تاریخ شائع کریں2020 2 November گھنٹہ 18:31
خبر کا کوڈ : 480846

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام تر انسانی اقدار کی تجلی گاہ ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے ھفتہ وحدت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور انکے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دو ولادتوں کا ایک دن ہونا حادثاتی نہیں ہے، ایک ایسا مولود دنیا میں آیا جس کی ولادت سے قیصر و کسریٰ کی دیواریں ہل گئیں اور یہ حادثات نہیں تھا، یہ قرینہ تکوین میں ہے جو بامعنیٰ ہے اور سالوں بعد اسی تاریخ کو ایک اور مولود اس دنیا میں تشریف لایا ہے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام تر انسانی اقدار کی تجلی گاہ ہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام تر انسانی اقدار کی جلوہ گاہ ہیں اور جو دین وہ بشریت کے لئے لے کر آئے وہ موجودہ دور میں انسان کی زندگی کے تمام تر زاویوں کی مدیریت کرسکتا ہے۔

عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے زیر اہتمام گذشتہ چار دنوں سے جاری عالمی وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب کا آغاز ہوچکا ہے۔

تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس سال چونتیسویں سالانہ بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کا کورونای جیسی موذی بیماری اور وبا کی وجہ سے آنلائن اہتمام کیا گیا ہے جس کا iuc.taqrib.ir/live سمیت سوشل میڈیا پر باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔

اس اختتامی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے چیف جسٹس آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے ھفتہ وحدت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور انکے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دو ولادتوں کا ایک دن ہونا حادثاتی نہیں ہے، ایک ایسا مولود دنیا میں آیا جس کی ولادت سے قیصر و کسریٰ کی دیواریں ہل گئیں اور یہ حادثات نہیں تھا، یہ قرینہ تکوین میں ہے جو بامعنیٰ ہے اور سالوں بعد اسی تاریخ کو ایک اور مولود اس دنیا میں تشریف لایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تکوین کا اہم ترین پیغام یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو امام صادق علیہ السلام معاشرے کے لئے بیان کریں گے اور اسکا قرینہ یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ وہ راستہ ہے جسے طریق حق کے سالک کو گم نہیں کرنا چاہئے۔

آیت اللہ رئیسی نے مزید کہا کہ موجودہ دور کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت بہترین نمونہ عمل ہے۔ اگر انکی شخصیت کی پہچان ہوگئی تو انسانیت نجات ھاصل کرسکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کہ اسلامی وحدت کے سلسلے میں خلاقانہ اقدامات انجام دیئے جانے چاہئیں اور کوشش کی جانی چاہئے کہ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ اندیشوروں اور صاحب نظر شخصیات سے استفادہ کیا جائے۔

آیت اللہ رئیسی نے مزید کہا کہ عالمی استکبار، امریکہ اور صہیونیت اپنے تھنک ٹینکس میں اسلام کی قدرت و طاقت کا بغور مطالعہ کررہے ہیں اور اس سے مقابلے کے لئے مختلف طریقوں سے اقدامات کررہے ہیں جو خود بھی مختلف سلسلوں سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے ان سلسلوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلے اسلامی ممالک میں تسلط پسند نظام، تکفیری گروہ، مسلح گروہوں، اسلام کی مقدس شخصیات اور مقدس مقامات کی توہین، اور میڈیا یعنی مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسلمان بیدار ہوجائیں تو کئی بھی طاقت بیداری کی اس تحریک کا راستہ نہیں وک سکتی، یہ بیداری ہمیشہ موجود رہے گی، ہوسکتا ہے کہ نت نئی حکومت اور افراد کو بر سر اقتدار لایا جائے لیکن بیداری کی تحریک کو روکا نہیں جاسکتا۔

آیت اللہ رئیسی نے کہا کہ اس بیداری کا مشاہدہ فلسطین میں کیا جاسکتا ہے جہاں کل تک سازشی مذاکرات کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں لیکن آج یہ موضوع مجاہدین کے ہاتھوں میں ہے اور یہی عمل فلسطین کے مستقبل کو تشکیل دے گا۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcjxyexmuqeooz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس