تاریخ شائع کریں2021 24 January گھنٹہ 18:22
خبر کا کوڈ : 490675

کورونا ویکسین سب کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہوگی۔

مٹاپے کا شکار افراد ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے لیے کورونا وائرس کو زیادہ خطر ناک بتایا جاتا ہے۔
کورونا ویکسین سب کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہوگی۔
کورونا وائرس کی ویکسین کی دست یابی کو عالمی وبا کے خلاف امید کی کرن قرار دیا جارہا ہے تاہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے اس میں خاص طور پر مٹاپے کا شکار افراد کے بارے میں مختلف تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسین لگوانے کے باوجود ان کے کورونا سے متاثر ہونے کے امکانات میں زیادہ کمی واقع نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ مٹاپے کا شکار افراد ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے لیے کورونا وائرس کو زیادہ خطر ناک بتایا جاتا ہے۔حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق مٹاپے میں مبتلا افراد کو کورونا وائرس کی ویکسین دینے کے بعد کیے گئے مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے جسم کا ردّعمل سست رہا اور ویکسین لگنے کے باوجود مطلوبہ تعداد میں اینٹی باڈیز نہیں بنیں۔ بعض معاملوں میں یہ ردعمل اس قدر سست رہا ہے کہ مٹاپے کا شکار افراد کے لیے ویکسین کے غیر مؤثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مٹاپا صحت عامہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور دنیا کی کل آبادی میں سے 13 فی صد افراد وزن بڑھنے اور مٹاپے جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ 80ء کی دہائی سے اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹاپے کے باعث بہت سے ایسے جسمانی و ذہنی مسائل جنم  لیتے ہیں جو امنیاتی نظام کو بھی کمزور کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انفلونزا، ریبیز اور ہیپاٹائٹس بی سے متعلق بھی یہ نتائج سامنے آئیں ہیں کہ ان کی ویکسین بھی مٹاپے کا شکار افراد کو ان بیماریوں سے بچانے کے لیے زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فربہ افراد کے لیے ویکسین کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیےباقاعدہ طبی آزمائش کے ذریعے معلومات مرتب کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ویکسین کی مختلف خوراکوں اور مقدار کے حوالے سے بھی حقائق کی بنیاد پر نئی حکمت تیار کی جاسکتی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مٹاپے اور اس سے جڑی طبی پیچیدگیوں اورصحت عامہ کو لاحق خطرات پر مکمل طور پر قابو پانے کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر صحت مند طرز زندگی اختیار کرنا ہوگا۔ صحت بخش اور متواز غذا اور صحت مندانہ جسمانی سرگرمیوں کا فروغ اور حوصلہ افزائی ہی اس ابھرتے ہوئے عالمی چیلنج کا سب سے مؤثر جواب ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdca0wnym49noi1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس