تاریخ شائع کریں2020 3 December گھنٹہ 15:42
خبر کا کوڈ : 484442

کورونا وائرس سے بچائو کے لئے پاکستان میں یوم دعا منانے کا اعلان

ایوان صدر اسلام آباد میں کورونا وائرس کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علما سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ 17اپریل کو روزانہ کورونا کے 500 مریض روزانہ بن رہے تھے اور جون کے مہینے میں یہ بڑھ گیا اور 12 جون تک 6ہزار 400 تک پہنچ گیا لیکن پھر یہ لوگوں تک پہنچتے پہنچتے یہاں تک رک گیا تھا
کورونا وائرس سے بچائو کے لئے پاکستان میں یوم دعا منانے کا اعلان
ایوان صدر اسلام آباد میں کورونا وائرس کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علما سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ 17اپریل کو روزانہ کورونا کے 500 مریض روزانہ بن رہے تھے اور جون کے مہینے میں یہ بڑھ گیا اور 12 جون تک 6ہزار 400 تک پہنچ گیا لیکن پھر یہ لوگوں تک پہنچتے پہنچتے یہاں تک رک گیا تھا۔
 
ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں وبا کا دوسرا حملہ ہے، اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سے گزارش کی کہ جو کامیابیاں ہم نے پہلے حاصل کیں، انہی کو دوبارہ محنت کرکے لوگوں تک اپنی بات پہنچا کر کامیابی حاصل کی جائے۔
 
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ہمیں کورونا سے بچنا ہے، کورونا سے لڑنا ہے والی کیفیت کو ہٹا دیا جائے۔

وزیر اعظم نے علما کے نام پیغام میں کہا کہ منبر اور محراب سے آپ کے ڈسپلن کی وجہ سے جو پیغام گیا میں ریاست کی طرف سے اسے سراہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ انتہائی منظم ہیں، آپ لوگوں کے کہنے سے معاشرے پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگوں کو اس کامیابی کے بعد اس کا اندازہ ہوا، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ان سارے معاملات میں علما کو ساتھ لے کر چلیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالتﷺ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قرارداد کے اعتبار سے جو کردار وزیر اعظم نے ادا کیا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم نے جو بیان دیا اس کو بھی یہاں علما نے سراہا۔
 
پاکستان کے صدر نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر پر علما نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری لہر میں لوگوں کی سنجیدگی کم ہو گئی ہے اور لوگ اس کو اتنی اہمیت نہیں دے رہے جتنی پہلی وارننگ میں دی گئی تھی اور اس وجہ سے علما نے پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ یہ بھی طے پایا کہ جمعے کے اجتماعات کے اندر خصوصاً 4دسمبر کو یوم دعا منایا جائے گا۔
 
انہوں نے کہا کہ 4دسمبر کو ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا اور علما نے اتفاق کیا کہ تمام اجتماعات اور دروس میں لوگوں کو آگاہی دیتے رہیں، ناصرف مساجد میں ایس او پیز کا اہتمام کریں گے بلکہ آپ کے کہنے سے لوگ بازاروں میں بھی احتیاط کریں گے اور اس طرح سارے معاشرے پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
 
ان کا مزید کہنا تھا کہ بازاروں، مارکیٹوں اور شادیوں میں اجتماعات کے حوالے سے حکومت اپیل کرتے ہوئے کوشش کررہی ہے اور آپ پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ معاشرے کے ہر فرد تک اس بات کو پہنچایا جائے۔
 
پاکستان کے صدر نے کہا کہ جو ایس او پیز آپ نے 17 اپریل کو طے کیے تھے، ان کا علما نے دوبارہ اعادہ کیا ہے اور ہاتھ دھونے، ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ صفیں بناتے ہوئے اس میں بھی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔
 
سردیوں میں مساجد میں قالین کے استعمال کے حوالے انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی برائے صحت نے کہا ہے کہ بہتر ہے کہ قالین نہ ہوں لیکن اگر رکھنے ہیں تو یہ قالین اسپرے کر کے رکھے جائیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا کہ وہ اپنے ساتھ رومال رکھتے ہیں تاکہ اسے سجدے کی جگہ پر رکھا جا سکے۔
 
اس موقع پر ڈاکٹر عارف علوی نے اس معاملے پر سیاستدانوں کے اتفاق رائے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ علما مساجد سے احتیاط کی تجاویز دے رہے ہوں اور سیاست میں جلسے جلوس اسی انداز سے چلتے رہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ علما نے سیاستدانوں اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ جلسے جلوسوں کو کچھ عرصے کے لیے موخر کردیا جائے تاکہ کم از کم اس وبا کا مقابلہ کر لیا جائے، اس کے بعد اپنے جمہوری حقوق پر واپس آیا جا سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر عارف علوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں علما کو میڈیا کا کردار بھی کم ہوتا ہوا محسوس ہوا ہے اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ بھی لوگوں کو اس حوالے سے یاد دہانی کرائے تاکہ اس وبا کا مقابلہ کیا جا سکے۔
 
انہوں نے کہا کہ دعا، عبادات، احتیاط اور غریبوں کا خیال رکھنے کے کامبی نیشن کی بدولت پاکستان نے پہلی لہر کا مقابلہ کیا اور اسی کی بدولت ہم آگے بھی اس کا مقابلہ کریں گے۔
 
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر جاری ہے اور ہر گرزتے دن کے ساتھ کبھی اموات تو کبھی کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
 
اگرچہ حکام کی جانب سے دوسری لہر کے پیش نظر تعلیمی اداروں کی بندش سمیت مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم کورونا وائرس سے متعلق حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزیاں نظر آرہی ہیں۔
 
ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 6ہزار 810 ہے جس میں سے 3 لاکھ 46 ہزار 951 صحتیاب ہوچکے ہیں جو 85 فیصد سے زائد ہے جبکہ 8 ہزار 205 مریضوں کا انتقال ہوا ہے۔
 
خیال رہے کہ ملک میں اس عالمی وبا کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا تھا جو جون میں عروج پر پہنچ گیا تاہم جولائی سے کیسز میں کمی نظر آئی اور ستمبر تک بہتری کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
 
اکتوبر اور خاص طور پر نومبر میں وبا کی شدت میں دوبارہ تیزی آگئی تھی اور حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کے علاوہ متعدد پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcfjjdj0w6dcja.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس