ملک میں موجود شدید سیاسی بحران ہے جس کے باعث اب تک کئی بار الیکشن منعقد ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں کوئی بھی سیاسی جماعت بھاری اکثریت حاصل کر کے ایک مضبوط حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب تک کینسٹ کئی بار تحلیل کی جا چکی ہے اور متعدد مڈٹرم الیکشن منعقد ہو چکے ہیں۔ چوتھے مڈٹرم الیکشن 23 مارچ 2021ء کو منعقد ہونے ہیں۔ یہ شدید سیاسی بحران اب دھیرے دھیرے سکیورٹی بحران میں بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
 
حال ہی میں ایسے بیس اسرائیلی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایک ایشیائی ملک کو کروز میزائل بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مقبوضہ فلسطین، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں مقیم فلسطینیوں کی بڑی تعداد بھی اسرائیل کی قومی سلامتی کو درپیش ایک اور اہم خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس وقت اسرائیل میں صہیونیوں کی آبادی فلسطینیوں کی آبادی کے مقابلے میں بہت کم شرح سے بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں فلسطینیوں کی آبادی بڑھ جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔ اور اگر جلاوطن فلسطینیوں کو بھی وطن واپسی کی اجازت مل جائے تو یہودی اقلیت بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو کیسے حل کرے۔ جو راہ حل بھی اختیار کیا جائے وہ اسرائیل کے مستقبل کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdch-xnkq23nwwd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس