تاریخ شائع کریں2021 17 February گھنٹہ 15:28
خبر کا کوڈ : 493481
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

ایران نے نظام تسلط کو مسترد کردیا ہے

شجاعت، حمیت اور دینداری کو آذربائیجان اور تبریز کے عوام کی نمایاں خصوصیات ہیں
اسلامی انقلاب سے پہلے امریکا اور سابق سویت یونین نے دنیا میں نظام تسلط کی حکمرانی قائم کر رکھی تھی، ایک حصے پر سوویت یونین کا تسلط تھا اور دوسرے پر امریکا کا۔ اس نظام تسلط میں ایک طرف تسلط جمانے والی طاقتیں تھیں اور دوسری طرف وہ ممالک تھے جنہوں نے تسلط قبول کر لیا تھا
ایران نے نظام تسلط کو مسترد کردیا ہے
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بدھ کو تبریز کے عوام کی فروری انیس سو ستتر کی انقلابی تحریک کی سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں اسلامی انقلاب میں آذربائیجان بالخصوص تبریز کے عوام کے ناقابل فراموش کردار اور کی فداکاریوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں شجاعت، حمیت اور دینداری کو آذربائیجان اور تبریز کے عوام کی نمایاں خصوصیات شمار کیا۔

آپ نے اپنے خطاب میں اسلامی انقلاب کی برکات اور اس کے نتیجے میں ایران میں ہونے والی پیشرفت و ترقی سے مستقبل کی تعمیر کے لئے کام لئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آپ نے اسلامی انقلاب سے سامراجی طاقتوں کی دشمنی کی بنیادی وجہ یہ بتائی کہ اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام نے، مشرقی اور مغربی سپر طاقتوں کے بنائے ہوئے نظام تسلط کو مسترد کر دیا اور اس کے مقابلے میں ڈٹ گیا۔

آپ نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے امریکا اور سابق سویت یونین نے دنیا میں نظام تسلط کی حکمرانی قائم کر رکھی تھی، ایک حصے پر سوویت یونین کا تسلط تھا اور دوسرے پر امریکا کا۔ آپ نے فرمایا کہ اس نظام تسلط میں ایک طرف تسلط جمانے والی طاقتیں تھیں اور دوسری طرف وہ ممالک تھے جنہوں نے تسلط قبول کر لیا تھا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ چونکہ اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام نے اس نظام اور تقسیم کو مسترد کردیا اس لئے سامراجی طاقتیں اس کی دشمن ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کبھی انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے، کبھی ایران کی ایٹمی توانائی اور کبھی علاقے میں اس کے اثر و رسوخ کی بات کی جاتی ہے، یہ سب بہانہ ہے، بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ ایران نے نظام تسلط کو مسترد کردیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں ایٹمی معاہدے کے تعلق سے فرمایا کہ اب ایران امریکا اور یورپ کے وعدوں پر نہیں بلکہ صرف ان کے عمل پر توجہ دے گا۔

یاد رہے کہ رہبر انقلاب اسلامی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا ایٹمی معاہدے سے نکلا ہے، اس نے اس کی خلاف ورزی کی ہے، اس لئے پہلے اسی کو اس معاہدے میں واپس آنا ہے۔

آپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا ایٹمی معاہدے میں واپس آئے، ساری پابندیاں ختم کرے، پھر ایران اس کے اقدامات کو پرکھے گا، اس کے بعد ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے جن وعدوں پر عمل کو معطل کر رکھا ہے، ان پر دوبارہ عمل درآمد شروع کرےگا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے صاف اور واضح لفظوں میں فرمایا ہے کہ ایٹمی معاہدے کےتعلق سے صرف ایران کو شرط رکھنے کا حق حاصل ہے امریکا یا کسی دوسرے فریق کو نہیں۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcivpa5zt1a352.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس