تاریخ شائع کریں2021 6 January گھنٹہ 22:51
خبر کا کوڈ : 488719

مذہبی انتہاپسند اب داعش کا روپ دھار چکے ہیں

جب تک فلسطین کو انصاف نہیں ملتا پاکستان یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مچھ واقعے کی بنیاد 80 کی دہائی میں افغان جہاد سے ملتی ہے جس میں پاکستان شریک ہوا اور فرقہ وارانہ فسادات نے جنم لیا
مذہبی انتہاپسند اب داعش کا روپ دھار چکے ہیں
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں ہزارہ برداری کے کان کنوں کی ہلاکت کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی بنیاد 80 کی دہائی سے ملتی ہے جب افغان جہاد شروع ہوا اور اس میں پاکستان بھی شریک ہوا اور نتیجے میں فرقہ وارانہ فسادات نے جنم لیا۔

اسلام آباد میں ترکی کے نجی چینل 'اے نیوز' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی انتہاپسند مسلح افراد اب دہشت گرد تنظیم داعش کا روپ دھار چکے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم انہیں مکمل تحفظ اور سیکیورٹی کا یقین دلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں جبکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے حقوق کا تحفظ کرے'۔

علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ مذہبی منافرت کا اور ایک واقعہ خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں پیش آیا جہاں مندر کو نذرآتش کیا گیا، حکومت نے فوری اقدامات کے تحت تمام ملزمان کو گرفتار کیا اور وعدہ کیا کہ مندر دوبارہ تعمیر کریں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ مغربی تہدیب نے ہمیں اس لیے چھوڑ دیا کہ مسلم ممالک نے تعلیم کے فروغ کے لیے زور دینا ترک کردیا۔

اسلامو فوبیا سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے مغرب میں اسلاموفوبیا کا ارتقا دیکھا ہے، سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پر توہین پر مبنی کتاب لکھی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا سخت ردعمل آیا تو مغرب نے سمجھا کہ اسلام آزادی اظہار کے مخالف ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب مذہب کو اس طرح نہیں دیکھتا یا سمجھتا جیسے ہم کرتے ہیں اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور مغربی خصوصی طور پر یورپی ممالک کے مابین فاصلے بڑھتے چلے گئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے بارے میں میری معلومات دیگر مسلم رہنماؤں سے اس لیے زیادہ ہے کہ میں مغرب میں رہا ہوں اور فیملی بھی رہی۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد فاصلے مزید بڑھ گئے اور ساتھ ہی اسلاموفوبیا کا رحجان بھی تیزی سے بڑھنے لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہودی مغربی اور یورپی ممالک کو ہولو کاسٹ کے معنیٰ بتانے میں کامیاب ہوگئے۔

عمران خان نے کہا کہ یہودی ہولوکاسٹ کے معاملے میں یکجان ہیں اور ان میں موجود اتحاد کی وجہ سے مغربی معاشرے اور میڈیا میں ایسی کوئی بات نہیں کی جاتی جو ان کے جذبات کو مجروع کرے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ جب نیوزی لینڈ میں ایک سفید فام شخص نے مسجد میں مسلمانوں کو قتل کیا تو کسی نے کرسچن دہشت گردی تک نہیں کہا اور مغربی میڈیا نے سفید فام انتہا پسند قرا ردیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب کوئی انتہا پسند مسلمان کسی پرتشدد واقعے میں ملوث ہوتا ہے تو مغربی میڈیا مذہب یعنی 'اسلام' کو دہشت گردی سے جوڑ دیتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس وقت بھارت ایک ایسی حکومت ہے جو آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کو بہت خطرہ ہے، ہندو توا کے متعدد پرتشدد واقعات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

عمران خان نے کہا پاکستان اور بھارت کے بگڑے ہوئے تعلقات کی بنیادی وجہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نریندرمودی نے دوطرفہ تعلقات کی بحال سے متعلق میری پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اپنی اتنخابی مہم کو پاکستان مخالف رکھی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جانتا ہے کہ ریفرنڈم میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کا انتخاب کریں گے اس لیے کبھی ریفرنڈم نہیں کرایا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی حکمت عملی بہت بڑی غلطی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مغربی ممالک کسی کو اپنا اتحادی ملک بنانے کی خواہش مند ہو تو ادھر ہونے والے انسانی حقوق کے مسائل پر وہ توجہ نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں کیا حکمت عملی اختیار کرے گی، ہمیں کوئی اندازہ نہیں لیکن جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ سے مقبوضہ کشمیر پر بات ہوئی اس طرح نئی انتظامیہ سے بھی کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ چھڑی اور اس کی باری قیمت پاکستان نے ادا کی۔

انہوں نے کہا ہم جوبائیڈن انتظامیہ سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ بھارت اور پاکستان سے تعلقات میں توازن رکھیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطین کو انصاف نہیں ملے گا تب تک پاکستان یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ اسرائیل نے فلسطین میں کیا ہم اسے بھی تسلیم نہیں کرسکتے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کسی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور نہ ہی کوئی ڈال سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کی گنجائش نہیں تھی اس لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ اور کووڈ 19 ویکسین کے لیے چین سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے سیاحت متاثر ہوئی لیکن زراعت کا شعبہ زیادہ متاثر نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیٹا کی مدد سے منتخب علاقوں میں لاک ڈاؤن لگائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک نے کشمیر کے معاملے میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیا لیکن ہم ملائیشیا اور ترکی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام کے خلاف ہمارا ساتھ دیا۔
http://www.taghribnews.com/vdcgq79tyak97u4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس