تاریخ شائع کریں2020 2 December گھنٹہ 13:27
خبر کا کوڈ : 484316

پاکستان: سابق وزیراعظم کو دو ریفرنسز میں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کرلیا
پاکستان: سابق وزیراعظم کو دو ریفرنسز میں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اس حوالے سے عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ہیں کہ اشتہاری قرار دینے سے متعلق مختصر فیصلہ کچھ دیر میں جاری کریں گے۔

وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت کی۔

اس دوران دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان نے عدالت میں بیان قلمبند کروایا اور سب سے پہلے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے گواہ سے سچ بات کرنے کا حلف لیا۔

دوران سماعت ڈائریکٹر یورپ دفتر خارجہ مبشر خان نے کچھ دستاویزات پیش کیں جنہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔

مبشر خان نے بتایا کہ میں نے اس عدالت سے جاری نواز شریف کے اشتہارات موصول کیے، جس کے بعد میں نے اشتہارات دفتر خارجہ سے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھیجے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے 9 نومبر کو دفتر خارجہ کو جواب دیا، رائل میل کے ذریعے نواز شریف کو اشتہارات کی تعمیل کے حوالے سے بتایا گیا۔

مبشر خان کا کہنا تھا کہ 30 نومبر کو رائل میل کے ذریعے اشتہارات کی تعمیل کی تصدیق شدہ کاپی موصول ہوئی۔

اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ روزنامہ جنگ لندن کو خط لکھا گیا، نواز شریف کی طلبی کے اشتہارات تمام اخبارات میں انگریزی میں شائع ہوئے۔

مبشر خان کا بیان مکمل ہونے کے بعد ایف آئی اے کے افسر اعجاز احمد کا بیان قلمبند ہونا شروع ہوا اور انہوں نے بتایا کہ میری سربراہی میں ایف آئی اے پنجاب کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔

اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اشتہارات کی جاتی امرا اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں تعمیل کرائی، ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف کے گھر گئے تو وہاں سیکیورٹی اسٹاف موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے اشتہارات سے متعلق سیکیورٹی اسٹاف کو آگاہ کیا گیا اور بلند آواز میں پکارا گیا، اسی روز ٹیم نواز شریف کے جاتی امرا والے گھر بھی پہنچی اور وہی کارروائی دہرائی۔

بیان قلمبند کرواتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے ٹیم نے کارروائی کے دوران تصاویر بھی بنائیں جو ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdcfyjdjvw6dcma.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس