تاریخ شائع کریں2020 1 December گھنٹہ 19:58
خبر کا کوڈ : 484216

اقوام متحدہ شہید فخری زادہ کے قتل کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے دفاعی و ایٹمی سائنسداں شہید محسن فخری زادہ کے قتل کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے
اقوام متحدہ شہید فخری زادہ کے قتل کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے
ایران نے جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی و دفاعی سائنسداں کے قتل کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے۔

فارس نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکواٹر  ویانا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے کاظم غریب آبادی نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی سے مطالبہ کیا کہ وہ سب سے پہلے ایران کے دفاعی و ایٹمی سائنسداں شہید محسن فخری زادہ کے قتل کے حوالے سے اپنا موقف واضح اور اسکی شدید مذمت کرے۔

انہوں نے یہ بات رافائل گروسی کے اُس بیان کے جواب میں کہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایجنسی کی نگرانی کم کرنے سے کسی فریق منجملہ ایران کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

ایران کے نمائندے نے کہا کہ ایک ایسا ملک جوعالمی ایجنسی کی سب سے زیادہ نگرانیوں کو تسلیم کئے ہوئے ہو، جو جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے تمام وعدوں پرعمل پیرا ہواور جس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پرصاف و شفاف ہوں، ایسے ملک کے ایٹمی مراکز کو اگر نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہو یا اس کے سائنسدانوں کو اگر خطرات لاحق ہوں، انہیں مارنے کی کوشش کی جاتی ہو تو ایسے ملک کے سلسلے میں آئی اے ای اے پر فوری، خاص اور بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایران کی پارلیمنٹ نے ایک اسٹریٹیجک قرار داد منظور کی ہے جس کے تحت ایران یورپی وعدہ خلافیوں کے جاری رہنے کی صورت میں آئی اے ای اے کے ایڈیشنل پروٹوکول سے مکمل طور پر دستبردار ہو سکتا ہے۔ ایران کے اس اقدام پر آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا تھا کہ اس اقدام سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور انہوں نے ڈاکٹر فخری زادہ کے قتل پر صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ ایجنسی ہر قسم کی انتہا پسندی سے اظہار بیزاری کرتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے ممتاز دفاعی و ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر محسن فخزی زادہ، جمعے کو ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیئے گئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک منجملہ روس، شام، سوئیڈن، ونزویلا، جنوبی افریقہ، ترکی قطر، کویت، لبنان، اردن، افغانستان اور پاکستان نے اس دہشتگردانہ اقدام کی مذمت کی ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdceze8epjh8vwi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس