تاریخ شائع کریں۹ آبان ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۱:۴۷
خبر کا کوڈ : 480488

وحدت کانفرنس میں پاکستانی مہمانوں کے لئے ویبینار کا اہتمام

چونتیسویں سالانہ بین الاقومی وحدت اسلامی کانفرنس میں دوسرے روز " درپیش چلینجز اور مشکلات سے نمٹنے کے لئے عالم اسلام کی اسٹریٹجیک توانائیاں " کے عنوان سے پاکستان کے مہمانوں پر مشتمل ویبینار کا اہتمام کیا گیا
وحدت کانفرنس میں پاکستانی مہمانوں کے لئے ویبینار کا اہتمام
چونتیسویں سالانہ بین الاقومی وحدت اسلامی کانفرنس میں دوسرے روز " درپیش چلینجز اور مشکلات سے نمٹنے کے لئے عالم اسلام کی اسٹریٹجیک توانائیاں " کے عنوان سے پاکستان کے مہمانوں پر مشتمل ویبینار کا اہتمام کیا گیا۔  
 
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس سال چونتیسویں سالانہ بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کا کورونای جیسی موذی بیماری اور وبا کی وجہ سے آنلائن اہتمام کیا گیا ہے جس کا iuc.taqrib.ir/live سمیت سوشل میڈیا پر باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔
 
اس ویبینار سے گفتگو کرتے ہوئے امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگر ہم تھوڑی سی توجہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ موجودہ اقتصادی محاصرہ شعب ابی طالب کے محاصرے جیسا ہے۔ لیکن یہ کہنا چاہئے کہ ثقافتی، فکری، روحانی اور سیاسی فقر اقتصادی فقر سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بندگی اور غلامی کی ذہنیت رکھتے ہیں اور آج استعماری طاقتوں کے دست بستہ غلام ہیں وہ مادی لحاظ سے شاید رفاہ حاصل کرچکے ہوں لیکن فکری اور اخروی روحانیت کے لحاظ سے بدترین فقر کا شکار ہیں۔

انہوں نے  مزید کہا کہ عالم اسلام کو ایک دوسرے سے تعاون کرکے اپنے مذہبی، فکری اور اسلامی مواقف کا دفاع کرنا چاہئے تاکہ ہم ایک دوسرے کی مدد سے مشکلات پر حاوی ہوسکیں اور استعمار اور عالمی طاقتوں کو شکست دے سکیں۔
 
اس ویبینار سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام شفقت حسین شیرازی نے کہا سب سے پہلے جس چیز کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوگوں کو بلانا ہے، لوگوں کو اللہ پر ایمان کی دعوت دینا ہے، لوگوں کو یہ چیز باور کرانا ہے کہ اس کائنات کے اندر اگر کوئی قدرتمند اور طاقتور ذات ہے کہ جو انسانیت کو کسی بھی مصیبت سے بچا سکتی ہے وہ فقط و فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، انسانیت دنیا کی رعنائیوں میں خدا سے دور ہوچکی تھی تو یہ ایک فرصت ہے، اُس کے لئے موقع ہے کہ لوگ توبہ و استغفار کریں، لوگ اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور لوگوں کو اس کی رحمت کی طرف دعوت دینا، اُس کی مغفرت کے لئے دعوت دینا ، اور اس طرح کی چیزوں کا بندوبست کرنا ہمارے دینی اداروں کا، ہمارے علماء کا وظیفہ بنتا ہے۔ اسی انداز سے دوسرا اہم وظیفہ جو ہمارے علماء نے ادا بھی کیا ہے اور جو ہمیں ادا کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور علم طب کے ماہرین اور متخصصین کے جو اصول انھوں نے بتائے ہیں اس مرض سے ، اس وباء سے مقابلہ کرنے کے لئے اور جو انھوں نے قواعد و ضوابط بتائے ہیں کہ ہم کن طریقوں کے ذریعہ اس مرض کے انتشار کو روک سکتے ہیں ، اس کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، اس سے نجات حاصل کرسکتے ہیں، ہمیں اس کی ترویج کے حوالے سے ہمیں اُن طبی ماہرین کا ، ہمیں اُن عالمی صحت کے اداروں کی حمایت اور سپورٹ کرنا چاہیے، یہ دینی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔

تیسری بات، ہمیں لوگوں کے اندر اُس کی اخلاقی اقدار کو اُجاگر کرنے کے لئے اپنا روحانی فریضہ ادا کرنا چاہیے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تعلیمات اور قرآن کی تعلیمات اور انبیاء علیہم السلام کی سیرت کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کے اندر جذبہ فداکاری، انسانیت کی خدمت، انسانیت کی مصیبت میں مدد، مستضعفین اور مظلومین کی مدد، محتاج، نادار اور فقراء کی مدد اور اس وقت جو انسانیت مختلف قسم کے مسائل کے اندر مبتلاء ہوچکی ہے اس کے حوالے سے ہمیں لوگوں کے اندر جذبہ اخوت و ایثار اور انسانی اقدار کو اُجاگر کرنے کے حوالے سے اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے، اس سلسلے میں اس وقت کیونکہ دنیا کے اندر ایمرجنسی صورت حال ہے اور اس ناگہانی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے، اس وقت اس قسم کے فلاحی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ جو اس کرونا  وائرس کے پھیلاؤ کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اور جو بحران پیدا ہوئے ہیں اُن بحرانوں کے اندر انسانوں کی مدد کرسکیں، اُن کی مصیبتوں اور مشکلات کو کم کرسکیں، اسی انداز سے ہمیں ایسے ادارے بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ادارے جو  مختلف عالمی پالیسیز ہیں یا خطہ میں یا اپنے ملک کے اندر حکومت کی طرف سے اس کی تدابیر اور پالیسیاں بنائی  جاتی ہیں اور ان تمام تر پیغامات کو متعدد اور مختلف ذرائع کے ذریعہ گراس روٹ لیول تک، پبلک تک اُن تعلیمات کو پہنچانے کے حوالے سے بھی ہمیں کردار ادا کرنا چاہیے۔
 
ویبینار سے گفتگو کرتے ہوئے معروف دانشور اور کراچی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے کہا کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر مسلمان ملک تیسری دنیا کی کیٹگری میں آتے ہیں ، جہاں بنیادی وسائل کی انتہائی کمی ہے ، غربت ہے، جہالت ہے، بیماری ہے، بے روزگاری ہے، ایسے عالم میں جب یہ کرونا کا وائرس آیا تو ہم دیکھتے ہیں بہت سے مسلمان ممالک اس  سے بری طرح متاثر ہوئے اور اُن کے اندر صحت کی وہ سہولیات دستیاب نہیں ہیں کہ جن سے وہ نبرد آزما ہوسکتے اس موذی مرض سے۔

ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اسلام کے درمیان ایک ایسا رابطہ ہو، ایک ایسا سلسلہ ہو  کہ جس سے مسلمان ممالک ایک دوسرے کی مدد کریں، جہاں دیگر شعبوں کے اندر تعاون کی سخت ضرورت ہے وہیں صحت کے شعبے میں بھی تعاون کی سخت ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا گو کہ بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا نہ بیماری کسی سے پوچھ کر آتی ہے لیکن تعاون کی بات ہو رہی ہے جہاں دنیا کے اور بات سارے کورم موجود ہیں۔ جہاں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
تو مسلمان ممالک  کا جو کورم ہے وہاں پر مسلمان ملکوں کو بھی چاہیے کہ دیگر شعبوں کی طرح تعلیم ہے، ثقافت ہے، سیاست ہے، وہی پر صحت کے شعبے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

ایک اور پہلو جس کی توجہ ہماری طرف بہت کم ہے وہ یہ کہ میڈیکل سائنس میں دنیا بہت ایڈوانس ہوتی جا رہی ہے حالانکہ ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمان تہذیب و تمدن کی دوڑ میں سب سے آگے تھے اور مسلمان دنیا کے لوگوں کو بیماریوں کا علاج اور ہائی جینک لیونگ اور اُس کے خواص ، یہ سب چیزیں بتایا کرتے تھے۔

ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے کہا بڑے بڑے مسلمان سائنسدان گزرے ہیں، بڑے بڑے مسلمان طبیب گزرے ہیں، جن کی کتابیں بعد ازاں یورپ میں پڑھائی گئیں، امریکا میں پڑھائی گئیں، اور اُن سے پڑھ کر یورپ کی قومیں، امریکا کی قومیں آگے بڑھیں۔

لیکن ہوا یہ کہ تہذیب و تمدن کی اس دوڑ میں مسلمان قومیں پیچھے رہ گئیں اور مغرب جو ہے وہ آگے نکل گیا۔
انہوں نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں جہاں اور چیزیں متاثر ہوئیں وہیں طب کے شعبہ میں تحقیق بھی متاثر ہوئی تو ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان طب کے شعبہ میں کام کریں۔

میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کے جو نوبل انعامات ہیں جو طب کے شعبہ میں دیئے گئے وہ مسلمان ملکوں کے سائنس دانوں کو نہیں مل پا رہے گو کہ نوبل کوئی معیار نہیں ہے لیکن کم سے کم اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ جو ممالک طب کے شعبے میں کام کر رہے ہیں  اور کوئی کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں مثلاً اسی سال جو نوبل پرائز دیا گیا وہ ہیپاٹائٹس سی کے علاج کو دریافت کرنے والے کو دیا گیا۔

اس ویبینار میں کوئٹہ کے معروف شیعہ عالم دین علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ اگر ہم مسلمان اتحاد و اتفاق کے ساتھ اسلام کا حقیقی پیغام مغربی دنیا تک پہنچا سکیں تو یہ ایک بہترین کام ہوگا۔ اور حضرت محمد مصطفی ص بھی ہم سے راضی ہوں گے۔ دشمن ہمارے ہاتھ کاٹنے کے درپے ہے، فرعی اختلافات کو اتنا زیادہ بڑھاوا مت دیں کہ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔

قابل ذکر ہے کہ اس ویبینار میں معروف اھل سنت محقق عمر ریاض عباس، پروفیسر شایستہ تبسم، امام جمعہ مسجد ولیعصر کوئٹہ حجت الاسلام عارف قزلباش سمیت دیگر مقررین نے بھی گفتگو کی۔
http://www.taghribnews.com/vdcbwgbawrhbwap.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس