تاریخ شائع کریں2021 7 January گھنٹہ 16:28
خبر کا کوڈ : 488778

کانگریس نے جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی توثیق کردی

امریکا میں دن کا آغاز ہوا تھا تو ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی ایوان نمائندگی کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمی بھی ہو گئے تھے
کانگریس نے جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی توثیق کردی
حالیہ امریکی تاریخ کے پرتشدد دنوں میں سے ایک کے دوران امریکی کانگریس نے جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح اور امریکا کا 46واں صدر بنانے کی توثیق کردی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکا میں دن کا آغاز ہوا تھا تو ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی ایوان نمائندگی کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمی بھی ہو گئے تھے۔

اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں سینیٹ میں موجود قانون دانوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا اور ایوان میں کارروائی کو روک دیا گیا تھا۔

تاہم واشنگٹن کے میئر میوریئل براؤن کی جانب سے کرفیو اور 15 دن کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قانون دانوں کی ایوان میں دوبارہ واپسی ہوئی تھی۔

واشنگٹن پولیس کے سربراہ رابرٹ جے کونٹی نے بدھ کی رات نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایک خاتون گولی لگنے سے ہلاک ہو گئیں جبکہ ہجوم کی جانب سے سڑکیں بلاک کیے جانے کے سبب بروقت امداد نہ ملنے کی وجہ سے طبی مسائل سے تین افراد بھی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مشتعل مظاہرین کے حملوں میں 14 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

پولیس نے 52 افراد کو گرفتار کر لیا جن میں سے اکثر کو کرفیو کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا جبکہ انہوں نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے ہیڈ کوارٹرز کے پاس سے دو پائپ بم بھی برآمد کیے۔

پولیس سربراہ نے مزید کہا کہ پولیس نے پستول، گن اور دھماکا خیز مواد سمیت ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گڑبڑ کا آغاز دوپہر پونے تین بجے ہوا جب ہجوم نے کیپیٹل ہِل کی سیکیورٹی پر دھاوا بول دیا اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو کیپیٹل ہل کے علاقے سے نکالے جانے کے بعد قانو دانوں نے توثیق کے عمل کا دوبارہ سے آغاز کیا، سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں نے دو مرتبہ ووٹنگ کرتے ہوئے ایریزونا اور پنسلوینیا میں الیکشن نتائج میں تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کردیا۔

نائب صدر اور سینیٹ کے صدر مائیک پینس نے تمام جوائنٹ سیشنز کی صدارت کی۔
ریپبلکن سینیٹرز نے مبہم نتائج کی حامل چھ ریاستوں ایریزونا، جیارجیا، مشیگن، نیواڈا، پینسل وینیا اور وسکونسن میں الیکٹورل ووٹس واپس کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، حتیٰ کہ حملے کے بعد بھی ایوان میں موجود درجنوں ریپبلکن اراکین نے انتخابی نتائج کو منسوخ کرانے کے اپنے منصوبے پر عمل جاری رکھا لیکن بدھ کو مشتعل ہجوم کی جانب سے دھاوا بولے جانے کے بعد سینیٹرز نے ان دو اعتراضات پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اس سے قبل 93 سینیٹرز نے ایریزونا کے اعتراض کو مسترد کردیا اور اس سلسلے میں صرف چھ نے ووٹ کیا جبکہ اس کے بعد ووٹرز نے 7 کے مقابلے میں 92 ووٹس سے پینسلوینیا کے اعتراض کو بھی مسترد کردیا۔

435 اراکین کے ایوان میں 282 نے اعتراضات مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 138 نے اس کے حق میں ووٹ دیا، اس سے قبل 302 نے ایریزونا کے اعتراض کو مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ 82 نے اس کے حق میں رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔

کسی ڈیموکریٹ نے ان اعتراضات پر ووٹ نہیں دیا تھا جبکہ درجنوں ریپبلیکنز نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

رات گئے سیشن 3 بجکر 27 منٹ پر شروع ہوا اور آدھے گھنٹے میں کارروائی مکمل کر لی، جب سیشن کا آغاز ہوا تو چھٹی متنازع ریاست وسکونسن پر کسی بھی سینیٹر نے اعتراض کے سرٹیفکیٹ پر دستخط نہیں کیے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 538 الیکٹورل ووٹس میں سے بائیڈن اور ہیرس نے 306 ووٹ حاصل کیے جبکہ اس کے مقابلے میں ٹرمپ اور پینس نے 232 ووٹ لیے۔

پینس نے بائیڈن اور ہیرس کو 2020 انتخابات کا فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اجلاس کے بعد امریکی سینیٹ کے چیپلین نے دعا کرائی اور بدھ کو پرتشدد جھڑپوں میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

ریپبلیکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ جو بائیڈن اور کمالہ ہیرس قانونی طور پر منتخب ہوئے اور امریکا کے صدراور نائب صدر بن جائیں گے۔

گوکہ اب بائیڈن 20 جنوری کوامریکی تاریخ کے 46ویں صدر بن جائیں گے لیکن پرتشدد واقعات نے سرٹیفکیشن کے عمل کو دھندلا دیا۔

ریپبلیکن مٹ رومنی نے کہا کہ آج جو ہوا وہ امریکا کے صدر کی جانب سے بغاوت میں اکسائے جانے کا نتیجہ تھا۔

سینیٹ میں اکثریت کے حامل رپبلیکنز کے رہنما مچ میک کونیل نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری جموہریت میں تعطل ڈالنے کی کوشش کی اور وہ ناکام ہو گئے۔

جب سینیٹ کا سیشن شروع ہوا تو اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان پر زور دے رہے تھے کہ وہ 20 جنوری کو نئے صدر کو لانے کے لیے جاری عمل کو روک دیں۔

ٹرمپ نے کیپیٹل ہل پر چڑھائی کی اجازت اس وقت دی جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ پینس اور میک کونیل سمیت لوگ ان کی وائٹ ہاؤس برقرار رکھنے کی کوشش میں ان کا ساتھ دینے کے بجائے آئین کی پیروی کریں گے۔

نائب صدر مائیک پینس نے دوبارہ سے سیشن کے آغاز کے موقع پر مظاہرین کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ 'آپ جیت نہیں سکے'۔

انہوں نے کہا کہ یرا یہ ماننا ہے کہ اپنے حلف کی پاسداری اور آئین کا دفاع میا فرض ہے اور اسی وجہ سے میں میں یکطرفہ طور پر اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے بائیڈن کو صدر بنانے والے الیکٹورل ووٹ کو مسترد نہیں کر سکتا۔

جب سینیٹرز پولیس کے حفاظتی حصار میں سینیٹ میں واپس آئے تو میک کونیل نے کہا کہ امریکی سینیٹ کو ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا، ہمیں دھمکیاں، ٹھگ اور بلوائی اس چیمبر سے باہر نہیں رکھ سکتے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن جمی گومز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح حکومت کا تختہ الٹنے کا آغاز ہوتا ہے، اسی طرح جمہوریت کی موت ہوتی ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcbzwbawrhbwzp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس