تاریخ شائع کریں2021 14 January گھنٹہ 10:45
خبر کا کوڈ : 489588

براڈشیٹ کی توپوں کا رخ پاکستانی حکومت کی جانب

کاوے موسوی نے پچھلے ہفتے شریفوں، آصف علی زرداری، جنرل مشرف، ایک نامعلوم جنرل اور پی ٹی آئی کی حکومت سے منسلک ایک نامعلوم فرد پر رشوت اور چند منتخب افراد کے احتساب کا الزام لگایا تھا اور اب انہوں نے بے حسی اور 'غیریقینی' احتساب کی مہم پر عمران خان اور ان کی کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
براڈشیٹ کی توپوں کا رخ پاکستانی حکومت کی جانب
شریف خاندان پر تحقیقات ختم کرنے کے لیے رشوت کی پیش کش کرنے کے الزامات عائد کرنے کے چند دن بعد براڈشیٹ ایل ایل سی کے مالک کاوے موسوی نے اپنی توپوں کا رخ موجودہ حکومت کی جانب موڑ دیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان سے ثالثی کے حکمنامے کو شائع کرنے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 2کروڑ 90لاکھ ڈالر کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

کاوے موسوی نے یوٹیوب چینل پر ایک نئے انٹرویو میں کہا کہ میں حکومت پاکستان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ سر انتھونی ایونز کے فیصلے کو کھولیں، یہ انتہائی پیچیدہ ہے۔

اگر بدعنوانی کے خلاف جنگ میں عمران خان کی ساکھ کے دعویٰ کی کوئی اہمیت ہے تو وہ اس فیصلے کو شائع کریں تاکہ پاکستانی عوام وہ پڑھ سکیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میں یہ سوچنا شروع کردوں گا کہ وہ کچھ اعتبار حاصل کر رہے ہیں۔

کاوے موسوی نے پچھلے ہفتے شریفوں، آصف علی زرداری، جنرل مشرف، ایک نامعلوم جنرل اور پی ٹی آئی کی حکومت سے منسلک ایک نامعلوم فرد پر رشوت اور چند منتخب افراد کے احتساب کا الزام لگایا تھا اور اب انہوں نے بے حسی اور 'غیریقینی' احتساب کی مہم پر عمران خان اور ان کی کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ براڈشیٹ نے اپنا کام کیا، عدالت نے اسے رقم سے نوازا کیونکہ اس نے یہ کام کیا تھا، ہم نے لاکھوں ڈالر کا دعویٰ کیا کیونکہ ہمیں اربوں روپے ملے تھے لیکن نیب نے اس کو سبوتاژ کیا۔

انہوں نے اپنے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایک نامعلوم شخص جو کاوے موسوی کا ماننا ہے کہ 2018 میں لندن آنے والے سرکاری وفد کا حصہ تھا، سے جب انہوں نے ایک ارب ڈالر کی چوری شدہ رقم کے اکاؤنٹ کے بارے میں ذکر کیا تو اس نے اپنے حصے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت کے وکیلوں کو اپنا حصہ مانگنے والے اس شخص کے بارے میں آگاہ کیا لیکن یہ ایک 'بڑی غلطی' تھی کیونکہ اس بارے میں کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے برطانیہ میں پولیس کو اطلاع دینی چاہیے تھی۔"

اس سے قبل کاوے موسوی نے الزام لگایا تھا کہ ایک شخص نے انجم ڈار کے طور پر اپنی شناخت کرائی اور نواز شریف سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے 2012 میں شریف فیملی کے خلاف تفتیش روکنے کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر رشوت کی پیش کش کی، حسین نواز نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ اس نام کا ان کے خاندان میں کوئی رشتہ دار نہیں۔

کاوے موسوی نے بعد میں جواب دیا کہ اگر عمران خان اور شریف خاندان دھمکی دیتے رہیں گے تو ہم محض فیصلہ شائع کردیں گے اور آپ دیکھیں گے کہ عدالت نے براڈشیٹ کی کارکردگی کے بارے میں کیا کہا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کاوے موسوی جس واحد شخص کے بارے یں مثبت باتیں کرتے ہیں وہ جنرل محمد امجد ہیں جو 2000 میں جنرل پرویز مشرف کے ذریعہ مقرر کردہ نیب کے سربراہ تھے اور انہوں نے شریف خاندان کے خلاف براڈشیٹ ایل ایل سی کی خدمات حاصل کی تھیں۔

جنرل امجد اب تک براڈشیٹ کہانی پر میڈیا کے ہنگاموں سے دور رہے ہیں، 2017 میں وہ نواز شریف کے خلاف مقدمے میں ثبوت دینے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

پچھلے ہفتے میں کاوے موسوی کئی نیوز چینلز پر نمودار ہوئے اور متعدد افراد کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں جن میں سے کچھ کی انہوں نے شناخت کی ہے۔

2000 میں جنرل امجد کے دستخط کردہ اس براڈشیٹ معاہدے میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ کمپنی جو بھی اثاثے برآمد کرے گی اس کا 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا اور بقیہ نیب کے پاس جائے گا۔

اس معاہدے میں براڈشیٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی جگہ اثاثے ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔

نیب اور براڈشیٹ نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تھا جس کو نیب اور کمپنی کو مشترکہ طور پر کنٹرول کرنا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمد ہونے والی تمام اثاثوں کی رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔
http://www.taghribnews.com/vdcbw9bawrhbwsp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس