تاریخ شائع کریں2020 20 December گھنٹہ 02:12
خبر کا کوڈ : 486436

ٹرمپ کا ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویُ۔

نے انتخابات میں دھاندلیوں کے تعلق سے ملک کی اعلی ترین عدالت، فیڈرل سپریم کورٹ کے کردار کو مایوس کن قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کا ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا دعویُ۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں دھاندلیوں کے دعوے کا اعادہ کیا ہے اور سپریم کورٹ کے رویئے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے چھے جنوری کو واشنگٹن میں بڑے احتجاجی اور غیر پرسکون مظاہرے کا اعلان کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، انتخابات میں دھاندلی کے دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹوئٹر پر کچھ تازہ پیغامات جاری کیے ہیں۔ ان پیغامات میں انہوں نے انتخابات میں دھاندلیوں کے تعلق سے ملک کی اعلی ترین عدالت، فیڈرل سپریم کورٹ کے کردار کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ الیکشن ہار گئے ہوں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انتخابات سے متعلق موجود اعداد و شمار کے پیش نظر ان کی شکست غیر ممکن ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چھے جنوری کو واشنگٹن میں بہت بڑا مظاہرہ ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے الیکشن کے نتیجے کے خلاف واشنگٹن میں بڑے مظاہرے کا اعلان ایسی حالت میں کیا ہے کہ اسی تاریخ کو امریکی کانگریس الیکٹورل کالج کی ووٹنگ کے نتیجے کا باضابطہ اعلان کرے گی ۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ چھے جنوری کو واشنگٹن میں آئیں، اس تاریخ کو وہاں حالات پر سکون نہیں رہیں گے کیونکہ ہمارے طرفداروں کا مظاہرہ پرسکون نہیں ہوگا!

یاد رہے کہ چودہ دسمبر کو الیکٹورل کالج میں ہونے والی رائے شماری کے دوران واضح ہوگیا ہے کہ جوبائیڈن تین سو چھے ووٹ حاصل کرکے ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں اور کانگریس چھے جنوری کو بائیڈن کی فتح کا اعلان کرنے والی ہے۔ اس مناسبت سے واشنگٹن میں منتخب صدر جوبائیڈن کے طرفداروں کی بڑی تعداد بھی موجود ہوگی۔

ان حالات میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی تاریخ کو واشنگٹن ڈی سی میں غیر پر سکون مظاہرے کا اعلان کر کے ، امریکا کے سیاسی و صحافتی حلقوں کے ساتھ ہی عوام میں بھی تشویش اور خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلین نے صدارتی انتخابات کے دوبارہ انتخابات کے لیے مارشل لا لگانے اور فوج تعینات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مائیکل فلین نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ٹرمپ چاہیں تو وہ فوج سے استفادہ کرسکتے ہیں، وہ مختلف ریاستوں میں فوج تعینات کرکے جس ریاست میں چاہیں دوبارہ انتخابات کرانے کا حق رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، بعض لوگ مارشل لا کے نفاذ کے حوالے سے ایسے باتیں کر رہے ہیں جیسے یہ کام آج تک اس ملک میں ہوا ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اس ملک میں اب تک چونسٹھ بار مارشل لا لگایا جا چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوری طور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کریں۔
http://www.taghribnews.com/vdcaeinyi49nay1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس