تاریخ شائع کریں2021 8 January گھنٹہ 16:40
خبر کا کوڈ : 488867
آیت اللہ اراکی

داعش کے ذریعے پاکستان کو نا امن کرنے کی سازش کی جارہی ہے

آیت اللہ اراکی نے کہا کہ امریکہ نے داعش دہشت گرد تنظيم کو تشکیل دیا اور اس سے پہلے بھی صدام جیسے ڈکٹیٹر کی حمایت کرتا رہا ہے جس نے 1991 سے 2003 تک عراق میں بیس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا ہے۔ امریکہ بشریت اور انسانیت کا  دشمن ہے اور اس کے ساتھ ہمیں بھی دشمنی کرنی چاہیے
داعش کے ذریعے پاکستان کو نا امن کرنے کی سازش کی جارہی ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم میں مقیم پاکستان طلباء نے سانحہ مچھ کے متاثرین سے یکجہتی اور ہمدردی کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ سانحہ مچھ کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے مقدس شہر قم میں مقیم پاکستان طلباء نے کل رات مدرسہ حجتیہ میں ایک اجتماع منعقد کیا جس میں سانحہ مچھ کے متاثرین سے یکجہتی اور ہمدردی کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر زوردیا گيا کہ وہ  سانحہ مچھ کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔

پاکستانی طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین مچھ سانحہ کے مجرموں کو اسلام اور انسانیت کا دشمن قراردیا۔ جلسے کے مہمان خصوصی جناب آیت اللہ اراکی نے پاکستانی عوام کو اس سانحہ پر تسلیت پیش کی اور کہا یہاں ایسے مزدوروں کا قتل عام ہوا ہے جو اس ملک کے خدمتگذار تھے ۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ قاتلوں  کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کریں۔ ان کے خلاف میڈیا وار شروع کرنے کی ضرورت ہے۔۔

آیت اللہ اراکی نے کہا کہ امریکہ نے داعش دہشت گرد تنظيم کو تشکیل دیا اور اس سے پہلے بھی صدام جیسے ڈکٹیٹر کی حمایت کرتا رہا ہے جس نے 1991 سے 2003 تک عراق میں بیس لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا ہے۔ امریکہ بشریت اور انسانیت کا  دشمن ہے اور اس کے ساتھ ہمیں بھی دشمنی کرنی چاہیے۔

آیت اللہ اراکی کا مزید کہنا تھا کہ داعش دہشت گرد تنظيم  کے ذریعے پاکستان کو نا امن کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور یہ پاکستان کو اسرائیل کے حوالے سے ٹھوس مؤقف کی سزا مل رہی ہے۔ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا جرآت مندانہ موقف قابل قدر ہے ۔  انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا  کہ وہ مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرے اور اپنے عوام کا تحفظ یقینی بنائے۔

جلسے سے کویٹہ کے جید عالم دین علامہ ابن الحسن حیدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مچھ میں مظلوم مزدوروں کو بے دردی سے ذبح کیا گیا ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی بارہا ہمارا خون بہایا گیا ہے۔ ہم ریاست سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے قاتل کون ہیں ۔ جب کسی سیاستدان کا کوئی رشتہ دار مارا جاتا ہے تو پوری ریاستی مشینری حرکت میں آجاتی ہے لیکن ہمارے قتل عام پر پوری ریاست خاموش ہے۔ ریاست ہمیں تحفظ دے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے اور  قاتلوں کو گرفتار کرے اور شہداء کے لواحقین کے مطالبات کو فوری طور پر پورا کرے ورنہ پورے پاکستان میں احتجاج کیا جائےگا۔
http://www.taghribnews.com/vdcaiany049naa1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس