تاریخ شائع کریں۶ آبان ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۱۲
خبر کا کوڈ : 480082

پاکستان قومی اسمبلی نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی،

پاکستان کی قومی اسمبلی نے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی جس میں فرانس سے سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان قومی اسمبلی نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی،
پاکستانی میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔ قراداد منظور ہونے کے ساتھ ہی ایوان نعرۂ تکبیر کے نعرے سے گونج اٹھا۔ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی الگ الگ قراردادوں کو مجتمع کرکے متفقہ قرارداد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی جس پر حکومت و اپوزیشن وزراء، پارلیمانی لیڈروں اور ارکان کے دستخط موجود تھے۔ 

قرارداد میں  کہا گیا کہ ہم او آئی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گستاخانہ خاکوں کا نوٹس لے کر اقدامات کرے، یہ ایوان او آئی سی ممالک سے فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتا ہے، یہ ایوان او آئی سی اور نان او آئی سی ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی توہین کو روکنے کے لیے قانون سازی کریں۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ اپوزیشن فرانس کے میگزین میں شائع خاکوں کی مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ فرانس سے اپنا سفیر واپس بلایا جائے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر یک زبان ہونے کی ضرورت ہے۔ 

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا کہ یہ ایوان اور حکومت پاکستان فرانس میں ہونے والی گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، گستاخانہ خاکوں سے امت مسلمہ سمیت پاکستانی عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے بنابریں حکومت فی الفور فرانس میں متعین سفیر کو واپس بلائے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر اعتراض کرتے ہوئے فرانسیسی سفیر کو دفترخارجہ میں طلب کیا۔ 

یاد رہے کہ رواں ماہ میں فرانس کے ایک اسکول کے ٹیچر نے آزادئ اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو میں سن 2006 میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔ اس میگزین کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبدو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔
http://www.taghribnews.com/vdcbwgba5rhbwgp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس