تاریخ شائع کریں2021 15 January گھنٹہ 16:26
خبر کا کوڈ : 489708

افغانستان میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول غیر اعلانیہ دورہ پر کابل پہنچ گئے۔
افغانستان میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔
افغانستان میں قیام امن کیلیے پاکستان کی طرف سے کی جانے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلیے بدھ کے روز بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول غیر اعلانیہ دورہ پر کابل پہنچ گئے جب کہ انھوں نے یہ دورہ ایسے موقع پر کیا ہے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انتہائی انٹرافغان مذاکرات جاری ہیں۔

افغان صدر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران افغانستان میں قیام امن کیلئے جاری کوششوں اوردہشتگردی سے نمٹنے کیلیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دوسری طرف بھارت کی طرف سے اس دورے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

بھارتی مشیرقومی سلامتی کے دورہ کابل پر گہری نظر رکھے ہوئے پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول کا یہ دورہ افغانستان میں قیام امن کیلئے کی جانے والی امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوششوں کا حصہ ہے کیونکہ بھارت افغانستان میں امن نہیں چاہتا۔

ایک پاکستانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان میں یہ پختہ رائے پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں امن واستحکام بھارت کو پسند نہیںلہذا وہ حالات خراب کرنے کی کوششیں کرتا رہے گا تاکہ وہ اس بدامنی سے فائدہ اٹھا سکے۔

اس کے برعکس افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان ،ایران اورروس کو ہے لہذا تینوں ملک وہاں امن کو موقع دینے کیلئے علاقائی سطح پر ایک دوسرے سے متفق ہیں۔

دوسری طرف بھارت حالات خراب کرنے کیلئے سرگرم ہے۔پاکستان افغانستان میں بدامنی کیلئے اندرونی اوربیرونی عناصر کی باربار نشاندہی کرتا رہا ہے ،بیرونی عناصر سے مراد بھارت ہی ہے۔

ایک دوسرے پاکستانی عہدیدارکا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔ لہذا اجیت ڈوول کا دورہ کابل بلاوجہ نہیں۔بھارت نے افغانستان میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو ابھی تک دل سے تسلیم نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ کی امریکی انتظامیہ نے بھارت کے افغان طالبان کے ساتھ رابطے کرا کے انہیں ایک سیاسی حقیقت کے طور پر قبول کرنے کیلئے بھارت پر دباؤڈالا تھا۔لیکن نریندرمودی کی بھارتی حکومت ابھی تک اس سے گریز کرتی آرہی ہے اوراس نے افغانستان میں قیام امن کیلئے ایران اورروس سمیت خطے کے ممالک کی طرف سے کی جانے والی کوششوں سے خود کو الگ رکھا ہوا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcfx1djcw6dcea.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس