تاریخ شائع کریں2021 6 January گھنٹہ 22:04
خبر کا کوڈ : 488702

تہران ایٹمی معاہدے سے نہیں نکلا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ امور کے سربراہ مجتبی ذوالنوری نے، یورپ کو اپنے وعدوں کی پابندی پر مجبور کرنے کی غرض سے پابندیوں کے خاتمے کے اسٹریٹیجک قانوں پر عملدر آمد کو ضروری قرار دیا ہے
تہران ایٹمی معاہدے سے نہیں نکلا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ امور کے سربراہ مجتبی ذوالنوری نے، یورپ کو اپنے وعدوں کی پابندی پر مجبور کرنے کی غرض سے پابندیوں کے خاتمے کے اسٹریٹیجک قانوں پر عملدر آمد کو ضروری قرار دیا ہے۔

ایران میں یورینیئم کی بیس فی صد افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کیے جانے سے متعلق یورپی یونین کے امور خارجہ کے ترجمان کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مجتبی ذوالنوری نے کہا ہے کہ اگر یورپ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے ایرانی اقدام کو ایٹمی معاہدہ ختم ہونے کے مترادف سمجھتا ہے کہ تو اسی نقطہ نگاہ سے یورپ کئی برس پہلے ہی، اپنے وعدوں پر عمل نہ کرکے ایٹمی معاہدہ ختم کر چکا ہے اور جب معاہدہ ہی باقی نہیں تو پھر تہران کے اقدامات سے اس کا خاتمہ کیسے ہو گیا۔

ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ امور کے سربراہ مجتبی ذوالنوری نے واضح کیا کہ تہران ایٹمی معاہدے سے نہیں نکلا ہے اور اگر یہ معاہدہ یورپ کے لیے اہم ہے تو پھر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرکے ایٹمی معاہدہ کا تحفظ کرے۔

قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے امور خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز ایران میں یورینیئم کی بیس فی صد افزدوگی دوبارہ شروع کیے جانے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے معاہدے کے تمام فریقوں سے اس پر عملدرآمد جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تہران کا یہ اقدام بقول ان کے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں واضح کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کی صورت میں تہران پہلی والی حالت پر واپس آجائے گا۔

درایں اثنا چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوننگ نے ایٹمی معاہدے کی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ اور حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کو اس معاہدے میں غیر مشروط طور پر واپس لانے کی کوشش کریں۔

اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے ایک بیان میں یورنیئم کی بیس فیصد افزودگی کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے ایٹمی معاہدے کی شق چھتیس کے تحت دوسرے فریقوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کیے جانے کے کئی برس بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔
 
ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگر معاہدے کے دوسرے فریق اپنے وعدوں پر عملدرآمد شروع کر دیں تو ایران بھی پہلی والی حالت میں واپسی کے لیے تیار ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdciuva5rt1avy2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس