تاریخ شائع کریں2021 25 January گھنٹہ 16:03
خبر کا کوڈ : 490802

دنیا کو اس وقت عوامی صحت اور معیشت کے عالمی بحران نے جکڑا ہوا ہے۔عمران خان

وزیر اعظم پاکستان کا کووڈ-19 کے خلاف اور معیشت کی بحالی کے لیے ایک پانچ نکاتی ایجنڈا۔
دنیا کو اس وقت عوامی صحت اور معیشت کے عالمی بحران نے جکڑا ہوا ہے۔عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے لڑائی اور معیشت کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کووڈ-19 ویکسین کی یکساں فراہمی کا مطالبہ کردیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا میں ہونے والی تجارت و ترقی سے متعلق کانفرنس کے چوتھے اجلاس سے پیر کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو اس وقت عوامی صحت اور معیشت کے عالمی بحران نے جکڑا ہوا ہے، گوکہ کورونا وائرس غریب اور امیر میں تفریق نہیں دیکھتا، کمزور ممالک اور افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور کروڑوں افراد خط غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ہماری حکمت عملی اب تک بہت کارگر رہی ہے لیکن دوسری لہر کے اثر کو مکمل طور پر زائل کرنے کے لیے معاشی ترقی کو برقرار اور بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں درکار ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کووڈ-19 ویکسین کا انتظام کررہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ویکسین سے پوری دنیا کا احاطہ کرنے کے لیے کافی وقت درکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک وبا موجود ہے، اس وقت تک پائیدار ترقی مشکل ہو گی اور ترقی پذیر ممالک وبا کے اثرات سے بحالی اور اپنے قرضوں کی ادائیگی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر کووڈ-19 کے خلاف اور معیشت کی بحالی کے لیے ایک پانچ نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔

1 - ترقی پذیر ممالک کو سستی کووڈ ویکسین کی یکساں فراہمی کے لیے موزوں فریم ورک بنایا جائے، کوویکس سہولت کا احاطہ وسیع کیا جائے۔

2 - وبا کے خاتمے تک مشکلات سے دوچار ممالک کی قرضوں کی ادائیگی کو منسوخ کر کے اضافی ریلیف فراہم کیا جائے اور متفقہ فریم ورک کے تحت پبلک سیکٹر کے قرضوں کو دوبارہ سے مرتب کیا جائے۔

3 - بڑھتے ہوئے ادائیگی کے دباؤ کے توازن کو ختم کرنے کے لیے 500 ارب ڈالر مختص کیے جائیں۔

4 - کرپٹ سیاستدانوں اور مجرموں کی جانب سے چوری کیے گئے اثاثوں کی واپسی یقینی بنائی جائے، ترقی پذیر ممالک سے غیرقانونی طور پر بیرون ملک بھیجے گئے پیسوں سے دنیا میں کسی بھی چیز سے زیادہ غربت بڑھی ہے۔

5 - ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں کیے جا رہے اقدامات کے لیے سالانہ بنیادوں پر 100 ارب ڈالر کے ہدف کو پورا کیا جائے۔
http://www.taghribnews.com/vdccxxq0i2bqo48.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس