تاریخ شائع کریں2021 7 January گھنٹہ 15:50
خبر کا کوڈ : 488770

پاکستان: شیعہ مظاہرین کا احتجاج پانچویں دن میں داخل

کوئٹہ کے انتہائی سرد موسم اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کے باوجود خواتین اور بچوں سمیت لواحقین ہزارہ ٹاؤن کے قریب مغربی بائی پاس کے علاقے کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ ​​​​​​​
پاکستان: شیعہ مظاہرین کا احتجاج پانچویں دن میں داخل
پاکستان میں اسوقت چحوٹے بڑے شہروں میں سانحہ کوئٹہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرے جاری ہیں۔

کوئٹہ کے انتہائی سرد موسم اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کے باوجود خواتین اور بچوں سمیت لواحقین ہزارہ ٹاؤن کے قریب مغربی بائی پاس کے علاقے کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

مظاہرین کا یہ احتجاج پانچویں دن میں داخل ہوچکا ہے اور گزشتہ روز اس احتجاج کے چوتھے دن وفاقی وزیر سمندری امور علی زیدی، معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور کوشش کی کہ وہ قتل کیے گئے کان کنوں کی میتوں کی تدفین کردیں تاہم انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کے بغیر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

وفاقی کابینہ کے یہ 2 اراکین منگل کو اس وقت کوئٹہ پہنچے تھے جب مظاہرین نے پیر کو کوئٹہ پہنچنے والے وزیر داخلہ شیخ رشید کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی ایک 90 سیکنڈ کی کلپ وائرل ہوئی جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اس ویڈیو میں انہیں مظاہرین سے یہ پوچھتے ہوئے دیکھا گیا کہ جب وزیراعظم آئیں گے تو آپ ان سے کیا ذمہ داری لیں گے۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم انہیں (وزیراعظم) کو لے کر آئیں گے، ہم نے آپ سے وعدہ کیا ہے وہ جلد آئیں گے‘۔

معاون خصوصی کو مظاہرین سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’خدانخواستہ اگر کل کو پاکستان میں کہیں ایک اور واقعہ ہوتا ہے تو وہ (لوگ) کہیں گے کہ ہم یہ چاہتے ہیں اور ہم یہ نہیں چاہتے، اگر کل کوئی اور شہید ہوجاتا ہے تو وہ یہ کہیں گے ہمیں یہ چاہیے اور یہ نہیں چاہیے‘۔

تاہم بعد ازاں ڈان نے گفتگو میں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اس گفتگو کا سیاق و سباق مختلف تھا اور ’یہ کلپ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر ظاہر کر رہا‘ ہے۔

ادھر مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے رہنما سید آغا رضا نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور دو وفاقی وزرا کو بتایا کہ وزیراعظم کے کوئٹہ آنے تک وہ تدفین نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات سے پتا لگا تھا کہ ان مسلح افراد نے اہل تشیع ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ان 11 کوئلہ کان کنوں کے آنکھوں پر پٹی باندھی، ان کے ہاتھوں کو باندھا جس کے بعد انہیں قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے اظہار مذمت کیا تھا جبکہ عمران خان نے ایف سی کو واقعے میں ملوث افراد کو انصاف میں کٹہرے میں لانے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس واقعے کے فوری بعد سے ہرازہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر احتجاج شروع کردیا تھا۔
http://www.taghribnews.com/vdcd5j0ozyt0j56.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس