تاریخ شائع کریں2021 7 January گھنٹہ 16:31
خبر کا کوڈ : 488779

دہشت گردی کے عفریت نے ستر ہزار انسانی جانوں کو نگل لیا

شیعہ ہزارہ کمیونٹی گزشتہ چار روز سے منفی سات کی شدید سردی میں بیٹھے اپنے مطالبات کی منظوری کے منتظر ہیں ان کے مطالبات تسلیم ہونے سے عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا
دہشت گردی کے عفریت نے ستر ہزار انسانی جانوں کو نگل لیا
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا اور دیگر علماء نے ڈی چوک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں کا خمیازہ پوری قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ دہشت گردی کے عفریت نے ستر ہزار انسانی جانوں کو نگل لیا۔ظلم و بربریت کا یہ کھیل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔بلوچستان کے علاقے مچھ میں محنت کشوں کو جس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا اس نے پورے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ہیں۔اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہو گا کہ شہید ہونے والوں میں پانچ سگے بھائی بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں دہشت گرد سزا سے بچ جاتے ہیں جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ہوئے ہیں۔ذمہ دارن ادارے واضح کریں کہ دہشت گردی کے واقعات میں قتل ہونے والے ہزاروں افراد کے کتنے قاتلوں کو آج تک پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔افغانستان میں جو مجاہد بن جاتے ہیں۔ اپنے وطن میں وہ لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں۔ملک دشمن عناصر جس سزا کے مستحق تھے آج تک وہ اس سے بچے ہوئےہیں۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ ہزارہ کمیونٹی گزشتہ چار روز سے منفی سات کی شدید سردی میں بیٹھے اپنے مطالبات کی منظوری کے منتظر ہیں۔ان کے مطالبات تسلیم ہونے سے عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا۔ریاست کا سربراہ باپ کی حیثیت رکھتا ہے۔وزیر اعظم کے کوئٹہ جانے سے ان کے قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہو گا۔عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ہزاروں جنازے اٹھانے کے باوجود حب الوطنی کے گن گانے والے ہزارہ قبیلے کے ساتھ سرد روی حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مظلومین کی حمایت میں پورے پاکستان سے لوگ گھروں سے نکل آئے ہیں۔یہ آواز پوری دنیا تک پھیلے گی۔ہم مظلومین کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ہمیں دنیا کی پروا نہیں ہم نے اللہ کو راضی کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہا بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔وہاں ہزارہ قبیلہ ہزاروں جنازے اٹھا چکا ہے وہاں بھرپور آپریشن کی شدید ضرورت ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdccm4q0o2bq4m8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس